Open Menu

Sahih Bukhari Hadith 3845 - Read Hadith in Arabic with English/Urdu Translation

Read the complete Sahih Bukhari Hadith 3845 at UrduPoint with English and Urdu Translation. Hadith 3845 of Sahih Bukhari is narrated by Imam Bukhari in the Chapter The Merits Of Al-ansar. You can read the original Sahih Bukhari 3845 Hadith in Arabic on this page and its translation in Urdu and English to understand its meaning.

  • Hadith No 3845
  • Book Name Sahih Bukhari
  • Chapter Name The Merits Of Al-ansar
  • Writer Imam Bukhari
  • Writer Death 256 ھ
Urdu Hadith English Hadith Arabic Hadith

Sahih Bukhari Hadith 3845 in Urdu

Read Hadith 3845 of Sahih Bukhari in Urdu Translation narrated by Imam Bukhari in Chapter The Merits Of Al-ansar of Sahih Bukhari at UrduPoint. The following is the complete Sahih Bukhari Hadith 3845 Urdu Translation.

´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے قطن ابوالہیثم نے کہا، ہم سے ابویزید مدنی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا` جاہلیت میں سب سے پہلا قسامہ ہمارے ہی قبیلہ بنو ہاشم میں ہوا تھا، بنو ہاشم کے ایک شخص عمرو بن علقمہ کو قریش کے کسی دوسرے خاندان کے ایک شخص (خداش بن عبداللہ عامری) نے نوکری پر رکھا، اب یہ ہاشمی نوکر اپنے صاحب کے ساتھ اس کے اونٹ لے کر شام کی طرف چلا وہاں کہیں اس نوکر کے پاس سے ایک دوسرا ہاشمی شخص گزرا، اس کی بوری کا بندھن ٹوٹ گیا تھا۔ اس نے اپنے نوکر بھائی سے التجا کی میری مدد کر اونٹ باندھنے کی مجھے ایک رسی دیدے، میں اس سے اپنا تھیلا باندھوں اگر رسی نہ ہو گی تو وہ بھاگ تھوڑے جائے گا۔ اس نے ایک رسی اسے دے دی اور اس نے اپنی بوری کا منہ اس سے باندھ لیا (اور چلا گیا)۔ پھر جب اس نوکر اور صاحب نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا تو تمام اونٹ باندھے گئے لیکن ایک اونٹ کھلا رہا۔ جس صاحب نے ہاشمی کو نوکری پر اپنے ساتھ رکھا تھا اس نے پوچھا سب اونٹ تو باندھے، یہ اونٹ کیوں نہیں باندھا گیا کیا بات ہے؟ نوکر نے کہا اس کی رسی موجود نہیں ہے۔ صاحب نے پوچھا کیا ہوا اس کی رسی؟ اور غصہ میں آ کر ایک لکڑی اس پر پھینک ماری اس کی موت آن پہنچی۔ اس کے (مرنے سے پہلے) وہاں سے ایک یمنی شخص گزر رہا تھا۔ ہاشمی نوکر نے پوچھا کیا حج کے لیے ہر سال تم مکہ جاتے ہو؟ اس نے کہا ابھی تو ارادہ نہیں ہے لیکن میں کبھی جاتا رہتا ہوں۔ اس نوکر نے کہا جب بھی تم مکہ پہنچو کیا میرا ایک پیغام پہنچا دو گے؟ اس نے کہا ہاں پہنچا دوں گا۔ اس نوکر نے کہا کہ جب بھی تم حج کے لیے جاؤ تو پکارنا: اے قریش کے لوگو! جب وہ تمہارے پاس جمع ہو جائیں تو پکارنا: اے بنی ہاشم! جب وہ تمہارے پاس آ جائیں تو ان سے ابوطالب پوچھنا اور انہیں بتلانا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک رسی کے لیے قتل کر دیا۔ اس وصیت کے بعد وہ نوکر مر گیا، پھر جب اس کا صاحب مکہ آیا تو ابوطالب کے یہاں بھی گیا۔ جناب ابوطالب نے دریافت کیا ہمارے قبیلہ کے جس شخص کو تم اپنے ساتھ نوکری کے لیے لے گئے تھے اس کا کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ وہ بیمار ہو گیا تھا میں نے خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی (لیکن وہ مر گیا تو) میں نے اسے دفن کر دیا۔ ابوطالب نے کہا کہ اس کے لیے تمہاری طرف سے یہی ہونا چاہئے تھا۔ ایک مدت کے بعد وہی یمنی شخص جسے ہاشمی نوکر نے پیغام پہنچانے کی وصیت کی تھی، موسم حج میں آیا اور آواز دی: اے قریش کے لوگو! لوگوں نے بتا دیا کہ یہاں ہیں قریش اس نے آواز دی، اے بنو ہاشم! لوگوں نے بتایا کہ بنو ہاشم یہ ہیں اس نے پوچھا ابوطالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا تو اس نے کہا کہ فلاں شخص نے مجھے ایک پیغام پہنچانے کے لیے کہا تھا کہ فلاں شخص نے اسے ایک رسی کی وجہ سے قتل کر دیا ہے۔ اب جناب ابوطالب اس صاحب کے یہاں آئے اور کہا کہ ان تین چیزوں میں سے کوئی چیز پسند کر لو اگر تم چاہو تو سو اونٹ دیت میں دے دو کیونکہ تم نے ہمارے قبیلہ کے آدمی کو قتل کیا ہے اور اگر چاہو تو تمہاری قوم کے پچاس آدمی اس کی قسم کھا لیں کہ تم نے اسے قتل نہیں کیا۔ اگر تم اس پر تیار نہیں تو ہم تمہیں اس کے بدلے میں قتل کر دیں گے۔ وہ شخص اپنی قوم کے پاس آیا تو وہ اس کے لیے تیار ہو گئے کہ ہم قسم کھا لیں گے۔ پھر بنو ہاشم کی ایک عورت ابوطالب کے پاس آئی جو اسی قبیلہ کے ایک شخص سے بیاہی ہوئی تھی اور اپنے اس شوہر سے اس کا بچہ بھی تھا۔ اس نے کہا: اے ابوطالب! آپ مہربانی کریں اور میرے اس لڑکے کو ان پچاس آدمیوں میں معاف کر دیں اور جہاں قسمیں لی جاتی ہیں (یعنی رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان) اس سے وہاں قسم نہ لیں۔ ابوطالب نے اسے معاف کر دیا۔ اس کے بعد ان میں کا ایک اور شخص آیا اور کہا: اے ابوطالب! آپ نے سو اونٹوں کی جگہ پچاس آدمیوں سے قسم طلب کی ہے، اس طرح ہر شخص پر دو دو اونٹ پڑتے ہیں۔ یہ دو اونٹ میری طرف سے آپ قبول کر لیں اور مجھے اس مقام پر قسم کھانے کے لیے مجبور نہ کریں جہاں قسم لی جاتی ہے۔ ابوطالب نے اسے بھی منظور کر لیا۔ اس کے بعد بقیہ جو اڑتالیس آدمی آئے اور انہوں نے قسم کھائی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ابھی اس واقعہ کو پورا سال بھی نہیں گزرا تھا کہ ان اڑتالیس آدمیوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں رہا جو آنکھ ہلاتا۔

Sahih Bukhari Hadith 3845 in English

Read Hadith 3845 of Sahih Bukhari in English Translation narrated by Imam Bukhari in Chapter The Merits Of Al-ansar of Sahih Bukhari at UrduPoint. The following is the complete Sahih Bukhari Hadith 3845 English Translation.

