بند کریں
صحت صحت کی خبریںزراعت کی ترقی و عوام کو سستی لیکن حفظان صحت کے عین مطابق غذا کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 22/08/2013 - 20:38:32 وقت اشاعت: 22/08/2013 - 20:37:44 وقت اشاعت: 22/08/2013 - 14:35:35 وقت اشاعت: 22/08/2013 - 14:33:24 وقت اشاعت: 22/08/2013 - 14:25:04 وقت اشاعت: 21/08/2013 - 22:39:02 وقت اشاعت: 21/08/2013 - 21:27:50 وقت اشاعت: 21/08/2013 - 21:16:34 وقت اشاعت: 21/08/2013 - 21:15:04 وقت اشاعت: 21/08/2013 - 14:11:36 وقت اشاعت: 20/08/2013 - 22:50:40

زراعت کی ترقی و عوام کو سستی لیکن حفظان صحت کے عین مطابق غذا کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے ، ملک بھر میں سات لاکھ ٹیوب ویل موجود ہیں 30فیصد بجلی اور 70فیصد ڈیزل کے ذریعے چلائے جاتے ہیں ،صرف بلوچستان میں کاشتکاروں کیلئے فلیٹ ریٹس مقرر ہیں سرکاری طور پر سبسڈی دی جارہی ہے ، وفاقی حکومت بجلی کی کمی کی وجہ سے ملک بھر میں ٹیوب ویلز پر سب سڈی نہیں دے سکتی ،کھاد فیکٹریوں کو گیس فراہمی بھی بڑا مسئلہ ہے ، حکومت کاشتکاروں کو سبسڈی کی شکل میں نقد رقوم کی ادائیگی کا پروگرام بنا رہی ہے ،اس بار کپاس کی پیدوار حدف سے زیادہ ہے ،کاشتکاروں کو قیمتیں بھی زیادہ ملیں گی ، کھاد کی قیمتوں کو مستحکم بنانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ، یوریاء کی بجائے ڈی اے پی کے استعمال سے پیدوار میں بھی اضافہ اور بے تحاشہ حکومتی اخراجات میں بھی کمی کی جا سکتی ہے ،سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی سکندر حیات بوسن کی بریفنگ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔آئی این پی۔21اگست۔ 2013ء) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی سکندر حیات بوسن نے بتایا ہے کہ زراعت کی ترقی و عوام کو سستی لیکن حفظان صحت کے عین مطابق غذا کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ ملک بھر میں سات لاکھ ٹیوب ویل موجود ہیں 30فیصد بجلی اور 70فیصد ڈیزل کے ذریعے چلائے جاتے ہیں صرف بلوچستان میں کاشتکاروں کیلئے فلیٹ ریٹس مقرر ہیں اور سرکاری طور پر سبسڈی دی جارہی ہے ۔

وفاقی حکومت بجلی کی کمی کی وجہ سے ملک بھر میں ٹیوب ویلز پر سب سڈی نہیں دے سکتی ۔ کھاد فیکٹریوں کو گیس فراہمی بھی بڑا مسئلہ ہے ۔ حکومت کاشتکاروں کو سبسڈی کی شکل میں نقد رقوم کی ادائیگی کا پروگرام بنا رہی ہے ۔اس بار کپاس کی پیدوار حدف سے زیادہ ہے اور کاشتکاروں کو قیمتیں بھی زیادہ ملیں گی ۔کھاد کی قیمتوں کو مستحکم بنانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔

یوریاء کی بجائے ڈی اے پی کے استعمال سے پیدوار میں بھی اضافہ اور بے تحاشہ حکومتی اخراجات میں بھی کمی کی جا سکتی ہے ۔ وہ بدھ کو پارلیمنٹ ہاوٴس میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو بریفنگ دے رہے تھے ۔ اجلاس چیئر مین قائمہ کمیٹی سید مظفر حسین شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا جسمیں سینیٹر محمد کاظم خان ، سینیٹر سید ہ صغرٰ ی امام ، سینیٹر سلیم ایچ مانڈوی والا سینیٹر محمد ظفر اللہ خان ڈھاندلا اور سینیٹر محسن لغاری ، سید کاظم علی شاہ کے علاوہ سیکریٹری وزارت سیرت اصغر ، چیئر مین پی اے آر سی ڈاکٹر افتخار احمد ، سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی کمیٹی شکیل احمد خان ، چیئر مین اے پی آئی ، یاسمین مسعود ،سندھ ایگریکلچر اسوسی ایشن کے صدر میر ظفر اللہ تالپور اور فارمر اسوسی ایشن سندھ کے صدر میاں محمد سلیم نے شرکت کی۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ فوڈ سیکیورٹی پالیسی کا مسودہ تیار ہے اور عوام کو ان کی دہلیز پر ان کی قوت خرید میں بہتر صحت کیلئے بہتر غذا فراہم کرنے کا پروگرام جلد شروع کر دیا جائیگا۔اٹھارویں ترمیم کے بعد زراعت اور غذائیت کے معاملات صوبوں کی ذمہ داری ہے ۔ چیئر مین کمیٹی سید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ سمندر دریاوٴں آبشاروں اور کروڑوں ایکڑ پر مشتمل مملکت خداد اد میں صحت مند بیج ، سستی کھاد اور پانی کی سہولیات میں اضافہ کے ذریعے لوگوں کو سستی غذا اور ملک کو بھاری زر مبادلہ حاصل ہو سکتا ہے ۔

