دبئی پولیس کی بڑی کارروائی‘ 500 کلو گرام کوکین اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی

خطے میں منشیات کے خلاف سب سے بڑی کارروائی کے دوران قبضے میں لی گئی منشیات کی مالیت 50 کروڑ اماراتی درہم اور پاکستانی کرنسی میں 23 ارب روپے سے زیادہ بتائی گئی، منشیات مال بردار کنٹینر کے پینل میں چھپا کر لائی گئی

Sajid Ali ساجد علی پیر 11 اکتوبر 2021 10:44

دبئی پولیس کی بڑی کارروائی‘ 500 کلو گرام کوکین اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی
دبئی ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ 11 اکتوبر 2021ء ) دبئی پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 500 کلو گرام کوکین اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ، منشیات مال بردار کنٹینر کے پینل میں چھپا کر لائی گئی، جس کی مالیت 50 کروڑ اماراتی درہم اور پاکستانی کرنسی میں 23 ارب روپے سے زیادہ بتائی گئی، منشیات فروشی میں ملوث عالمی گروہ کے کارندے کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں دبئی پولیس کی جانب سے 500 کلو گرام کوکین اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنائی گئی ہے ، منشیات کی مالیت 50 کروڑ اماراتی درہم اور پاکستانی کرنسی میں 23 ارب روپے سے زیادہ بتائی گئی ہے ، پولیس فورس کی جانب سے مذکورہ کارروائی کو خطے میں منشیات کے خلاف سب سے بڑی کارروائی قرار دیا گیا ہے ، منشیات فروشی میں ملوث عالمی گروہ کے کارندے کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔

(جاری ہے)


پولیس حکام نے بتایا ہے کہ منشیات کی بھاری مقدار مال بردار کنٹینر کے پینل میں چھپا کر لائی گئی ، جس کی دبئی بندر گاہ آمد کے حوالے سے پولیس کو خفیہ اطلاع موصول ہونے پر پولیس نے اپنی ٹیموں کو خصوصی ٹاسک سونپا اور کنٹینر کے پہنچنے پر حکام نے فوری طور پر اسے قبضے میں لے کر امارات کے ایک گودام میں پہنچا دیا ، حکام نے ملزم کی ریکی کی تو معلوم ہوا کہ ملزم کو گرائینڈر سمیت بجلی کے اوزار خریدتے دیکھا گیا ، جب اس کا پیچھا کیا گیا تو پتا چلا کہ ملزم نے اوزاروں سے کنٹینر کو کھولنے کا پلان بنایا تھا۔

اس حوالے سے محکمہ انسداد منشیات کے جنرل ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کرنل خالد بن معیز نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنانے کی اس کارروائی کو ’آپریشن بچھو‘ کا نام دیا گیا ، پولیس نے گودام پرچھاپہ مارا اوراس مشتبہ شخص کو رنگے ہاتھوں پکڑ کر منشیات قبضے میں لے لی تاہم ملزم کی شناخت ابھی ظاہر نہیں کی گئی لیکن ملزم کا تعلق مشرقِ وسطیٰ سے بتایاگیا ہے۔

دبئی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments