بند کریں
صحت صحت کی خبریںآزاد کشمیر کا 25 ارب 32کروڑ کا بجٹ قانون ساز اسمبلی میں پیش کردیا گیا، بجٹ خسارہ 4ارب 95کروڑ 47لاکھ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 23/06/2007 - 20:53:48 وقت اشاعت: 23/06/2007 - 16:11:42 وقت اشاعت: 23/06/2007 - 16:00:45 وقت اشاعت: 23/06/2007 - 15:15:56 وقت اشاعت: 22/06/2007 - 17:59:36 وقت اشاعت: 21/06/2007 - 12:15:44 وقت اشاعت: 19/06/2007 - 13:35:53 وقت اشاعت: 18/06/2007 - 22:58:16 وقت اشاعت: 18/06/2007 - 17:16:20 وقت اشاعت: 16/06/2007 - 15:17:17 وقت اشاعت: 15/06/2007 - 12:57:18

آزاد کشمیر کا 25 ارب 32کروڑ کا بجٹ قانون ساز اسمبلی میں پیش کردیا گیا، بجٹ خسارہ 4ارب 95کروڑ 47لاکھ روپے ہو گا‘ ترقیاتی اخراجات کیلئے 7 ارب 80کروڑ روپے مختص‘ ریاستی آمدنی کا تخمینہ 15 ارب23کروڑ روپے‘ منگلا ڈیم رائلٹی سے 66 کروڑ 33لاکھ روپے ‘ کشمیر کونسل سے 2ارب 27کروڑ ‘ وفاقی محصولات سے 4 ارب 40کروڑ روپے کی آمدنی متوقع ,تعلیم کے شعبہ کیلئے 53کروڑ20لاکھ ‘ صحت کیلئے 34کروڑ روپے ‘محکمہ برقیات کیلئے 4ارب 84کروڑ 60لاکھ 93ہزار روپے مختص ‘ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشنوں میں 15 سے 20فیصد اضافہ ,آئندہ مالی سال کا بجٹ 26فیصد زائد ہے‘ حکومت پاکستان کے تعاون سے زلزلہ متاثرین کی بحالی و تعمیر نو پر 35ارب روپے خرچ کیے جائیں گے‘ وزیر خزانہ راجہ نثار کا قانون ساز اسمبلی میں بجٹ خطاب

مظفرآباد(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار21 جون 2007) آزاد کشمیر کا مالی سال 2007-08ء کے لئے 25 ارب 32کروڑ روپے کا بجٹ قانون ساز اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے ‘ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا تاہم بجٹ کا خسارہ 4ارب 95کروڑ 47لاکھ روپے ہو گا‘ ریاستی آمدنی کا تخمینہ 15 ارب23کروڑ روپے‘ منگلا ڈیم رائلٹی سے 66 کروڑ 33لاکھ روپے ‘ کشمیر کونسل سے 2ارب 27کروڑ ‘ وفاقی محصولات سے 4 ارب 40کروڑ روپے کی آمدنی متوقع ہے ‘ ترقیاتی اخراجات کیلئے 7 ارب 80کروڑ روپے مختص‘ تعلیم کے شعبہ کیلئے 53کروڑ20لاکھ ‘ صحت کیلئے 34کروڑ روپے ‘محکمہ برقیات کیلئے 4ارب 84کروڑ 60لاکھ 93ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال کا بجٹ 26فیصد زائد ہے‘ حکومت پاکستان کے تعاون سے زلزلہ متاثرین کی بحالی و تعمیر نو پر 35ارب روپے خرچ کیے جائیں گے‘ آزاد کشمیر کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پاکستان کی طرز پر 15فیصد اور پنشنوں میں 15 سے 20فیصد اضافہ کیا جائے گا۔آزاد کشمیر کے وزیر خزانہ راجہ نثار احمد خان نے جمعرات کے روز آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مالی سال 2007-08ء کا بجٹ پیش کیا۔

وزیر خزانہ نے بجٹ خطاب میں بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا ہے بجٹ کا کل حجم 25ارب 32کروڑ روپے ہے ۔ جو کہ مالی سال 2006-07کے مقابلہ میں26فی صد زائد ہے۔ نئے مالی سال کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 7ارب 80کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جو جاریہ سال کے میزانیہ کے مقابلہ میں30فیصد زائدہیں جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے آئیندہ مالی سال میں 17ارب 52 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ راجہ نثار احمد خان نے بتایا کہ ریاستی وسائل سے رواں مالی سال کے دوران آمدن کا تخمینہ 14ارب 52کرورڑ4لاکھ روپے لگایا گیا تھا۔ نظر ثانی میزانیہ 14ارب 96کروڑ جبکہ سال 2007-08میں ریاستی وسائل سے آمدن 15ارب 23کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
منگلا ڈیم سے رواں مالی سال میں رائیلٹی 66کروڑ 33لاکھ جبکہ آئیندہ مالی سال میں اس مد میں اتنی ہی آمدن متوقع ہے۔

کشمیر کونسل سے رواں مالی سال میں 2ارب 27کروڑ روپے جبکہ آئیندہ مالی سال میں اتنی ہی آمدن متوقع ہے ۔ وفاقی محصولات سے رواں مالی سال میں3ارب 31کروڑ 70لاکھ روپے جبکہ آئیندہ مالی سال میں4ارب 40کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ میزانیہ میں رواں مالی سال میں3ارب 15کروڑ 80لاکھ روپے کا خسارہ تھا جبکہ آئیندہ مالی سال میں یہ خسارہ 4ارب 95کروڑ 47لاکھ روپے ہو گا۔

سال 2006-07میں جاریہ اخراجات 13ارب 93کروڑجبکہ آئیندہ مالی سال کے لیے 17ارب 52کروڑ روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔ترقیاتی اخراجات برائے رواں مالی سال 6ارب40کروڑ روپے جبکہ آئیندہ مالی سال2007-08 کے لیے 7ارب 80کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر آئیندہ مالی سال کے لیے جاریہ اور ترقیاتی اخراجات کے لیے25ارب 32کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2007-08کے لیے ترقیاتی میزانیہ 7ارب 80کروڑ روپے کے علاوہ وفاقی ترقیاتی پروگرام سے مختلف پراجیکٹس کے تحت آزا دکشمیر میں 34ارب روپے کے منصوبوں پر آئیندہ مالی سال میں کام جاری رکھا جائے گا۔

راجہ نثار احمد خان وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ ایراء کے تحت تعمیر نو اور بحالی پروگراموں پر 35ارب روپے متاثرہ علاقوں میں خرچ کیے جائیں گے۔اس میں آزا دکشمیر کا حصہ 60فیصد ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ زرائع رسل ورسائل کے لیے ترقیاتی میزانیہ میں 2ارب 51کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جو کل ترقیاتی میزانیہ کا 32.17فیصد ہے۔ محکمہ تعمیرات عامہ کی جاریہ سکیموں کو مکمل کرنے کے لیے آئیندہ مالی سال میں 21کروڑ 3لاکھ روپے کے علاوہ اس شعبہ میں 31نئی آسامیاں بھی تخلیق کی گئی ہیں۔

پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں چیف انجینئر کا الگ دفتر قائم کیا گیا اور اسکے لیے 19آسامیاں فراہم کی گئی ہیں۔ تعلیم کے شعبہ میں سال 2007-08کے جاریہ منصوبوں کے لیے53کروڑ20لاکھ سے زائد روپے جو کل میزانیہ کا 22فیصد ہے رکھاگیا ہے اور 2384نئی آسامیاں بھی فراہم کی جائیں گی جبکہ رواں مالی سال میں 3860نئی آسامیاں تخلیق کر کے اداروں کو مضبوط وفعال بنایا گیا ہے اور انکی کارکردگی کو بڑھایا گیاہے۔

