سندھ حکومت کا ڈاکٹر ضیاء الدین یونیورسٹی کراچی کی انتظامیہ کو جگر کی پیوندکاری کے ہسپتال کے قیام کیلئے30ملین روپے کا فنڈ دینے کا اعلان

صحت کے نجی شعبے کے دیگر ادارے بھی جگر کی بیماریوں کے سستے معیاری علاج اور جگر کی پیوندکاری کیلئے آگے بڑھیں، کانووکیشن سے خطاب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین 22اپریل۔2015ء) وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ھیپاٹائیٹس بی اور سی (یرقان) کی بڑھتی ہوئی بیماری اور صوبہ سندھ میں جگر کی پیوندکاری کی سہولیات نہ ہونے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر ضیاء الدین یونیورسٹی کراچی کی انتظامیہ کو جگر کی پیوندکاری کے ہسپتال کے قیام کیلئے30- ملین روپے کا فنڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے صحت کے نجی شعبے کے دیگر اداروں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ جگر کی بیماریوں کے سستے اور معیاری علاج اور جگر کی پیوندکاری کیلئے آگے بڑھیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاکٹر ضیاء الدین یونیورسٹی کراچی کے ایکسپو سینٹر میں منعقد کانووکیشن 2015میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانووکیشن کو خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس وقت غریب مریض جگر کی پیوندکاری کیلئے بھارت یا دیگر ممالک میں مہنگا علاج کرانے پر مجبور ہیں، ہماری حکومت نے پہلے ہی سندھ میں جگر کی پیوندکاری کے ہسپتال کے قیام کیلئے معروف اداروں سے رابطہ کر رکھا ہے، تاہم حکومت سندھ صوبے بھر میں ایسی سہولیات میں اضافہ کی خواہاں ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ سندھ نے ڈاکٹر ضیاء الدین ہسپتال کی انتظامیہ کو جگر کی پیوندکاری کا ہسپتال قائم کرنے کیلئے کہا جس کیلئے حکومت سندھ ابتدائی طور پر 50- ملین روپے کا فنڈ فراہم کریگی جبکہ مزید رقم کام کے آغاز کے بعد دی جائیگی۔انہوں نے میڈیکل کے شعبے میں دیگر نجی اداروں کیلئے بھی اس سلسلے میں ہمت افزائی اور مراعات کا اعلان بھی کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جب 2008میں پی پی حکومت اقتدار میں آئی توبلاوجہ ڈاکٹرز کی 15- سو آسامیاں خالی پڑی تھیں،باالخصوص اس وقت جب سندھ کے دیہی علاقوں میں ہیلتھ سروسز کی انتہائی ضرورت تھی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے نہ صرف ان آسامیوں پر 15- سو ڈاکٹرز بھرتی کئے بلکہ مزید 5- سو ڈاکٹرز مقرر کئے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری شعبے کی ہسپتالوں میں طبی سہولیات کو بہترکرنے کیلئے مزید 7- سو ڈاکٹرز بھرتی کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ضلع تھرپارکر میں 75- ڈاکٹر بھرتی کئے ہیں اس کے علاوہ کئی ماہر ڈاکٹرز بھی وہاں تعینات کئے ہیں، اس وقت مٹھی ہسپتال سندھ کے بہترین اور جدید سہولتوں سے آراستہ ہسپتال ہے، جہاں ہر شعبے کے ماہر ڈاکٹرز موجود ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ڈاکٹرز کی ڈگری حاصل کرنا مشکل کام ہے، تاہم ڈاکٹرز کیلئے اصل چیلنج تعلیم کی تکمیل کے بعد شروع ہوتا ہے، ڈاکٹرز کو انسانیت کی بلاتفریق خدمت کرنی ہوتی ہے۔انہوں نے ڈاکٹرز پر زور دیا کہ وہ دل جمعی اور محنت کے ساتھ غریب اور نادار مریضوں کی خدمت کریں۔انہوں نے کہا کہ غربت اور صحت کے مسائل ہمارے معاشرے میں بڑا چئلینج ہیں اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی ہم انکو حل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ضیاء الدین یونیورسٹی اپنی پیشورانہ استعدادکار اور معیاری تعلیم کے ذریعے عوامی امنگوں پر پورا اترے گی۔انہوں نے ڈاکٹر عاصم حسین اور انکے آباؤ اجداد کی صحت اور تعلیم کیلئے خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ڈاکٹر ضیاء الدین یونیورسٹی کے وائیس چانسلر اور سندھ ھائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عاصم حسین نے اپنے خطاب میں ماڈل یونیورسٹی ایجوکیشن اور جدید خطوط پر تربیتی نظام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں وطن عزیز پاکستان کے مثبت وژن کیلئے تعلیم کی ضرورت ہے، جس کیلئے ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو نئے خطوط پر استوار کرنا ہوگا،انہوں نے پرائمری سطح سے تعلیمی نصاب پر نظرثانی اور18ویں آئینی ترمیم کے بعد اپنا ریگیولیٹری ادارہ قائم کرنا چاہیے،انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ضیاء الدین یونیورسٹی کا قیام 1996ء میں 42طلبا ء سے ہوا اور اب اس میں 2- ہزار طلبا ء زیر تعلیم ہیں اور اس یونیورسٹی میں مختلف فیکلٹیز اور کالیجز ہیں،انہوں نے کہا کہ غریب اور نادار لوگوں کی خدمت کیلئے نیشنل ھائی وے پر 200بستروں پر مشتمل ہسپتال قائم کیا جا رہا ہے، جس کیلئے زمین پہلے ہی حاصل کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں سکھر میں 42-ایکڑ اور اسلام آباد میں 115کینال زمین طبی سہولیات کیلئے خریدی گئی ہے، سابق گورنر سندھ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے اپنے خطاب میں مرحوم ڈاکٹر ضیاء الدین کی تعلیم ،صحت اورسیاست کے شعبے میں خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ضیاء الدین نے علی گڑھ یونیورسٹی کے وائیس چانسلر کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دیئے اورجہاں سے معروف مسلم رہنماؤں نے تعلیم حاصل کی۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر ضیاء الدین نہ صرف پارلیامینٹرین رہے بلکہ ان کا شمار بانی پاکستان قائدا عظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی تسلی بخش بات ہے کہ انکے خاندان نے اپنا مشن پاکستان میں بھی جاری رکھا ہواہے،اس موقعے پر یونیورسٹی کے وائیس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قاسم رضا پیرزادہ نے بھی خطاب کیا۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کامیاب امیدواروں میں اسناد تقسیم کیں اور ڈاکٹر عامرہ حسن ،ڈاکٹر انیتا،ڈاکٹر علی سلیم،ڈاکٹر ھما ندیم،ثانیہ،فریدہ اور آصفہ کو ڈاکٹر ضیاء الدین گولڈ میڈل سے نوازہ۔یونیورسٹی کانووکیشن میں 378گریجوئیٹ، پوسٹ گریجوئیٹ اور ڈپلومہ ہولڈر طلبا کو ڈگری دی گئی جس کے بعد تمام طلباؤ نے مشترکہ طور پر انسانیت اور ملک کی بلاتفریق خدمات کرنے کا حلف اٹھایا۔

Your Thoughts and Comments