بند کریں
صحت صحت کی خبریںخیبر پختونخواہ، کشمیر اور جنوبی پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری، سیلاب زدہ علاقوں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 07/08/2010 - 15:13:13 وقت اشاعت: 06/08/2010 - 11:41:49 وقت اشاعت: 05/08/2010 - 18:22:04 وقت اشاعت: 04/08/2010 - 20:03:16 وقت اشاعت: 03/08/2010 - 15:19:02 وقت اشاعت: 02/08/2010 - 18:15:19 وقت اشاعت: 02/08/2010 - 18:13:29 وقت اشاعت: 02/08/2010 - 17:41:34 وقت اشاعت: 01/08/2010 - 20:51:11 وقت اشاعت: 01/08/2010 - 18:09:48 وقت اشاعت: 01/08/2010 - 17:55:33

خیبر پختونخواہ، کشمیر اور جنوبی پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری، سیلاب زدہ علاقوں میں ہیضہ، اسہال اور گیسٹرو جیسی وبائی امراض پھیل گئیں، لاکھوں بے گھر افراد امداد کے منتظر

پشاور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔2اگست۔2010ء) خیبر پختونخواہ ، کشمیر اور جنوبی پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ، کنوؤں میں گارا بھر گیا ، متاثرین پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ، سیلاب زدہ علاقوں میں ہیضہ ، اسہال اور گیسٹرو جیسی وبائی امراض پھیل گئیں، لاکھوں بے گھر افراد امداد کی راہیں تکنے لگے ، چار سدہ میں بے گھر متاثرین نے قبرستان میں ڈیرے ڈال لئے 2005کے زلزلہ میں نمایاں امدادی سر گرمیاں سر انجام دینے والی تنظیمیں ہی سیلاب زدہ علاقوں میں متحرک دکھائی دیتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ شمال مغربی علاقو ں میں موسلا دھار بارش اور سیلاب کی وجہ سے سولہ سو سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں لاکھوں افرادبے گھر ہوئے ہیں جنہیں کھانے پینے کی اشیاء اور صاف پانی کی کمی کی شدید قلت ہے پندرہ لاکھ لوگوں کو اس وقت ہنگامی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے متاثرہ علاقوں میں سب سے زیادہ اسوقت پینے کے پانی کی کمی ہے متاثرین زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کھانا نہیں چاہیے پینے کا پانی چاہیے کنویں گارا اور مٹی بھر جانے سے قابل استعمال نہیں رہے جماعة الدعوة واحد غیر سرکاری تنظیم ہے جس کے امدادی رضاکار گاڑیوں میں ڈرم رکھ کر متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر متاثرین کو پینے کا صاف پانی فراہم کر رہے ہیں ضلعی انتظامیہ کے اہل کار کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر و سرحد کے زلزلے میں امدادی سر گرمیوں کے حوالے سے شہرت حاصل کرنیوالی تنظیمیں ہی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زیادہ سر گرم دکھائی دیتی ہیں جن میں جماعة الدعوة کا کردار نمایاں نظر آتا ہے متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی قلت کیساتھ ساتھ بچوں میں ہیضہ اوراسہال جیسی بیماریاں پھیل چکی ہیں متاثرہ علاقوں میں عارضی پناہ گاہوں پر صاف پانی اور بیت الخلاء کی سخت ضرورت ہے تاکہ بیماریوں کوپھیلنے سے روکا جا سکے چارسدہ میں سیلاب کی وجہ سے لوگوں کو ابھی تک رہنے کیلئے کوئی ٹھکانہ میسر نہیں آرہا بے گھر متاثرین کی بڑی تعداد قبرستان میں زندگی کے ایام گزار رہی ہے صوبہ سندھ میں نولاکھ کیوسک پانی کی آمد کے خدشے کے پیش نظر صوبائی حکومت نے پانچ اضلاع سے ڈیڑھ لاکھ لوگوں کے انخلاء کا فیصلہ کیاہے امکانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کئی شعبوں میں انتظامی ایمر جنسی کا نفاذ کردیا گیا ہے بارشوں اورسیلاب کے نتیجے میں صوبہ بلوچستان میں بھی گزشتہ چند دنوں کے دوران ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں اور درجنوں تا حال لا پتہ ہیں اسکے علاوہ بے گھر ہونیوالے ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے پڑے ہیں ۔


02/08/2010 - 18:15:19 :وقت اشاعت