بند کریں
صحت مضامینمضامینسحر و افطار میں احتیاطی تدابیر

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سحر و افطار میں احتیاطی تدابیر
مسلمان جوش و خروش سے ماہ صیام کی نعمتوں سے لطف اندوز ہورہا ہیں۔ یہ رحمتوں ،بر کتوں ،مغفرتوں کے بابرکت مہینہ کا فیضان ہے کہ سال بھر جو چیزیں ہم ایک دستر خوان پر بیٹھ کر نہیں کھا سکتے۔
ریما نور رضوان:
مسلمان جوش و خروش سے ماہ صیام کی نعمتوں سے لطف اندوز ہورہا ہیں۔ یہ رحمتوں ،بر کتوں ،مغفرتوں کے بابرکت مہینہ کا فیضان ہے کہ سال بھر جو چیزیں ہم ایک دستر خوان پر بیٹھ کر نہیں کھا سکتے ،وہ اس ماہ کی برکت سے سب ایک جگہ میسر ہوجاتا ہے۔ ہر مسلمان اس ماہ کی نعمتوں،بر کتوں اور نیکیوں سے فیضیاب ہو نے کے لئے خصوصی اہتمام کر تا ہے۔ رمضان کریم کی آمد کچھ سال سے گرمی میں ہو رہی ہے ،تو ضروری ہے ہم اپنے کھانے پینے میں احتیاط بر تیں ۔تیز نمک ،مرچ ،بازاری اشیاء ،چٹ پٹے پکوان ،،رول ،سموسے ،پکوڑے ،کچوریاں یہ سب تیل میں تلی ہوئی اشیاء پہلے ہی نقصان دہ ہیں اور روزے میں ،حالت روزہ میں میں مزید نقصان پہنچاتی ہیں ۔ہمارے گھروں میں سحری میں پراٹھے کھانے کا رواج ہے ،جبکہ پراٹھ کی جگہ چپاتی بہترین ہے ،کوئی شوربے والا سالن ہو ،بھنے ہو ئے کھانے پیٹ خراب کر تے ہیں ۔گیس ،قبض ان سب سے بچنا ہے تو سالن شوربے والا کھائیں ۔سحری کے اختتام پر ایک چھوٹی پیالی دہی میں ایک چٹکی پسی ہو ئی سبز الائچی ڈال کر مکس کر لیں ،حسب ذائقہ چینی بھی ملا لیں اور کھالیں ،انشاء اللہ پورا دن پیاس کا احساس تک نہیں ہو گا اور روزے میں آپکا مزاج ہشاش بشاش رہے گا ۔افطار میں کھجور کھا کر فورا پانی یا شربت نہ پیئں ۔پورا دن بھی تو صبر و شکر سے گزارتے ہیں نا تو افطار کے ٹائم بھی غذاؤں میں احتیاط برتیں ۔تربوز میں وافر مقدار میں پانی پایا جاتا ہے ،تر بوز کھائیں ،گرما بھی اپنی مٹھاس کی وجہ سے فرحت بخش احساس دلاتا ہے ،افطار میں دستر خوان پر ان فروٹ کا خاص اہتمام کریں ،جن کے کھانے سے پانی کی کمی پوری ہو سکتی ہے ۔پھل افطار سے آدھا گھنٹہ قبل کاٹ کر فریذر میں رکھ دیں ۔ٹھنڈے ٹھنڈے پھل افطار میں پہترین لگتے ہیں ۔تلی ہو ئی اشیاء گھر میں کم ہی بنائیں کم پکوڑے بنائے بس منہ کا ذائقہ بدل جائے ،پیٹ بھر کے نہ کھائیں ۔پکوڑے یا باہر کی تلی ہوئی اشیاء سے تو مکمل طور پر اجتناب کریں ۔گرمی کے روزے میں پھل اور مشروب کا خوب استعمال کریں ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے