Tukhum Balnga Nanny Siah Beejo Main Chupa Hai Sehat Ka Khazana - Article No. 1287

تخم بالنگا ننھے سیاہ بیجوں میں چھپاہے صحت کا خزانہ - تحریر نمبر 1287

جمعہ 30 مارچ 2018

Tukhum Balnga Nanny Siah Beejo Main Chupa Hai Sehat Ka Khazana  - Article No. 1287

نسرین شاہین
قدرت کے بنائے ہوئے موسم ہمارے لیے انمول نعمت ہیں،ان کی تبدیلی بنی نوع انسان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے،ہر موسم کا اپنا ایک الگ رنگ و ڈھنگ ہے،سردی کا موسم ہماری جسمانی نشوونما کے لیے بہترین ہے،سردی سے جسم سکڑتاہے تو ہمارے جسم کے اندرونی اعضاءکی ہوتی ہے اور ہر موسم کی مناسبت سے غذائیت سے بھرپور غذائیں قدرت نے ہمارے لیے پیدا کی ہیں جن سے ہم استفادہ کرتے ہیں۔

خزاں کا موسم پتوں کے جھڑنے کا موسم ہے،جب درخت پرانے پتوںسے صاف ہوجاتے ہیں اور نئے پتے درختوں پر تازگی کی بہار دکھاتے ہیں‘جبکہ بہار کو چمن میں ہریالی کا موسم کیا جاتا ہے،اب رہ گیا موسم گرما جس سے سب ہی پریشان ہوتے ہیں لیکن گرمی کی شدت سے ہی پھلوں میں رس پیدا ہوتا ہے تو یہ ہے موسموں کی تعریف۔

(جاری ہے)


ہر موسم کے لحاظ سے قدرت نے ہمارے لیے غذائیں بھی پیدا کردی ہیں تاکہ ہم ہر موسم سے بھرپور طریقے سے لطف اندوز ہوں اور اس کے مضر اثرات سے محفوظ رہیں۔

ہمارے ہاں سب سے طویل رہنے والا موسم گرما کا ہے جس کا خیال آتے ہی ذہن میں شدید پیاس‘پسینہ اور گھبراہٹ کی کیفیت کا تصور اُبھرتا ہے گرمی کی شدت وحدت ہر ذح روح کے لیے بظاہر اذیت کا باعث بنتی ہے مگر یہی حدت زندگی کی علامت ہے ،اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر جان دار کی سانسوں کی حدت ختم ہوجائے تو زندگی چند ثانیوں ہی میں موت کا روپ دھار لے گی زندگی کے انجن کو رواں دواں رکھنے کے لیے حدت کی اشد ضرورت ہوتی ہے اسی لیے تو خالق کائنات نے مختلف موسم بنا کر ماحولیاتی تبدیلیوں کو حیاتاتی چکر کا اہم حصہ بنایا ہے۔

موسم گر ما میں گرمی سے محفوظ رہنے کے لیے قدرت نے بہت سی ایسی نعمتیں پیدا کی ہے جن کا استعمال بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔تخم بالنگا بھی ان میں شامل ہیں جس کا استعمال ہم شاید بھول چکے ہیں۔یہ بہت مفید شے ہے جو معدے کی گرمی کو دور کرنے میں معاونت کرتی ہے،
تخم بالنگاکا پودا:تخم بالنگا کا پودا زیادہ بڑا نہیں ہوتا ہے لیکن اس کے پودے کا شمار ان پودوں میں کیا جاتا ہے جو سب سے زیادہ فیٹی ایسڈ کی مقدار رکھتے ہیں۔

تخم بالنگا کی تاثیر ٹھنڈی ہے۔یہ چھوٹے چھوٹے بیچ ہوتے ہیں جنہیں پانی میں ڈالا جائے تو یہ پھول جاتے ہیں انہیں فالودے میں ملا کر یا ٹھنڈے پانی یا دودھ میں ملا کر پیا جاتا ہے اس کا باقاعدہ استعمال جسم کی گرمی کو مارتا اور ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔انسانی صحت کے لیے چھوٹے چھوٹے بیجوں میں حدت یا گرمی سے مقابلہ کرنے کی طاقت پوشیدہ ہے۔
تخم بالنگا جسے تخم مالنگا بھی کہتے ہیں کا پودا قدرت کی طرف سے ہمارے لیے ایک نعمت عظیم ہے کہ اس میں کئی طرح کی معدنیات اور دیگر مفید اجزاءپائے جاتے ہیں،جن کی ہمارے جسم کو ضرورت ہوتی ہے اس میں شامل غذائی اجزاءجہاں گرمی کی شدت کو مارتے ہیں وہیں جسم میں ٹھنڈک بھی پیدا کرتے ہیں فالودہ بنانے میں اسے لازمی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔


تخم بالنگا کے طبی فوائد:غذائی فوائد کی طرح تخم بالنگا کے طبی فوائد بھی بے شمار ہیں۔کھانوں میں تخم بالنگا کا استعمال انہیں قوت بخش بناتا ہے کیونکہ اس میں کیلوریز کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اس لیے اس کے کھانے سے وزن نہیں بڑھتا یعنی وزن کم کرنے کے لیے یہ بہترین ہے۔تخم بالنگا جسم میں موجود انسولین کی سطح کو توازن میں رکھتا ہے کیونکہ انسولین وزن بڑھانے اور پیٹ پر چربی جمانے کی وجہ بنتا ہے۔

اس لیے اگر موٹاپے کا شکار افراد روزانہ چار چمچے یا ایک مٹھی تخم بالنگا استعمال کریں تو ان کے وزن میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔
جو افراد روزانہ تخم بالنگا کا استعمال کرتے ہیں انہیں کسی بھی قسم کی سوزش یا درد کی شکایت کم ہی ہوتی ہے کیونکہ اس میں اومیگا تھری کے فیٹی ایسڈ موجود ہیں جو جوڑوں کو مضبوط بناتے اور سوزش سے دور رکھتے ہیں اطباءکرام تو تخم بالنگا کے استعمال پر بہت زور دیتے ہیں کیونکہ یہ انسانی جسم کو آرام پہنچانے کا ذریعہ بھی بنتا ہے اس کے علاوہ تخم بالنگا میں ایک اہم جزٹریپٹوفین بھی پایا جاتا ہے جو ایک قسم کا امینو ایسڈ بھی کہلاتا ہے یہ اجزاءپرسکون نیند لانے کا سبب بنتے ہیں یوں پرسکون نیند جسم کو آرام پہنچانے کا باعث بنتی ہے جس کا مجموعی طور پر اثر اہماری صحت پر ظاہر ہوتا ہے بیشمارطبی خصوصیات کا حامل تخم بالنگا صحتمند ہاضمہ کے لیے بھی جادوئی اثر رکھتا ہے اس کااستعمال نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے کھانا جلد ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے تخم بالنگا کے دو کھانے کے چمچے ہمارے جسم میں 10 گرام تک فائبر مہیا کرتے ہیں جو کہ ہماری روزمرہ کی ضرورت کا ایک تہائی ہے اس کے علاوہ تخم بالنگا کا روزانہ استعمال معدے اور آنتوں کی صفائی کرتا ہے جس کی وجہ سے بھی ہاضمہ درست رہتا ہے۔


تخم بالنگا حسن کے لیے:
تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ تخم بالنگاہماری صحت کے ساتھ خوبصورتی کے لیے بھی اہم ہے اس میںشامل قدرتی معدنی اجزاءمثلاً تانبا آئرن زنک وغیرہ ہماری جلد اور بالوں کے لیے بہت مفید ہے تخم بالنگا کا تیل بھی حاصل کیا جاتا ہے اس کا تیل جلد میں پانی کی کمی نہیں ہونے دیتا،تخم بالنگا کا تیل خواتین کے لیے بے حد مفید ہے اس میں ایسے لیپوٹک اجزاءبھی پائے جاتے ہیں جوچہرے اور ہاتھوں پر بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔

اس کے تیل میں اینٹی اکسیڈنٹ اور پولیٹو نیوٹرینٹ کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے اس میں فلیفا ٹییونک ایسڈ موجود ہوتا ہے جو کہ ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتا ہے اور جلد پر جھڑیوں اور لائنوں کے بننے سے روکتا ہے اس طرح بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات روکنے میں مدد دیتا ہے۔
تخم بالنگامیں قدرتی طور پر آئرن موجود ہوتا ہے جو بالوں کو گھنا اور لمبا رکھنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

آئرن بالوں اور بالوں کی جڑوں اور جلد کو آکسیجن فراہم کا سبب بھی بنتا ہے آئرن کی کمی کی وجہ سے بال تیزی سے گرنے لگتے ہیں اور ان کا گھنا پن ختم ہوجاتا ہے اس لیے اپنی روزمرہ کی غذا میں تخم بالنگا کا استعمال اس لیے بھی بے ضروری ہے کہ یہ بالوں کو آئرن پہنچانے کا اہم ذریعہ ہے۔زنک بھی بالوں کے لیے بہت اہم ہے بالوں کے خلیے بنانے کے زنک کا ہماری غذا کا حصہ ہونا انتہائی ضروری ہے اس لیے ایسے کھانوں کا استعمال رکھیں جن میں زنک کی وافر مقدار پائی جاتی ہو۔

زنک نہ صرف بالوں کے خلیات تیار کرتا ہے بلکہ اس سے بالوں میں قدرتی چمک دمک اور خوبصورتی آجاتی ہے تخم بالنگا ہماری جلد اور بالوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تخم بالنگا ہماری صحت کے لیے تو مفید ہے لیکن یہ ہماری خوبصورتی کے لیے بھی ٹانک کی حیثیت رکھتا ہے

تاریخ اشاعت: 2018-03-30

Your Thoughts and Comments