Neend Ki Kami Se Honay Walay Nuqsanat

نیند کی کمی سے ہونے والے نقصانات

Neend Ki Kami Se Honay Walay Nuqsanat

راحیلہ مغل
رات کی اچھی نیند کس کے دل کو نہیں بھاتی ،یہ نہ صرف آپ کا مزاج خوشگوار بناتی ہے بلکہ آنکھوں کے گرد بد نما سیاہ حلقے بھی پیدا نہیں ہونے دیتی ،مگر مناسب دورانیے تک سونا آپ کے دل ،وزن اور ذہن سمیت ہر چیز کی صحت کیلئے بہترین ثابت ہوتا ہے ۔مگر آج کے دور کی مصروفیات نے نیند کا اوسط دورانیہ 6گھنٹوں تک پہنچا دیا ہے(طبی ماہرین 7سے 8گھنٹے تک سونے کا مشورہ دیتے ہیں )۔

لگ بھگ ہر ایک کو اچھی نیند کی اہمیت کے بارے میں علم ہے مگر ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ انداز نہ ہو کہ ایسا نہ کرنے پر آپ کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے ۔یہاں ایسے ہی نقصانات بتائے جارہے ہیں جو کم نیند لینے والے افراد پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔
چڑ چڑاپن
بے خواب راتوں کے نتیجے میں چڑ چڑے پن اور جذبانی بن کی شکایت عام ہو جاتی ہے ۔

(جاری ہے)

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ منفی جذبات نیند متاثر ہونے کا نتیجہ ہوتے ہیں اور اس سے دفتر ی کارکردگی بھی متاثرہوتی ہے ۔


سر درد
سائنسدان اس حوالے سے پر یقین نہیں کہ نیند کی کمی سر درد کا باعث کیوں بنتی ہے مگر ایسا ہونا ضرور ہے۔بے خواب راتوں کے نتیجے میں آدھے سر کا درد ہونے لگتا ہے جبکہ خراٹے لینے والے 36سے 58فیصد افراد صبح سر درد کا شکار ہوتے ہیں ۔
موٹا پا
کم نیند کے نتیجے میں لوگوں کا جسمانی ہارمون توازن گڑ جاتا ہے جس کے نتیجے میں کھانے کی اشتہاخاص طور پر بہت زیادہ کیلوریز والی غذاؤں کی خواہش پیدا ہوتی ہے ۔

اپنی خواہشات پر کنٹرول کی صلاحیت گٹ جاتی ہے اور یہ دونوں بہت خطر ناک امتزاج ہیں کیونکہ اس کا نتیجہ موٹاپے کی شکل میں نکلتا ہے جبکہ تھکاوٹ کا احساس الگ ہر وقت طاری رہتا ہے ۔
بینائی کی کمزوری
نیند کی کمی بینائی کی کمزوری ،دھندلاپن اورایک کی جگہ دو نظر آنے کی شکل میں بھی سامنے آسکتا ہے ۔جتنا زیادہ وقت آپ جاگ کر گزارتے ہیں اتنی ہی بینائی میں خرابی کا امکان بڑھتا ہے جبکہ واہموں کے تجربے کا امکان بڑھ جاتاہے۔


امراض قلب
ایک تحقیق کے دوران لوگوں کو 88گھنٹے تک سونے نہیں دیا گیا جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر اوپر گیا جو کہ کوئی زیادہ حیران کن امر نہیں تھا مگر جب ان افراد کو ہر رات صرف 4گھنٹے تک سونے کی اجازت دی گئی تو دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ گئی جبکہ ایسے پروٹین کا ذخیرہ جسم میں ہونے لگا جو امراض قلب کا خطرہ بڑھاتا ہے ۔
سست ردعمل
جب نیند پوری نہ ہوتو کسی بھی واقعے پر ردعمل کا اظہار سست ہوجاتا ہے ۔

ایک تحقیق کے دوران لوگوں کو فوری فیصلے کرنے کے ٹاسک دئیے گئے ،جن میں سے کچھ کو ٹیسٹ کے دوران سونے کی اجازت دی گئی جبکہ دیگر کو نہیں ۔جن کو سونے کاموقع ملا انہوں نے ٹیسٹ میں بہتر کار کردگی دکھائی جبکہ دیگر افراد کی کار کردگی بدتر اورردعمل بہت سست رہا۔
انفیکشن
کیا آپ کو معلوم ہے کہ جسمانی وفاعی نظام طاقتور کیسے بنا یا جا سکتا ہے خاص طور پر کسی کھلے زخم پر جلد انفیکشن نہیں ہوتا ؟وہ نیند ہے ۔

اگر آپ نیند کی کمی کے شکار ہویہاں تک کہ ایک رات کی کمی بھی جراثیموں کے خلاف جسم کے قدرتی دفاع پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے ۔
توجہ کی صلاحیت متاثر ہونا
کیا پڑھتے یا سنتے ہوئے تو جہ مرکوز کرنے میں مشکل کا سامنا ہے ؟کسی ایسے کام کوکرنے میں جدو جہد کرنا پڑرہی ہے جس میں زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ؟توجہ مرکوز کرکے ہونے والے ٹاسک نیند کی کمی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں ۔