وزیر خزانہ نے بجٹ تقریرکے دوران صحت کے شعبہ کے بارے میں بتایا کہ اسکے جاریہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے34کروڑ روپے کل بجٹ کا 6فیصدہے مختص کیا گیا ہے جبکہ ترقیاتی جاریہ سکیم 37نئی آسامیاں فراہم کر دی گئی ہیں۔مستحق افراد کے لیے ادویات فراہم کرنے کی غرض سے سرکاری ہسپتالوں کو 18کروڑ 36لاکھ 10ہزار روپے فراہم کیے جانے کی تجویز ہے ۔محکمہ برقیات کے جاریہ و ترقیاتی میزانیہ کے لیے 4ارب 84کروڑ 60لاکھ 93ہزار روپے مہیا کیے گئے ہیں جو کل میزانیہ کا 19فیصد ہے۔

محکمہ خوراک کے لیے رواں مالی سال میں62نئی آسامیاں فراہم کی گئی ہیں اور محکمہ پولیس میں 500نئی آسامیاں فراہم ہوئیں۔ عدلیہ کو فعال بنانے کی خاطر 4نئی عدالتیں قائم کرنے کے علاوہ 77نئی آسامیاں بھی تخلیق کی گئیں۔راجہ نثار احمدخان نے بجٹ تقریر کے دوران مزید بتایا کہ زلزلہ سے متاثرہ اضلاع کے ملازمین کو 3ماہ کی پیشگی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے آئیندہ مالی سال میں 700ملین روپے مختص کیے گئے ہیں اور متاثرہ علاقوں کے ملازمین کے ذمہ40کروڑ روپے کے قرضے بھی معاف کر دئیے ہیں۔

کوآپریٹیو بینک کے قرضے بھی متاثرہ علاقوں میں معاف کیے گئے جن کی رقم 29کروڑ 37لاکھ روپے ہے۔ متاثرہ اضلاع میں ملازمین کے گھریلو نقصان کے عوض 3ہزار روپے فی کس بھی اداء کیے گئے۔ جن پر 13کروڑ روپے کے اخراجات ہوئے۔انہوں نے کہاکہ آزا دکشمیر میں موجودہ حکومت نے اپنے وعدے اور اعلان کے مطابق بینک آف آزادجموں وکشمیر قائم کیا اور اسکی تین شاخوں نے ابتدائی طور پر باضابطہ کام شروع کر دیا ہے۔

آزا دکشمیر کے دور دراز علاقوں میں سستی اور معیاری اشیاء کی بروقت فراہمی کی خاطر لیپہ ،ٹوبہ،بھیڈی ،اٹھمقام اور کیل میں یوٹیلٹی سٹورز کھولے گئے ہیں۔ جبکہ آئیندہ مالی سال میں شاردہ ،ہلمت ،کھلانہ کے مقامات پر نئے یوٹیلٹی سٹورز کھولے جائینگے۔اب ان علاقوں میں رہنے والوں کو سارا سال سستی اشیاء خوردونوش دستیا ب ہو سکیں گی۔
وزیر خزانہ نے کہاکہ موجودہ حکو مت نے اپنے اعلانات اور وعدوں کے مطابق پٹہکہ (نصیر آباد) میں سب ڈویڑن کا قیام عمل میں لایا اور 19جریدہ و غیر جریدہ آسامیاں بھی مہیا کردی ہیں۔

سرسبز وہنر مند کشمیر کے وسیع تر ملکی وقومی مفاد کے پروگرام کو پروان چڑھانے ،بیروزگار نوجوانوں اور خواتین کو فنی تعلیم وتربیت دینے کے لیے آزاد جموں وکشمیر ٹیکنیکل ایجوکیشن ووکیشنل اتھارٹی کا ادارہ قائم کر دیا ہے۔ جس نے عملاً اپنا کام بھی شروع کر دیا ہے۔ آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت نے اپنے ایک اور وعدے اور اعلان کو تکمیل پذیر کیا جس کے تحت کشمیر ہائی وے اتھارٹی قائم کی گئی ہے جو بڑی بڑی شاہرات کی تعمیر کی ذمہ دار ہوگی۔

مسلم کانفرنس کی موجودہ حکومت کے سرکاری ملازمین کی ضرورت کے پیش نظر آئیندہ مالی سال سے لیو سیلری کے نظام کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا اور متعدد محکمہ جات کے لیے رقم بھی مختص کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کیڈٹ کالج پلندری میں طلبا کی نشستیں 62سے بڑھا کر 93کردی گئی ہیں۔ زلزلہ زدہ علاقوں کے طلبہ کی2سال کی فیس بھی معاف کر دی گئی ہے جس کے لیے حکومت کو 2کروڑ30لاکھ 24ہزار روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔

مسلم کانفرنس کی موجودہ برسراقتدار حکومت نے عوام سے کیا گیا یہ وعدہ اور اعلان بھی پورا کر دیا ہے جس کے تحت سکاوٹس کیڈ ٹ کالج کی تعمیر کا کام رواں سال شروع ہو جائے گا۔ عوام کو ارزاں نرخوں پر غلہ سپلائی کرنے کے لیے حکومت نے رواں مالی سال میں 78کروڑ 29لاکھ 38ہزار روپے کی رعایت بھی فراہم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ 11جولائی 2006ء کے تاریخی جمہوری انتخابات کے نتیجہ میں صدرجماعت سردار عتیق احمد خان کی کاوشوں سے آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کو بھرپور عوامی تائید حاصل ہوئی ان آزادانہ ،منصفانہ انتخابات کا اعتراف پوری دنیا نے کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہماری بے مثال کامیابی میں آزاد خطہ کی تعمیر وترقی کا بڑا عمل دخل ہے۔ ان آزادنہ انتخابات کے انعقاد میں ہماری انتظامی مشینری کے ساتھ ساتھ ہماری بہادر مسلح افواج نے امن وامان کو یقینی بنایا۔ عدلیہ نے اسے منصفانہ اورآزادنہ عمل سے انجام کو پہنچایا۔ میں اس موقع کی مناسبت سے سربراہ حکومت قائد جماعت اور قائد ایوان کے ساتھ ساتھ پورے ایوان کو اس امر کا یقین دلاتا ہوں کہ آزاد جموں وکشمیر میں جمہوری عمل کی برکات صرف یہاں تک محدود نہیں رکھی جائیں گی ۔

انشاء اللہ یہ ثمرات لائن آف کنٹرول کے اس پار بھی منتقل کیے جانے کی سیاسی و اخلاقی کاوشیں جاری رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگ دنیا میں کسی بھی خطہ میں آباد ہوں یا پناہ گزین ہوں وہ آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ وہ جموں وکشمیر کے اُس پار یا اس پار ہوں ایک خونی رشتہ میں بندھے ہوئے ہیں۔1954ء سے لے کر سال2005ء تک کے حالات آر پار کے کشمیری خاندانوں کے افراد آپس میں اس طرح نہیں مل سکتے تھے جس طرح آج قدرے فراخدلی کے ساتھ مل رہے ہیں۔

اس کے لیے ہم صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف ،حکومت پاکستان اور وزیر اعظم ہندوستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔راجہ نثار احمد خان نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ریاست کی واحد سیاسی جماعت آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس ،جو کشمیریوں کی تشخص پر ور تاریخ کی شاہد، کشمیریوں کی منزل ساز، شہدائے کشمیر کی امین، اہل کشمیر کی حمیت و غیرت کی نگہبان اور عظمت کے نشان ہیں آزاد جموں وکشمیر کے عوام کو ہر دور میں روشن منزل کی طرف رواں دواں رکھا، قربانیاں پیش کیں ،لازوال اصولوں کو مشعل راہ بنایا، یہ از خود نہیں ہو گیا بلکہ ہمارے سیاسی اکابرین قائد ملت چوہدری غلام عباس مرحوم و مغفور اور مجائد اول سردار محمد عبدالقیوم خان کی سحرانگیز قیادت کے ثمرات ہیں جن کی وجہ سے اہل کشمیر منزل کی جانب رواں دواں رہے۔

