Tambako Noshi Tark Karne Ke Behtareen Tariqe - Article No. 2123

تمباکو نوشی ترک کرنے کے بہترین طریقے - تحریر نمبر 2123

پیر اپریل

Tambako Noshi Tark Karne Ke Behtareen Tariqe - Article No. 2123
پروفیسر ڈاکٹر سید اسلم
تمباکو نوشی ترک کرنے کے فوائد سے اکثر لوگ واقف ہیں اور یہ زیادہ دُور رس اور ہمہ گیر ہیں۔تمباکو ترک کرنے کے 5 برس بعد پھیپھڑے کے سرطان کا احتمال 60 فیصد کم ہو جاتا ہے اور 15 برس بعد سگریٹ پینے والوں اور سگریٹ نہ پینے والوں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔اسے ترک کرنے کے صرف ایک برس بعد حملہ قلب کا امکان 50 فیصد گھٹ جاتا ہے اور 10 برس بعد سگریٹ پینے والوں اور سگریٹ نہ پینے والوں میں اس ضمن میں کوئی فرق نہیں رہتا۔


تمباکو کس طرح ترک کی جائے؟
تمباکو کی خرابی پر ہزارہا صفحات لکھے گئے ہیں،مگر یہ اس سے بھی زیادہ خراب ہے،جس قدر خراب یہ سمجھی جاتی ہے۔دراصل یہ ”آہستہ حرکت خودکشی“ ہے۔ہر چند کہ تمباکو ترک کرنے کے کئی طریقے اور ماہرانہ تدبیریں و ترکیبیں ہیں،مگر کامیابی کی کلید صرف عزم بالجزم اور سعی مسلسل ہے،کوئی جادوئی ٹوٹکا اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتا۔

(جاری ہے)

صرف اسے ترک کرنے کا ارادہ اور فیصلہ کریں،پھر اسے ترک کر دیں۔اسے ترک کرنے کے لئے کوئی خاص دن مقرر کر لیں یعنی سال گرہ،عید،بقر عید،شب برات،آغاز رمضان یا کوئی قومی تہوار۔یہ ایسا زمانہ نہیں ہونا چاہیے،جب آپ پریشان و فکر مند ہوں۔اگر آپ کام کے دوران بہ کثرت تمباکو پیتے یا کھاتے ہیں تو رخصت کے زمانے میں اسے ترک کریں۔تمباکو ترک کرنے میں اپنے ساتھ اپنی شریک زندگی یا اپنے دوست کو بھی شریک کر لیں اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں۔

جب تمباکو کی خواہش ہو تو ایک دوسرے سے بات چیت کریں۔اپنے دوست سے شرط رکھ لیں کہ مقررہ دن سے آپ تمباکو ترک کر دیں گے اور خود کو غیر تمباکو نوش تصور کرنا شروع کر دیں۔اگر چند احباب مل کر تمباکو ترک کر دیں تو حوصلہ افزا سہارے اور باہمی روابط استوار ہوتے ہیں۔اس طرح صحیح رفاقتوں سے جذباتی قربت اور قوت اندمال حاصل ہوتی ہے اور تمباکو سے چھٹکارا ملنے میں مدد ملتی ہے۔


تمباکو کے نقصانات کی بابت معلوم کریں اور یہ معلوم کریں کہ دوسرے لوگوں نے تمباکو کس طرح ترک کی ہے۔پرانے تمباکو پینے والوں سے پوچھیں کہ انھوں نے اسے ترک کرنے کے لئے کیا تدابیر اختیار کی تھیں۔تمباکو ترک کرنے کے لئے جو دن مقرر کریں،اس دن خود سے کہیں کہ آج تمباکو نہیں پییں گے اور پھر نہ پییں۔جس دن تمباکو ترک کریں،اس دن تمام سگرٹیں اور ماچسیں پھینک دیں۔

