Tonsels - Galle K Gadood - Article No. 1983

ٹانسلز۔گلے کے غدود - تحریر نمبر 1983

پیر اکتوبر

Tonsels - Galle K Gadood - Article No. 1983
حکیم راحت نسیم سوہدروی
جسم میں حلق کے دونوں طرف گوشت کے دو ٹکڑے لٹکے ہوئے ہیں،جنھیں ٹانسلز (TONSILS) ،یعنی لوزتین،گلے کے غدود یا گلٹیاں کہتے ہیں۔ یہ غدود بادام کے سائز کے ہوتے ہیں۔ اگر منہ کھول کر دیکھا جائے تو یہ صاف نظر آتے ہیں۔ گلے کے غدود جسم کے دربان کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ہر لمحہ ہو شیار رہتے ہیں۔ جب جسم میں جراثیم داخل ہوتے ہیں تو یہ دربان ان کا راستہ روک کر ان سے مزاحمت کرتے ہیں،لیکن جب مزاحمت کے باوجود جراثیم بار بار داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر اُن کا حملہ شدید ہوتا ہے تو مدافعتی نظام کمزور ہونے کے سبب یہ غدود خود متورم ہو جاتے ہیں اور اسی حالت کو غدود کا ورم (TONSILLITIS) کہتے ہیں۔

آج کل یہ مرض بہت عام ہے۔ یہ عموماً بچوں اور نوجوانوں کو لاحق ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

یہ ایک سے دوسرے فرد کو بھی لگ جاتا ہے۔ کمزور بچوں پر بار بار حملے کے باعث ان کے غدود متورم رہتے ہیں،جس سے ان کو کوئی چیز نگلنے اور منہ سے سانس لینے میں مشکل پیش آتی ہے۔
اس کے علاوہ طبیعت میں سستی پیدا ہو جاتی ہے،بھوک کم لگتی ہے اور آواز تبدیل ہو جاتی ہے،جس کے باعث نشوونما پر خراب اثر پڑتا ہے ۔

جدید تحقیقات کے مطابق اس مرض کا سبب ایک خاص قسم کا وائرس ہے۔ یہ مرض مستقل ورم کی شکایت اور جسم کے زہریلے مواد ،یعنی امراض کو دور کرنے والے نظام میں خرابی کے باعث ہوتا ہے،جسے لمفاوی نظام بھی کہتے ہیں۔ اس قدرتی خود کار نظام میں کسی خرابی کے باعث یہ نظام کے کمزور ہونے سے جسم کی بافتیں (TISSUES) اور خون زہر آلود ہو جاتا ہے۔ اگر سبزیاں اور پھل زیادہ کھائے جائیں تو امراض سے محفوظ رہا جا سکتا ہے ،جب کہ تیزابی اور ترش اشیا آنتوں اور بڑی آنت(قولون)میں امراض کا سبب بننے والے جراثیم کی افزائش کا سامان کرتی ہیں،جن سے ہمارے جسم کے اخراجی اعضا،مثلاً پھیپڑے اور آنتیں متاثر ہوتی ہیں،نتیجتاً لمفاوی نظام پر بوجھ بڑھ جاتاہے ۔


اسباب:
غدود کے ورم کے اسباب میں نامناسب آب و ہوا،پانی یا بارش میں بھیگنا،سردی لگنا،گرد وغبار،کھٹی،تیل والی غذاؤں کا کھانا، زیادہ سرد و گرم غذاؤں کا کھانا،شراب نوشی،مدافعتی نظام کی کمزوری اور زیادہ اونچی آواز میں بولنا شامل ہیں۔ چھوٹے بچوں میں ٹافیاں اور چیونگم زیادہ کھانے اور ان کے بعد دانت صاف نہ کرنے سے گلے کے غدود متورم ہو جاتے ہیں ۔


علامات:
گلے میں خراش پڑنا اور کھانسی کا رہنا
خفیف لرزے کے ساتھ تیز بخار کا ہونا
گلے کے غدود کا سرخ اور متورم ہو جانا
کسی کھانے کی چیز کے نگلنے میں درد ہونا
منہ سے بو آنا
ہضم کے نظام میں خرابی۔
علاج:
یہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر گلے کے غدود ورم کی وجہ سے اگر شدید دکھنے لگیں تو آپریشن کے ذریعے نکلوا دیا جاتا ہے،جو صحیح طریقہ نہیں ہے،اس لئے کہ جسم میں کوئی چیز غیر اہم نہیں ہوتی۔

اسی طرح گلے کے غدود جسم میں امراض کے خلاف موثر ہوتے ہیں،اس لئے جب تک آپریشن بہت ضروری نہ ہو جائے،ان کو نہ نکلوایا جائے۔ کالے شہتوت گلے کے امراض کے لئے بہت مفید ہیں۔ یہ گلے کی خراش اور لرزش کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ طب مشرق میں ان کالے شہتوتوں سے شربت توت سیاہ بنایا جاتا ہے۔ صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل دو دو چمچے پلانا غدود کا ورم دور کرنے کے لئے بہت مفید ہے۔ اس کے ساتھ املتاس کی پھلی سے نکلنے والا گودا نیم گرم پانی میں ڈال کر پینا اور اس کے غرارے کرنا مفیدہے۔ گلے کے غدود ابتدائی عمر میں شدید مدافعت کرتے اور پھر خون کے اجزاء بنانے اور کچھ عرصے بعد جسم میں موجود ہڈیاں کے گودے بناتے ہیں،لہٰذا ان کو جلد نکلوا کر امراض کو بڑھنے نہ دیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-10-19

Your Thoughts and Comments