رکاوٹیں آئیں تو سر کر دی گئیں۔ حوصلے بڑھتے گئے۔ غیروں کو بھی سینوں سے لگایا گیا۔انہوں نے کہا کہ میں اس موقع پر اہل کشمیر کی ان لازوال قربانیوں کو اس پورے ایوان کی طرف سے خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور ہم ماؤں ،بہنوں ،بیٹیوں ،بیٹوں اور اقرباء کے حوصلوں کی داد دیتے ہیں۔ہم انہیں بیک وقت خراج عقیدت و خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔مجھے احساس ہے کہ ایوان کی آج کی کاروائی باقی دنیا تو دیکھ رہی ہوگی اور سن بھی رہی ہوگی لیکن انہماک سے یہ کاروائی ان لمحات میں مقبوضہ کشمیر میں سنی جا رہی ہے وہ بذات خود ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ آج اس ایوان کے ذریعہ ہم سب ایک ہو کر مقبوضہ کشمیر کے رہنے والے بھائیوں کو یہ پھر سے یقین دلادیں کہ ان کی برحق جدوجہد میں ہر لحاظ سے ان کے ساتھ ہیں۔

کیونکہ ہم سب کی منزل ایک ہے۔یہ فریضہ تاریخ نے اہل کشمیر کو سونپا ہے ان شاء اللہ اس کو خوب نبھائیں گے ۔
انہوں نے کہا کہ تحریک آزاد کشمیر اسوقت انتہائی نازک مرحلہ میں داخل ہو چکی ہے مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان Peace Processو کمپوزٹ ڈائیلاگ کا حصہ بن چکا ہے ۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کا عمل آگے بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔

یہ ان مذاکرات کا ہی نتیجہ ہے کہ آج کشمیری محدود تعداد میں ہی سہی لیکن کم از کم ایک دوسرے کو مل تو رہے ہیں ۔ یہ انٹرا کشمیر اقدامات کا ابتدائی حصہ ہے ۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ حد متارکہ جنگ کو مکمل طور پر کھول دیا جائے ۔ کشمیریوں کی آر پار جانے ، باہمی تجارت کرنے ، ثقافتی ، سیاحتی و تعلیمی وفود کے تبادلہ جات کے وسیع تر مواقع اور سہولتیں فراہم ہونی چائیں ۔

صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم پاکستان شوکت عزیز نے جس دانشمندی اور جرات کے ساتھ کشمیر کی آواز کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر بلند کیا اس کے لیے ہم سب انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے حال ہی میں مسئلہ کشمیر پر ٹھوس پیش رفت کیلئے چار نکاتی فارمولا پیش کیا ۔ جس میں جموں و کشمیر سے افواج کی واپسی اور سیلف گورننس کی تجاویز شامل ہیں ۔

یہ بڑی واضح تجاویز ہیں ان سے مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد ملنے کی نئی تواقعات پیدا ہوئی ہیں ۔ جموں و کشمیر کے دونوں حصوں اور کشمیری مقیم بیرون ملک کی ایک واضح اکثریت نے ان اقدامات کو سراہا ہے ہم بھارتی قیادت سے توقع رکھتے ہی کہ وہ بھی سرکاری طور پر صدر پاکستان کی نئی تجاویز کا مثبت جواب دے گی ۔ تحریک آزادی کشمیرکا یہ نازک مرحلہ اس امر کا متقاضی ہے کہ ان جاری مذاکرات کی فضا ء کا صحیح ادارک ، بیرون دنیا میں بھی ہوتا رہے تا کہ بین الاقوامی برادری کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت کو بھی مجتمع کی جا سکے ۔

یہ بڑی بنیادی بات ہے کہ اس کو کشمیری حکمت عملی کا اہم جزو ہونا چاہیے ۔ چنانچہ ان ہی تقاضوں کے پیش نظر وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے گزشتہ گیارہ ماہ میں متعدد ممالک کے بنفس نفیس دورے کیے وہاں کے لوگوں کے منتخب نمائیندوں ، اداروں ، سفارت کاروں ، دانشوروں اور میڈیا کے ساتھ مضبوط رابطہ بندی کی اورمسئلہ کشمیر کے جملہ پہلوؤں سے انہیں آگاہ کیا ۔

