یمن کے ہوائی اڈوں پر بمباری روکی جائے‘فضائی حملوں نے رن ویز کو تباہ کر کے ناقابل استعمال بنا دیا ‘ائر پورٹ تک رسائی کے بغیر امدادی تنظیمیں اپنا عملہ، ضروری ادویات اور زندگی بچانے والی دوسری اہم امداد لاسکتی ہیں نہ ہی کارکنوں کا انخلا ممکن ہے

یمن میں اقوام متحدہ کے ریلیف کوآرڈینیٹر جوہانس وین ڈیر کلاو کا بیان

نیو یارک(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 05 مئی۔2015ء) اقوامِ متحدہ نے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ یمن کے مرکزی ائرپورٹ پر حملے روک دیے جائیں کیونکہ فضائی حملوں نے رن ویز کو تباہ کر کے ناقابل استعمال بنا دیا ہے۔ یمن میں اقوام متحدہ کے ریلیف کوآرڈینیٹر جوہانس وین ڈیر کلاو نے کہا ہے کہ ائر پورٹ تک رسائی کے بغیر امدادی تنظیمیں اپنا عملہ، ضروری ادویات اور زندگی بچانے والی دوسری اہم امداد نہیں لا سکتیں اور اپنے کارکنوں کا انخلا نہیں کر سکتیں۔

انہوں نے صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سمیت ملک کے تمام ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو جان بچانے والی اہم "رسی" قرار دیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ کئی ہفتے کے دوران سعودی عرب کی قیادت میں پورے یمن کے ہوائی اڈوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

(جاری ہے)

ان حملوں میں شیعہ حوثی باغیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو جلا وطن صدر عبدالربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے خلاف شدید جنگ میں مصروف ہیں۔

دریں اثنا، امریکی وزیر خارجہ جان کیری سعودی قیادت سے صلاح مشورے کے لیے بدھ اور جمعرات کو ریاض کا دورہ کریں گے۔ امریکہ یمن میں ’’انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر جنگ میں توقف‘‘ کے لیے کوششیں کر رہا ہے جس دوران نہایت ضروری خوراک، ایندھن اور دوسرا امدادی سامان ملک میں لایا جا سکے اور سب سے زیادہ ضروری مقامات تک پہنچایا جا سکے۔

سعودی وزیرِ خارجہ عبد الجبیر نے پیر کو کہا کہ اتحادی ممالک امداد کی ترسیل ممکن بنانے کے لیے جنگ بندی پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ جان کیری ریاض دورے کے بعد سعودی عرب اور دوسری خلیجی ریاستوں کے عہدیداروں کے ساتھ پیرس میں بات چیت کریں گے۔ یمن میں اقوام متحدہ کے کارکنوں نے کہا ہے کہ انہوں نے ایندھن کی کمی کے باعث کچھ اضلاع میں غذائی امداد معطل کر دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتحادی افواج کی جانب سے حوثیوں پر فضائی حملوں سے پیدا ہونے والا عدم تحفظ بھی ان کے لیے رکاوٹ کا باعث ہے۔

Your Thoughts and Comments