بند کریں
صحت صحت کی خبریں2013ء میں پوری دنیا سے پولیو کے 369 کیسز رپورٹ ہوئے،
پاکستان میں 83 کیسز کا اندراج کیا گیا‘2012 ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 18/09/2014 - 13:07:27 وقت اشاعت: 18/09/2014 - 12:58:37 وقت اشاعت: 18/09/2014 - 12:55:28 وقت اشاعت: 18/09/2014 - 11:52:32 وقت اشاعت: 18/09/2014 - 11:30:02 وقت اشاعت: 17/09/2014 - 23:01:51 وقت اشاعت: 17/09/2014 - 23:01:51 وقت اشاعت: 17/09/2014 - 22:26:04 وقت اشاعت: 17/09/2014 - 21:49:01 وقت اشاعت: 17/09/2014 - 21:11:32 وقت اشاعت: 17/09/2014 - 20:26:11

2013ء میں پوری دنیا سے پولیو کے 369 کیسز رپورٹ ہوئے،

پاکستان میں 83 کیسز کا اندراج کیا گیا‘2012 میں یہ تعداد 58 تھی

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17ستمبر 2014ء) عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے نئے سال کے آغاز پر جاری کی گئی عالمی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے، جہاں 2012 ء کے مقابلے میں گزشتہ برسں پولیو کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ”امیونائزیشن کوریج میں غیر یکسانیت“ نامی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے کئی علاقوں میں اس مرض کے خاتمے کی ویکسین دینے کا عمل سست روی کا شکار رہا اور بہت سے بچے انسداد پولیو کی مہم سے محروم رہے۔

اس رپورٹ کے مطابق سال 2013ء میں پوری دنیا سے پولیو کے 369 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے صرف پاکستان میں 83 کیسز کا اندراج کیا گیا۔ پاکستان میں سال 2012 میں یہ تعداد 58 تھی۔ گزشتہ برس پاکستان کے قبائلی علاقے (فاٹا) میں پولیو کے سب سے زیادہ 59 جبکہ ان سے ملحقہ صوبے خیبر پختونخواہ سے 10 جبکہ سندھ اور پنجاب میں سات سات کیسز کا اندراج کیا گیا۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق سکیورٹی کی خراب صورتحال، آگاہی کی کمی اور بعض قبائلی علاقوں میں رسائی نہ ہونے کے سبب گزشتہ برس نومبر کی انسداد پولیو مہم اپنے مقاصد کے حصول میں مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔

یونیسف کے مطابق شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں مکمل پابندی لگائی گئی ہے کہ کوئی انسداد پولیو مہم نہیں ہو گی۔ باڑہ کا جو علاقہ ہے، خیبر ایجنسی میں کبھی مہم ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی ہے۔ تو وہاں ڈیڑھ سے دو لاکھ بچے صرف رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ویکسین لینے سے رہ جاتے ہیں‘پاکستان میں انسداد پولیو کی ٹیموں پر شدت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے اب تک 20 سے زائد رضا کار اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکار ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خانہ بدوش، افغان مہاجرین، ایک سے دوسری جگہ نقل مکانی کرنے والے افراد پولیو سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور یہی افراد اس مرض کے پھیلاوٴ میں مسلسل اضافہ کرسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار سے پانچ سالوں میں وسطی پنجاب میں پولیو کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ بھی اسی سبب ہوا ہے۔ پاکستان میں انسداد پولیو کے سرکاری پروگرام کے سابق سربراہ ڈاکٹر الطاف بوسن کا کہنا ہے کہ صرف سکیورٹی خدشات یا عدم رسائی کو پولیو کے مرض میں اضافے کی وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا‘ایسا نہیں ہے کہ ہر جگہ پر سکیورٹی خدشات ہیں، یہ ایک انتظامی مسئلہ ہے۔ اگر کچھ علاقوں میں ٹیمیں نہیں پہنچیں گی تو تب ہم یہ توقع نہیں کر سکتے کہ اس علاقے کو پولیو سے پاک کہا جا سکے گا‘پاکستان میں پولیو کے مرض میں اضافے سے متعلق یہ رپورٹ ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب ہمسایہ ملک بھارت میں پولیو سے پاک ملک ہونے پر جشن منایا جا رہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں پولیو کے خاتمے کے سلسلے میں پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کے عزم کا موازنہ بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال افغانستان میں پولیو کے صرف گیارہ واقعات رپورٹ ہوئے اور وہ سب بھی افغانستان سے باہر کے ہیں اور مقامی سطح پر مرض کے دوبارہ پھوٹنے کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ اس رپورٹ میں پولیو کے حوالے سے پاکستان کا دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ تفصیلی موازنہ کر کے یہ رپورٹ حکومت کو بھی بھجوائی گئی ہے-

17/09/2014 - 23:01:51 :وقت اشاعت