ان دوروں میں بیرون ملک رائے عامہ کو یہ باور کرانے کی کامیاب کوششیں کی گئیں کہ کشمیری عوام دیرینہ مسئلہ کشمیرکا حل مذاکرات کے ذریعہ پرامن طور پر چاہتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے بیلجیم ، فرانس ، سویڈن ، برطانیہ ، امریکہ ، سعودی عرب کے دوروں کے دوران وہاں کی رائے عامہ پر کشمیریوں کے نقطہ نظر کو پوری طرح واضح کیا ۔ آج پوری دنیا بیک آواز کشمیریوں کو جنوبی ایشیائی مذاکرات کے عمل میں شریک دیکھنا چاہتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ماہ ستمبر میں وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے برسلز میں یورپی یونین میں قائم آل پارٹیز کشمیر گروپ اور کشمیر سنٹر برسلز کے اشتراک سے یورپی یونین کی پارلیمنٹ کے اندر منعقدہ گلوبل ڈائیلاگ آن کشمیر جس کا افتتا ح صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے کیا تھا ، سے تاریخی خطاب بھی کیا ۔ فرانس کے سینٹ کے اراکین اور سویڈن کے شاہی خاندان سے ملاقاتیں تحریک کشمیر ہی کے سلسلہ کی اہم کڑیاں تھیں ۔

گزشتہ سال میں 20اور 25ستمبر کو اسلامی وزرائے خارجہ کے کشمیری رابطہ گروپ اور وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس منعقدہ اقوا م متحدہ ، نیویارک میں وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کے مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں پیش کردہ دس کے دس نکات کو وزرائے خارجہ کے اجلاس کی حتمی کاروائی میں سمو دیا گیا ۔ ان تجاویز میں وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر سے کالے قوانین اور انسانی حقوق کی پامالی کے خاتمہ ، بھارتی افواج کی بڑے قصبوں اور دیہاتوں سے انخلاء ، مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں بند ایسے ہزاروں افراد جو ابھی تک Un-attendedپڑے ہوئے ہیں ، کی رہائی ، انٹر ا کشمیر رابطوں میں توسیع ، آر پار تجارت و سیاحت کے فروغ ، مذید رابطہ سڑکوں کو کھولے جانے کی تجویزیں شامل تھیں ۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اسلا م آباد میں منعقدہ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے تین روزہ اجلاس کے اختتام پر کشمیر سے متعلق جن امور کا تذکرہ کیا گیا وہ تقریباً وہی باتیں ہیں جو وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے تقریباً ایک ہفتہ قبل جدہ میں OICکے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران OICکے سیکرٹری جنرل سے زیر گفتگو لا چکے تھے ۔اضافی طور پر سیکرٹری جنرل نے وزیر اعظم کی ان تجاویز سے کہ آزاد کشمیر کے زلزلہ زدہ علاقوں میں ایک OICٹاؤن بنانے اور OICہیڈ کوارٹر میں ایک کشمیر سٹڈی رپوٹنگ سیل قائم کرنے سے اصولی اتفاق کیا تھا ۔

امید ہے کہ اس بارہ میں مزید کاروائی جلد تکمیل پذیر ہو گی ۔OICکے خصوصی نمائندہ برائے کشمیر عزت کامل مفتی کی تقرر ی ایک انتہائی خوش آئیند اقدام ہے ۔ صاحب موصوف اس حیثیت میں پاکستان اور آزاد کشمیر کا دورہ بھی کر چکے ہیں ۔آپ نے خود دوبار سرکاری طور پر اور کئی بار ذاتی طور پر بیرون ملک مختلف اوقات میں دورہ جات کر کے مسئلہ کشمیر کی نئی حقیقتوں اور نزاکتوں سے بین الاقوامی اداروں کو آگاہ کیا ہے ۔

