Muzere Sehat Motapa - Article No. 1955

مضر صحت موٹاپا - تحریر نمبر 1955

منگل ستمبر

Muzere Sehat Motapa - Article No. 1955
ڈاکٹر احسان الرحمان
پوری دنیا میں موٹاپا جس انداز اور تیزی سے پھیل رہا ہے،یہ کہنا شاید غلط نہ ہو گا کہ اکیسویں صدی میں موٹاپا ایک وباء کی شکل اختیار کر چکا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا میں دو تہائی لوگ یا تو موٹاپے کا شکار ہیں یا ان کا وزن ان کی جسامت کے لحاظ سے زیادہ ہے۔یہ غیر ضروری وزن مختلف بیماریوں کا سبب بن رہا ہے جس میں شوگر،بلڈ پریشر،فالج دل کے مختلف امراض،جوڑوں،کمر اور گردن کا درد شامل ہیں،اس کے علاوہ انسان دیکھنے میں بھی برا لگتا ہے،موٹاپا اکثر جسمانی سرگرمی میں کمی۔

(Lack Of Physical Activity) کے ساتھ منسلک ہوتا ہے اور آج کل دنیا میں مضر صحت موٹاپا (Morbid Obesity) سگریٹ کے بعد دوسرا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ موٹاپا انسان کی Quality Of Lifeکو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے،ایک موٹے شخص کی عمر اپنے ہم عصروں سے پانچ سے بیس سال تک کم ہوتی ہے،جس کی وجہ مختلف بیماریاں میں جو موٹے شخص کو وقت کے ساتھ لگ جاتی ہیں،یہ لوگ موٹاپے کی وجہ سے اپنا روزگار بھی جاری نہیں رکھ سکتے اور اس لئے یہ لوگ اپنے خاندان،عزیز و اقارب اور ملک پر بھی بوجھ بن جاتے ہیں،موٹاپا کئی مرتبہ ایک ہی خاندان کے کئی افراد کو متاثر کرتا ہے۔

(جاری ہے)


بعض اوقات اس کی وجوہات Hormonal Geneticبھی ہوتی ہیں،یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس میں ہمارے طرز زندگی کا بھی بہت زیادہ عمل دخل شامل ہے،آج کل لوگ سادہ غذا استعمال نہیں کرتے،اکثر لوگ اس قسم کی چیزیں کھاتے ہیں،جو ان کو بہت جلد موٹا کر دیتی ہیں،اس کے علاوہ روزمرہ کے معمولات میں بھی سہل پسندی کا عمل دخل غالب رہتا ہے،جس میں گاڑیوں کا استعمال، پیدل نہ چلنا وغیرہ شامل ہیں،دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ 17سے25سال کی عمر میں ہی موٹا ہونا شروع کر دیتے ہیں،جب کوئی ایک مرتبہ موٹاپے کا شکار ہو جائے تو پھر اس کی واپسی مشکل ہو جاتی ہے،اس وقت تک کوئی ایسی موٴثر دوا موجود نہیں جو موٹاپے کو مطلوبہ طور پر کنٹرول کر سکے،اس کے علاوہ ان کے مضر اثرات بھی زیادہ ہیں،کم غذا کا استعمال کرنا ( Dieting) ،ورزش،اپنے طرز زندگی کو شدت سے بدلنا، یہ تمام چیزیں 6سے8 فیصد وزن کو کم کر سکتی ہیں لیکن یہ بھی محدود مت کے لئے ہوتا ہے یعنی ایک سے تین سال کے لئے،اس کے بعد وزن وہیں رک جاتا ہے اور اکثر پہلے سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔


گزشتہ چند دہائیوں سے موٹاپے کو کم کرنے کے لئے مختلف آپریشن ایجاد ہوئے ہیں اس معاملے میں رفتہ رفتہ ترقی ہو رہی ہے،ان میں آنتوں کو چھوٹا کرنا،آنتوں کا بائی پاس،معدہ میں Ballooڈالنا شامل ہیں،مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان یا تو کم کھائے یا غذا کے جذب ہونے تک روک جائے،دور جدید میں پوری دنیا میں آج کل اس مقصد کے لئے معدہ کو چھوٹا کر دیا جاتا ہے،اس آپریشن کو طبی اصطلاح میں SleeveGasrectomy کہا جاتا ہے،بعض اوقات اگر مریض کا وزن بہت زیادہ ہوتو اس آپریشن کے ساتھ آنتوں کا بائی پاس بھی کر دیا جاتا ہے۔

کئی مرتبہ موٹاپے کے مریضوں کا سانس سونے کے دوران بند ہونے لگ جاتا ہے اس کو Sleep Apnoeaکہتے ہیں ،اس حالت میں تو آپریشن مریض کی زندگی بچانے کے لئے ضروری ہوتاہے ،بعض اوقات مریض موٹاپے کی وجہ سے Depression اور کئی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں،اس لئے ایسے مریضوں کو سرجری کے Option پر ضرور غور کرنا چاہیے،شروع میں تو اس قسم کے آپریشن Open Surgery سے کیے جاتے تھے،لیکن اب یہ آپریشن بذریعہ کیمرا یعنی Laparoscope کیے جاتے ہیں،اب پاکستان میں کئی سرجن یہ آپریشن کر رہے ہیں،اس آپریشن کے مضر اثرات (Side Effects) نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں،کن لوگوں کو یہ آپریشن کرانا چاہیے اس کے لئے ایک فارمولا ہے،اسکو باڈی ماس انڈیکس BMIکہتے ہیں،اس کو انسان کے وزن اور قد کے حساب سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔


ایک نارمل شخص کا انڈیکس 18سے25ہوتا ہے ،25سے 3کو overweightکہا جاتا ہے،30سے40کو obese یعنی موٹاپے کا شکار کہا جاتا ہے،جب کے 40سے اوپر انڈیکس اگر ہوتو اس کو مضر صحت موٹاپا یعنی (Morbid Obesity) کہا جاتا ہے،اگر کسی شخص کو شوگر یا بلڈ پریشر ہوتو 35سے اوپر انڈیکسMorbid obesityکے زمرہ میں آجاتا ہے،جو کہ اگر نظر انداز کیا جائے تو مستقبل میں مختلف بیماریوں حتیٰ کہ کینسر کا باعث بھی بن سکتا ہے،ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی غذا کو متوازن رکھیں،ورزش کو اپنا معمول بنائیں، معمول فاصلے پیدل طے کریں اور اگر تمام طریقے کارگر ثابت نا ہوں تو سرجری کے طریق علاج پر غور کریں۔
تاریخ اشاعت: 2020-09-15

Your Thoughts and Comments