سیکریٹری وزارت نے بتایا کہ فصلوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور زراعت کے شعبے کو مذید ترقی دینے کے اقدامات کئے جارہے ہیں چیئر مین پی اے آر سی نے بتایا کہ ملک بھر میں کاشتکاروں کو ارزاں اور صحت مند بیج کے علاوہ پودے فراہم کرنے کیلئے ریسرچ انسٹی ٹیو ٹ اور نرسر یاں موجود ہیں ۔بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں کیساتھ پاکستان کی یونیورسٹیوں کیساتھ MOUSپر دستخط ہو چکے ہیں اور طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون ملک بھجوایا جارہا ہے اور کاشتکاروں کی تنظیموں سے رابطہ کے ذریعے تکنیکی تعلیم بھی دی جارہی ہے ۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ گندم کپاس ، گنا ، کھجور ، ٹماٹر ، پیاز اور سر خ مرچ جیسی اجناس کی پیداوار کے اضافے کیلئے اقدامات کئے جار ہے ہیں ۔ ڈی آئی خان میں دنیا کی بہترین کھجور کو کیڑوں سے محفوظ رکھنے اور سٹوریج کیلئے پلانٹ لگا دیا گیا ہے ۔ سندھ میں گرم ترین موسم میں کپاس اور کھجور کی فصل کو پکنے سے قبل محفوظ بنانے کیلئے پلانٹس لگائے گئے ہیں ۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ بین الاقوامی معیار کے بیج تیار کرنے کیلئے قوانین کو مزید سخت بنایا جا رہا ہے تاکہ دوہرے نام سے جعلی بیج کی فراہمی کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔سینیٹر صغرٰی امام کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں کپاس کا 60فیصد بیج بھارت سے سمگل شدہ ہے جسکی وجہ پاکستان میں جعلی بیج کی پیدوار ہے ۔وفاقی وزیر سکندر بوسن نے کہا کہ ملک میں ڈیری فارمنگ کا شعبہ سب سے زیادہ فائدے مند ہے اور بالخصوص لاہور کے گردو نواح میں زمینداروں نے زرعی فصلوں کی جگہ جانوروں کے چاروں کے فارمز بنانے شروع کر دیے ہیں کھلے دودھ کی قیمتوں میں اضافہ نہ کر کے حکومت عوام کو سہولت دے رہی ہے۔

چیئر مین سٹینڈنگ کمیٹی سید مظفر شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے قانون منظور کراوایا جائے کہ پاکستان میں زرعی اجناس کے موسم میں بھارت سے زرعی اجناس کی تجارت نہ کی جائے اور سمگلنگ کو روکنے کیلئے واہگہ بارڈر پر سخت ترین اقدامات کے ذریعے اپنے ملک کے زرعی کاروباری شعبہ کو فائدہ دیا جائے ۔چیئر مین کمیٹی نے وزارت پی اے آر سی ،این اے آر سی اور متعلقہ محکمہ جات کی طر ف سے پچھلے اجلاسوں کے احکامات پر عمل در آمد اور آج کے اجلاس میں مکمل تفصیلات فراہم نہ کرنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی کہ سیڈ ایکٹ بل کو قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی سے جلد منظور کروا کر سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بھیجا جائے پی اے آر سی کی بیجوں کی اقسام نئی ایجادات زرعی ترقی کے اقدامات سکھر خیر پور اور کنری میں سرخ مرچوں اور کھجور کے تحقیقی مراکز اور پلانٹس کی تنصیب میں تاخیر پاکستان کاٹن کمیٹی ایپٹما اور وزارت کی کارکردگی کے علاوہ جعلی کھاد اور کپاس کے بیج کی بھارت سے سمگلنگ اور پاکستان کاٹن کمیٹی کو وزارت میں ظم کرنیکی تفصیلات آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئیں۔

21/08/2013 - 22:39:02 :وقت اشاعت