گزشتہ ماہ ایک پارلیمانی وفد بھی جرمنی روانہ کیا گیا جس میں اپوزیشن کے MLAsبھی شامل تھے ۔ آزاد جموں و کشمیر کی مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی مختلف اوقات میں مختلف ممالک کے ذاتی طور پر دورہ جات کر کے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردارادا کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ابھی حال ہی میں یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے ایما ء نکلس رپورٹ کی کچھ ترامیم کے ساتھ منظوری دی ہے ۔

اس میں بعض نکا ت پر ہمیں اعتراض ہے ۔ایماء نکلس کی ذات کو زیر بحث لائے بغیر ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ رپورٹ کے وہ حصے جو جموں و کشمیر کی سماجی ، اخلاقی اور زمینی حقائق سی متصادم ہیں انہیں یورپی پارلیمنٹ کاروائی کیے حصے سے حذف کر دے ۔وزیر خزانہ راجہ نثار نے کہا کہ ہمیں یورپی یونین کا اس بات کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ اس بڑے سیاسی ادارے نے جس میں یورپ کے 27ممالک شامل ہیں از خود مسئلہ کشمیر کو اپنے ایجنڈے پر لایا ہوا ہے ۔

اس سال کے اوائل میں یورپی یونین کے خارجہ امور کے چیئرمین مسٹر ایلمربراک اور وائس چیئرمین مسٹر جمزایلس نے ہمارے وزیر اعظم کی درخواست پر آزاد کشمیر کا دورہ کیا اور ملاقاتیں کیں ۔ وزیراعظم نے بڑے واشگاف الفاظ میں اس موقع پر یورپی یونین کو آزاد کشمیر میں ایک رابطہ دفترقائم کرنے کی تجویز بھی دی تا کہ یورپی یونین از خود حالات و واقعات کا مشاہدہ کرے ۔

ہمارے ہاں کوئی ٹریننگ کیمپ نہیں ہے یہ زلزلہ زدہ علاقہ ہے پوری دنیا اپنی NGOsاور اپنے انسانی ہمدردی کے امدادی ادارو ں کے ذریعے آزاد کشمیر کے چپہ چپہ کا مشاہدہ بھی کر چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سال 2005میں تباہ کن زلزلہ آیا اس میں قیمتی جانی اور مالی نقصان ہوا جس بری طرح معاشی ، معاشرتی ماحول متاثر ہوا وہ ہم سب کے سامنے ہے ۔ قیامت کی اس گھڑی میں جن ممالک اور جن قومی اور بین الاقوامی اداروں نے زلزلہ زدگان کی برق رفتاری سے امداد کی وہ قابل ستائش ہے ۔

افواج پاکستان نے اپنی زندگیاں خطرہ میں ڈالیں ہمارے لوگوں کو بچایا ، دوسری جنگ عظیم کے بعد متاثرین کو جس طرح ہوائی ذرائع سے دیگر محفوظ مقامات اور ہسپتالوں میں منتقل کیا وہ اپنی مثال آپ ہے دنیا نے ہماری افواج اور اداروں کے انتظامی کاموں کا اعتراف کیا ۔ آزاد کشمیر کی اپنی انتظامیہ براہ راست متاثر ہوئی اسے بھی دلخراش مرحلوں سے گزرنا پڑا ۔

اپنے ذاتی غموں پر قابو پاتے ہوئے اپنے ہم وطنو ں کی امدا د کو نہایت پھرتی سے آگے بڑھایا اور بہترین نتائج دکھائے جس کیلئے سب مبارکباد کے مستحق ہیں ۔انہوں نے کہا کہ زلزلہ نے ہمارے لیے جو مسائل پیدا کیے وہ دنوں میں حل ہونے والے نہیں بلکہ یہ کام اپنے حجم اور مطلوبہ وسائل کے لحاظ سے اتنا وسیع ہے کہ اسے تعمیر نو اور بحالی کی صورت میں سمیٹنے کیلئے کئی سال درکار ہوں گے تا ہم اللہ کے فضل و کرم سے اس عظیم خدمت کی ذمہ داری موجودہ حکومت کے حصہ میں آئی ہے ۔