ایک تحقیق کے مطابق اگر آپ ذہنی طور پر چوکنا اور ہوشیار رہنا چاہتے ہیں تو نیند پوری کرنی چاہئے ورنہ ذہن غنودگی کی کیفیت کا شکار ہو جاتاہے اورکچھ بھی کرنا کافی مشکل ہو جاتا ہے ۔
ویکسینیشن کا اثر کم ہوجانا
ویکسین عام طور پر جسم میں ایسے اینٹی باڈیز پیدا کرتی ہے جو کسی مخصوص وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کر سکے مگر جب آپ کی نیند پوری نہ ہو جسمانی دفاعی نظام کمزور ہو جاتا ہے اور یہ اینٹی باڈیز موثر طریقہ سے کام نہیں کر پاتیں ۔


بولنے میں مشکلات
نیند کی شدید کمی آپ کو ہکلانے یا بولتے ہوئے مشکلات کر سکتی ہے بالکل ایسے جیسے کسی نے نشہ کررکھا ہو ۔
ایک تحقیق کے دوران رضا کاروں کو 36گھنٹوں تک جگا کر رکھا گیا جس کے بعد وہ کسی سے بات کرتے ہوئے الفاظ بار بار دہرانے اور ہکلانے لگے ،وہ اکتادینے والے انداز سے آہستگی اور مبہم باتیں کرنے لگے ،یہاں تک کہ ان سے اپنے خیالات کا اظہار کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔


نزلہ زکام کے دائمی شکار
اگر آپ ہر وقت نزلہ زکام کا شکار رہنے پر پریشان رہتے ہیں اور کہیں بھی جانے پر فلوحملہ آور ہو جاتا ہے تو اس کی ایک ممکنہ وجہ نا کافی نیند بھی ہو سکتی ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ 7گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں ان میں بیماری ہونے کا خطرہ تین گنازیاد ہ ہو تا ہے ۔
پیٹ کے امراض
معدے میں سوجن کے امراض نیند کی کمی کے نتیجے میں بدتر ہو جاتے ہیں ۔

سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند پیٹ کے امراض سے کافی حد تک تحفظ دیتی ہے مگر اس میں کمی کا خطرہ بڑھادیتی ہے ۔
ذیابیطس
نیند کے دوران ہمارا جسم میٹا بولزم میں آنے والی خرابیوں کو دور کرتا ہے تا ہم زیادہ وقت جاگ کر گزارنے کے نتیجے میں انسولین کی حساسیت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کا نتیجہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کی شکل میں نکلتا ہے ۔
ایک تحقیق کے مطابق نیند کے دورانیے میں اضافہ ممکنہ طور پر ذیابیطس کا خطرہ کم کرتا ہے جبکہ ایک اور تحقیق میں کم سونے کو معمول بنانے اور ذیابیطس کے خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی۔


کینسر
طبی ماہرین نے نیند اور کینسر کے درمیان تعلق کے حوالے سے تحقیق کی ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ جسمانی گھڑی کے نظام میں مداخلت سے جسمانی دفاعی نظام کمزور ہوتا ہے اور ان میں مخصوص اقسام کے کینسر خاص طور پر برسیٹ اور بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔
یاداشت کے مسائل
درمیانی عمر میں نیند کی کمی سے دماغی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں
جو کہ طویل المعیاد یاداشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں ،جبکہ نوجوانوں میں بھی نیند کی کمی سے یاداشت خراب ہونے کے مسائل دیکھے جا سکتے ہیں ۔

ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ سوتے ہیں ان کی یاداشت بھی اچھی ہوتی ہے ۔
بانجھ پن
ایک تحقیق کے مطابق مناسب نیند سے محرومی کے نتیجے میں بانجھ پن کا خطرہ کم ہوجاتا ہے ،خاص طور پر اگر خواتین 7گھنٹے سے کم ہونے کی عادی ہوں تو ان میں حمل ٹھہرنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیند جسمانی ہارمون نظام پر اثر انداز ہوتی ہے اور بہت کم نیند سے خواتین کا ہارمون نظام متاثر ہوتا ہے جس سے بانجھ پن کا خطرہ پیدا ہوتا ہے ۔

ایک دوسری تحقیق میں یہی بات مردوں کے بھی سامنے آئی کہ کم نیند کے نتیجے میں اولاد سے محرومی کا خدشہ بڑھ سکتا ہے ،خاص طور پر چھ گھنٹے سے کم نیند سے یہ خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔
ہر وقت بھوک لگنا
اگر دماغ کو وہ توانائی نہیں ملتی جو نیند سے حاصل ہوتی ہے تو اس کے حصول کے لیے وہ خوراک کو ذریعہ بناتا ہے ،نیند کی کمی کے نتیجے میں بھوک بڑھانے والے ہارمون گیر لین بننے کی شرح بڑھ جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں جسم کو چربی اور میٹھی غذاؤں کی طلب ہر وقت ہوتی ہے ،نیند کی کمی سے بھوک کو کنٹرول میں رکھنے والے ہارمون لیپٹن بھی متاثر ہوتا ہے اور لوگ بلا ضرورت بھی بہت زیادہ کھالیتے ہیں اور انہیں پیٹ بھرنے کا احساس نہیں ہوتا ۔

تاریخ اشاعت: 2019-02-23

Your Thoughts and Comments