کسان 29 نومبر کو پورے پاکستان میں ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر احتجاج کریں گے۔ ”کسان بچاؤ…پاکستان بچاؤ“ تحریک کے دوسرے مرحلے کے لیے ٹاسک فورس بنا دی گئی۔ حکمران کین ایکٹ کے مطابق شوگر ملیں چلوائیں وگرنہ آئندہ سال گندم کا قحط پڑجائے گا۔ مرکزی صدر کی حکومت کو وارننگ، کسان بورڈ پاکستان کے صدر سردار ظفر حسین خاں کا ٹاسک فورس کے ممبران سے خطاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی این پی۔ 20نومبر 2012ء)کسان بورڈ پاکستان کے صدر سردار ظفر حسین خاں نے گزشتہ روز ،،کسان بچاؤ۔۔پاکستان بچاؤ ،،تحریک کے دوسرے مرحلے کے لیے ٹاسک فورس بنا دی ۔29 نومبر کوہر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر احتجاج کرنے کے لیے چاروں صوبوں کے صدور اپنے اپنے صوبوں میں احتجاجی مظاہروں کی مانیٹرنگ کریں گے ۔اجلاس میں شامل ٹاسک فورس کے شرکا سے خطاب کر تے ہوئے سردار ظفر نے کہا کہ ملک بھر سے آئے ہوئے کسان تین روز تک اسلام آبادمیں سراپا احتجاج رہے چونکہ ہمارے حکمران شرافت اور قانون کی زبان نہیں سمجھتے اس لیے اب آئندہ ان سے بات پاکستان بھر کی سڑکوں،چوکوں اورچوراہوں پر ہو گی اور 29 نومبر کو پورے ملک کے لاکھوں کسان ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر احتجاجی مظاہرے کریں گے۔

(جاری ہے)

صوبہ خیبر پختونخواہ کے صدر رضوان اللہ خاں مہمند، شمالی پنجاب کے صدر ڈاکٹر محمد نواز چھینہ، وسطی پنجاب کے صدر چوہدری نور الہی تتلہ ، جنوبی پنجاب کے صدر فیاض الحسن بھٹہ، غربی پنجاب کے صدر ڈاکٹر عبدالجبار چوہدری اور مرکزی سینئرنائب صدر چوہدری نثار احمد،نائب صدر سرفراز احمد خاں، سیکرٹری جنرل ملک محمد رمضان روہاڑی اور دیگر نے اجلاس میں شرکت کی۔

کسان رہنماؤں نے کھاد کی بوری پر قیمت فروخت کا اندراج، بجلی کے ٹیوب ویلوں کے فلیٹ ریٹ مقرر کرنے اور گنے ،تمباکو سمیت تمام فصلوں کی سپورٹ پرائس بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ سردار ظفر نے کہا کہ کرشنگ میں تاخیر کی وجہ سے گندم کی پیداوار متاثر ہو گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ شوگر ملز مالکان کی اکثریت حکومت میں شامل ہے اس لیے وہ سر عام کین ایکٹ کی دھجیاں بکھیر کر اور گنے کے کاشتکاروں کو لوٹ کر ملک کو قحط سالی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

Your Thoughts and Comments