الحمد اللہ سردار عتیق احمد خان کی زیر قیادت موجودہ حکومت اس چیلنج سے عہدہ برآہ ہونے کا پختہ عزم او رصلاحیت رکھتی ہے۔ اس اہم فریضہ کی بجا آوری کے لیے ہمیں حکومت پاکستان اور ERRAکی بھرپور راہنمائی اور امداد کے ساتھ ساتھ غیر ممالک ،اقوام متحدہ کے اداروں/ایجنسیز ،ملکی اور غیر ملکی NGOsاور دیگر بہی خواہوں کا فراخدلانہ تعاون حاصل ہے۔ اس حوصلہ افراء مالی فنی اور مادی تعاون سے ہم تعمیر نو اور بحالی جیسے کٹھن پروگرا م کے لیے نہایت جامع منصوبہ بندی کے ساتھ عملدرآمد پر گامزن ہو چکے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پرعزم ہیں اور جلد بتدریج بہترین نتائج کے لیے پرُ امیدہیں ۔


راجہ نثار احمد خان نے کہا کہ متاثرین کی آبادکاری اور امداد کے علاوہ آزاد کشمیر کے شمالی متاثرہ اضلاع مظفرآباد نیلم،باغ،راولاکوٹ اور سدھنوتی میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کے نقصانات کا تخمینہ ایک کھرب پچیس ارب تیس لاکھ روپے لگایا گیا ہے جس میں پبلک سیکٹر کی بحالی و تعمیر نو پر 64ارب32کروڑ 80لاکھ روپے جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کے لیے60ارب87کروڑ 50لاکھ روپے کے اخراجات ہوں گے۔

زلزلہ کے متاثرین کی بحالی میں انہیں مکانات کی تعمیر ،شہداء کے ورثاء اور زخمی ہونے والے متاثرین کو مجموعی طور پر 40ارب02کروڑ 10لاکھ روپے کی ادائیگی ہو چکی ہے۔ موجودہ حکومت کی کاوشوں سے ہی ایک سے زیادہ اموات کی صورت میں فی شہید معاوضہ کی ادائیگی اور متاثرین کے لیے Livelihood Cash Grantکے طور پر خطیر رقم کی ادائیگی ممکن ہوئی ہے۔ اسطرح اب تک ریلیف کے سلسلہ میں شہداء /زخمی ہونے والے افراد کے لواحقین کو 5ارب25کروڑروپے کی معاونتLivelihood Cash Grantکے تحت 2ارب50کروڑ کی رقم تقسیم اور مکانات کی تعمیر کے لیے32ارب27کروڑ روپے کی مالی امداد دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر حقیقی معنوں میں آزا دکشمیر کی تعمیر وترقی ،کشمیر کے جغرافیائی حس کے مطابق سرسبز ہی نہیں بلکہ خود انحصار و ہنر مند کشمیر کا عملی نمونہ بنانے کے خواہش مند ہیں۔ آزا د کشمیر میں چائے کی کاشت کے لیے عملی اقدامات سے آزا دکشمیر کے لوگوں کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔راجہ نثار احمد خان نے مزید کہا کہ بجٹ کسی بھی حکومت کی طرف سے محض اعداد وشمار کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ یہ حکومت کے پیش کنندہ کے نصب العین ،عوامی ترجیحات ،ترقیاتی اہداف ،مستقبل کا عکاس اور ماضی کے تجربات پر مبنی ایک سماجی،سیاسی اور معاشی دستاویز ہوا کرتا ہے۔

ہمارا یہ بجٹ ان تمام امور پر محیط ہے۔ یہ بجٹ جہاں آزاد کشمیر کے عوام کو جدید سہولتیں فراہم کرے گا وہاں تعمیروترقی کی نئی راہیں بھی متعین کرے گا اور تحریک کشمیر کو بھی تقویت ملے گی۔اس موقع پر وزیر خزانہ راجہ نثار احمد نے رواں مالی سال کا نظر ثانی میزانیہ بھی ایوان میں پیش کیا۔
21/06/2007 - 12:15:44 :وقت اشاعت