ڈینگی وائرس پھیل گیا3 ہزار شہری لپیٹ میں آگئے

بدقسمتی سے سرکاری اسپتالوں میں وائر سے متاثرہ مریض کے علاج کیلئے سہولتیں ناپید ہیں

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2019ء)کراچی سمیت ملک بھر کے عوام ڈینگی وائرس کی لپیٹ میں ہیں، ڈینگی وائرس مون سون سے شروع ہو کر دسمبر تک اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ حملہ آور ہوتا ہے۔ کراچی میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران اب تک 3 ہزار سے زائد افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں، ڈینگی کنٹرول پروگرام کے مطابق صرف رواں ماہ میں 663 افراد وائرس کا شکار ہو گئے، وائرس نے رواں سال کے دوران 8 افراد کی جان بھی لے لی لیکن انسداد ڈینگی کنٹرول پروگرام وائرس سے متاثرہ مریضوں کے صرف اعداد و شمار ہی جاری کر رہا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ اور حکومت سندھ نے اس اہم مسئلے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

لیکن حکومت اس مسئلے پر ہر سال روایتی بیان دے کر اپنی ذمہ داریاں پوری کر لیتی ہے، کراچی سمیت ملک بھر میں ڈینگی وائرس وبائی صورت اختیار کر چکا ہے بدقسمتی سے سرکاری اسپتالوں میں اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کو علاج کی سہولتیں بھی ناپید ہیں، ڈینگی سے متاثرہ افراد کے خون جمانے والے اجزا پلیٹ لیٹ میں شدید کمی واقع ہو جاتی ہے اور پلیٹ لیٹ ہی اس کا علاج ہوتے ہیں، لیکن سرکاری اسپتالوں میں پلیٹ لیٹ میسر نہیں۔

(جاری ہے)

ڈینگی وائرس سے بچائو کے لیے جراثیم کش ادویات کا اسپرے لازمی ہے جو کراچی میں گزشتہ کئی سال سے نہیں کیا جارہا ہے۔

Your Thoughts and Comments