جس روز تمباکو ترک کریں،اس روز دانتوں کی خوب اچھی طرح صفائی کریں۔خود کو نہایت مشغول رکھیں یعنی چہل قدمی،سائیکل سواری،سیر،سنیما بینی یا دوسری مصروفیات جو با معنی اور اطمینان بخش ہوں ،اختیار کریں۔اس دوران کیفین والے مشروبات(چائے،کافی،کولا) سے بھی احتراز کریں ،اس لئے کہ ان سے تمباکو کی خواہش تیز ہوتی ہے۔اس دوران اسلوب زندگی میں صحت افزا تبدیلیاں(سادہ غذا،ورزش اور رفع کرب کے طریقے)بھی اپنائیں۔


رفیق حیات،احباب،رفیقان کار اور دیگر اہل خانہ سے التماس کریں کہ تمباکو ترک کرنے میں آپ کی مدد کریں۔انھیں خبردار کر دیں کہ اس دوران خصوصاً تمباکو ترک کرنے کے اولین چند ہفتوں میں آپ چڑچڑے،تنک مزاج اور نک چڑھے ہو جائیں گے۔اپنی بد مزاجی کے لئے ان سے معذرت کر لیں اور کچھ دنوں کے لئے مہلت لے لیں۔
اس ضمن میں دوستوں کو چاہیے کہ حوصلہ افزا رویہ رکھیں،فیصلے صادر نہ کریں اور ہر گز آپ کی حوصلہ شکنی نہ کریں۔

سگریٹ پینے والے دوستوں کو چاہیے کہ وہ آپ کے پاس بیٹھ کر سگریٹ نہ پییں اور نہ آپ کی سگریٹوں سے تواضع کریں اور آپ جو مساعی اس ضمن میں کر رہے ہیں، اس کی نا قدرتی نہ کریں۔تمباکو ترک کرنے کی بابت آپ اپنے مذہبی حلقے اور احباب کو بھی مطلع کر دیں اور ان سے اعانت کی درخواست کریں۔
ابتدا صرف ایک مقام پر سگریٹ نوشی کریں۔جس ہاتھ سے سگریٹ نہیں پیتے،صرف اس ہاتھ میں سگریٹ پکڑیں۔

سگریٹ ختم ہونے سے قبل دوسری سگریٹ کی ڈبیا نہ خریدیں۔آج ایک سگریٹ کم اور کل دو سگریٹ کم کریں اور اسی طرح سگریٹوں کی تعداد کم کرتے جائیں۔ تمباکو ترک کرنے کی خوشی میں آپ خود اپنی ضیافت کریں اور انعام دیں۔ضیافت میں اپنی شریک حیات یا قریبی دوست کو شریک کرکے ان سے داد لیں۔اس روز اپنے گھر،قالین اور کپڑوں کی صفائی یا دھلائی کریں۔اگر ہاتھوں میں سگریٹوں کی کمی محسوس ہو تو انگلیوں سے کسی اور شے سے کھیلیں،مثلاً تسبیح کے دانے یا پنسل وغیرہ۔

تمباکو کی خواہش پر ایک قطرہ روغن لونگ زبان پر ٹپکائیں۔اُن اوقات کی فہرست بنا لیں، جن میں سگریٹ نوشی کا تقاضا بڑھ جاتا ہے،مثلاً چائے یا کافی کی پیالی کے ساتھ سگریٹ کی خواہش،کھانے کے بعد اور سویرے اٹھنے پر۔ ان اوقات میں ٹھنڈے پانی کا گلاس پییں اور مسواک کریں۔اگر کھانا نہیں کھایا ہے تو تیز قدمی کریں۔نیم گرم پانی سے غسل کریں۔ سگریٹ نوشی کے نقصانات اور فوائد کی ذہن میں گردان کریں۔

اکثر سگریٹ نوشی کی یہ خواہش وقتی(دو تین منٹ) ہوتی ہے۔
تمباکو نوشی کی شدید خواہش میں گہرے گہرے سانس،مراقبہ،نیم گرم پانی کا غسل،جسم کی مالش،باہر کی چہل قدمی،گاڑی کی صفائی، موسیقی اور اچھی طرح آرام،سب مفید ہیں۔چند پرچیوں پر علاحدہ علاحدہ تمباکو ترک کرنے کے اسباب درج کر لیں۔جب بھی تمباکو پینے کی خواہش ستائے تو ان پر نظر ڈال لیں۔

رات کو سونے سے پہلے بھی انھیں دہرائیں۔اپنے پاس پھل اور کچی کھانے والی ترکاریاں خوب اچھی طرح دھو کر رکھ لیں،مثلاً گاجر،مولی،کھیرا،ٹماٹر یا سلاد وغیرہ۔جب تمباکو کی خواہش ہو تو ان کی جگالی کر لیں۔دن میں بحالی مزاج کے لئے، خصوصاً تمباکو ترک کرنے کے چند روز بعد پانی اور پھلوں کا رس پیتے رہیں۔
جب تمباکو ترک کیے ہوئے ایک ہفتہ گزر جائے تو یہ اندازہ لگائیں کہ آپ کی صحت کس قدر بہتر ہو رہی ہے اور آپ کس قدر اچھا محسوس کر رہے ہیں۔

تمباکو ترک کرنے کے ابتدائی دنوں میں ایسی محفلوں میں ہر گز نہ جائیں،جہاں تمباکو نوشی اور شراب نوشی کے دور چلتے ہوں۔ ہوائی جہاز اور ریستوراں میں ان گوشوں میں نشست رکھیں،جو سگریٹ نہ پینے والوں کے لئے مخصوص ہوتی ہیں۔اس دوران بار بار رخصت پر گھر سے باہر جا کر لطف اندوز ہوں۔جب آپ کو تمباکو ترک کیے ہوئے چھ ماہ گزر چکے ہوں تو دوسروں کی بھی تمباکو ترک کرنے میں مدد کریں۔


جب بھی تمباکو نوشی کرنے پر مجبور ہو جائیں تو اس وقت کی اپنی کیفیات اور محسوسات کو ضرور تحریر کریں۔مکرر تمباکو نوشی کو اپنی کمزوری نہ سمجھیں ۔کامیابی کی راہ میں ایک دو دفعہ پھسلنے سے آدمی ناکام نہیں ہو جاتا،ناکامی تو اس بات کا نام ہے کہ آدمی کوشش ترک کر دے۔ تمباکو نوشی کرنا بھی ایک طریق عمل ہے۔پہلی دفعہ ناکام ہونے سے دل شکستہ نہیں ہونا چاہیے،بلکہ اس ایقان سے کوشش کرنا چاہیے کہ آپ ضرور کامیاب ہوں گے۔

یہ مشاہدہ کریں کہ جن حالات میں آپ سگریٹ نوشی کرتے ہیں،ان حالات سے سگریٹ نہ پینے والے کس طرح نمٹتے ہیں۔ آئینے کے سامنے پوری سگریٹ پینا بھی عجب نفرت کا احساس پیدا کرتا اور اس کی خرابیوں کی جانب متوجہ کرتا ہے۔
تمباکو ترک کرنے کے بعد جسم سے نکوٹین تیزی سے خارج ہونے لگتی ہے۔آخری سگریٹ پینے کے 12 گھنٹے بعد جسم خود اپنا اندمال شروع کر دیتا ہے۔

اندرونی کاربن مونو اوکسائیڈ اور نکوٹین جسم کے اندر تیزی سے گھٹنا شروع ہو جاتی ہے۔جیسے جیسے جسم اپنی مرمت کرتا ہے۔کچھ عرصے تک تو آدمی اچھا محسوس نہیں کرتا،کیونکہ تمباکو نوشی کی عادت ترک کرنے سے چڑچڑاپن اور بد مزاجی ہو سکتی ہے،گو یہ عارضی ہوتی ہے اور اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ جسم سے زہر خارج ہو رہا ہے۔
بہرحال یہ دور گزرنے کے بعد چند دنوں کے اندر جسم میں نمایاں تبدیلیاں محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت واپس آجاتی ہے۔تمباکو کا چسکا کم ہو جاتا ہے یا جاتا رہتا ہے۔سگریٹ کے دھویں سے دل اور پھیپھڑے کو جو ضرر ہو چکا ہے، اس کی اب مرمت ہونے لگتی ہے۔رگوں کے سکڑنے اور سدے بننے کا امکان تیزی سے گھٹنے لگتا ہے۔آدمی اپنے آپ کو زیادہ توانا اور قوت سے بھرپور محسوس کرتا ہے اور اس تمام بگاڑ،بو،اخراجات،انحصار اور بد عادات سے نجات پا لیتا ہے۔

جو تمباکو کی وجہ سے دامن گیر تھیں۔بہرحال تمباکو ترک کرنا اس قدر دشوار نہیں،جس قدر بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے۔بعض اوقات چھوٹی نیم دلانہ مساعی کی جگہ ہمہ گیر اور بڑی تبدیلیاں لانا سہل ہوتا ہے۔
یہ بات علم میں لانا ضروری ہے کہ تمباکو کھانا بھی تمباکو پینے ہی کی طرح،بلکہ اس سے بھی زیادہ مضر ہے اور اس کا سونگھنا بھی نقصان دہ ہے۔

تمباکو ترک کرنے میں مزید اعانت کے لئے ان باتوں پر عمل کریں،طبیب یا دیگر واقف حال افراد سے گفتگو کیجیے۔تمباکو کے خلاف طبی ادب کا مطالعہ کیجیے،جو مغربی زبانوں میں وافر ہے۔بعض اسپتال تمباکو ترک کرنے میں اعانت و رہنمائی کرتے ہیں،ان سے مدد لیجیے۔ محرکات ترک کرنے کے لئے معالج کی تجویز کردہ دوا کھائی جا سکتی ہے۔یہ دوا نکوٹین کی طبعی خواہش کم کرکے اسے ترک کرنے میں بھی معاون ہوتی ہے۔

اس کے کھانے سے نکوٹین وغیرہ کی شدید خواہش اور تمباکو ترک کرنے کی وجہ سے ہونے والی تکالیف کم ہو جاتی ہیں۔
مذکورہ دوا شروع کرنے کے چوتھے دن تمباکو نوشی ترک کی جائے۔ہر دوا کی طرح اس دوا کے بھی پہلوئی اثرات (Side Effects)، مثلاً غنودگی یا خشکی دہن وغیرہ ہوتے ہیں۔چند افراد میں غنودگی بہت زیادہ ہو سکتی ہے اور کچھ افراد خالی الذہن محسوس کرتے ہیں۔

غنودگی کا اثر تیسرے چوتھے دن سب سے زیادہ ہوتا ہے اور عادت پڑ جانے کے ساتھ یہ اثر بھی کم ہو جاتا ہے۔پہلوئی اثرات زیادہ ہوں تو معالج کے مشورے سے دوا کی خوراک کم کی جا سکتی ہے۔اگر فشار خون کم یا دماغ خالی خالی محسوس ہو یا سینے میں درد بڑھ جائے تو اس دوا کا کھانا ترک کر دیں۔اس دوا سے تمباکو کی طبعی خواہش تو کم ہو جائے گی،مگر یہ کوئی جادوئی علاج نہیں ہے اور نفسیاتی انحصار میں نمایاں کمی نہیں ہوتی۔ بہرحال یہ دوا تمباکو ترک کرنے میں ایک اعانت ضرور ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-04-05

Your Thoughts and Comments