Narrated Ibn `Abbas: The first event of Qasama in the pre-lslamic period of ignorance was practiced by us (i.e. Banu Hashim). A man from Banu Hashim was employed by a Quraishi man from another branch-family. The (Hashimi) laborer set out with the Quraishi driving his camels. There passed by him another man from Banu Hashim. The leather rope of the latter's bag had broken so he said to the laborer, "Will you help me by giving me a rope in order to tie the handle of my bag lest the camels should run away from me?" The laborer gave him a rope and the latter tied his bag with it. When the caravan halted, all the camels' legs were tied with their fetters except one camel. The employer asked the laborer, "Why, from among all the camels has this camel not been fettered?" He replied, "There is no fetter for it." The Quraishi asked, "Where is its fetter?" and hit the laborer with a stick that caused his death (later on Just before his death) a man from Yemen passed by him. The laborer asked (him), "Will you go for the pilgrimage?" He replied, "I do not think I will attend it, but perhaps I will attend it." The (Hashimi) laborer said, "Will you please convey a message for me once in your life?" The other man said, "yes." The laborer wrote: 'When you attend the pilgrimage, call the family of Quraish, and if they respond to you, call the family of Banu Hashim, and if they respond to you, ask about Abu Talib and tell him that so-and-so has killed me for a fetter." Then the laborer expired. When the employer reached (Mecca), Abu Talib visited him and asked, "What has happened to our companion?" He said, "He became ill and I looked after him nicely (but he died) and I buried him." Then Abu Talib said, "The deceased deserved this from you." After some time, the messenger whom the laborer has asked to convey the message, reached during the pilgrimage season. He called, "O the family of Quraish!" The people replied, "This is Quraish." Then he called, "O the family of Banu Hashim!" Again the people replied, "This is Banu Hashim." He asked, "Who is Abu Talib?" The people replied, "This is Abu Talib." He said, "'So-and-so has asked me to convey a message to you that so-and-so has killed him for a fetter (of a camel)." Then Abu Talib went to the (Quraishi) killer and said to him, "Choose one of three alternatives: (i) If you wish, give us one-hundred camels because you have murdered our companion, (ii) or if you wish, fifty of your men should take an oath that you have not murdered our companion, and if you do not accept this, (iii) we will kill you in Qisas." The killer went to his people and they said, "We will take an oath." Then a woman from Banu Hashim who was married to one of them (i.e.the Quraishis) and had given birth to a child from him, came to Abu Talib and said, "O Abu Talib! I wish that my son from among the fifty men, should be excused from this oath, and that he should not take the oath where the oathtaking is carried on." Abu Talib excused him. Then another man from them came (to Abu Talib) and said, "O Abu Talib! You want fifty persons to take an oath instead of giving a hundred camels, and that means each man has to give two camels (in case he does not take an oath). So there are two camels I would like you to accept from me and excuse me from taking an oath where the oaths are taken. Abu Talib accepted them from him. Then 48 men came and took the oath. Ibn `Abbas further said:) By Him in Whose Hand my life is, before the end of that year, none of those 48 persons remained alive.

Sahih Bukhari Hadith 3845 in Arabic

Read Hadith 3845 of Sahih Bukhari narrated by Imam Bukhari in Chapter The Merits Of Al-ansar of Sahih Bukhari at UrduPoint. The following is the complete Sahih Bukhari Hadith 3845.

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا قَطَنٌ أَبُو الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ قَسَامَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَفِينَا بَنِي هَاشِمٍ كَانَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ اسْتَأْجَرَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ فَخِذٍ أُخْرَى , فَانْطَلَقَ مَعَهُ فِي إِبِلِهِ , فَمَرَّ رَجُلٌ بِهِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ قَدِ انْقَطَعَتْ عُرْوَةُ جُوَالِقِهِ ، فَقَالَ : أَغِثْنِي بِعِقَالٍ أَشُدُّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِي لَا تَنْفِرُ الْإِبِلُ , فَأَعْطَاهُ عِقَالًا فَشَدَّ بِهِ عُرْوَةَ جُوَالِقِهِ , فَلَمَّا نَزَلُوا عُقِلَتِ الْإِبِلُ إِلَّا بَعِيرًا وَاحِدًا ، فَقَالَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ : مَا شَأْنُ هَذَا الْبَعِيرِ لَمْ يُعْقَلْ مِنْ بَيْنِ الْإِبِلِ ، قَالَ : لَيْسَ لَهُ عِقَالٌ ، قَالَ : فَأَيْنَ عِقَالُهُ ؟ قَالَ : فَحَذَفَهُ بِعَصًا كَانَ فِيهَا أَجَلُهُ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فَقَالَ : أَتَشْهَدُ الْمَوْسِمَ ؟ قَالَ : مَا أَشْهَدُ وَرُبَّمَا شَهِدْتُهُ ، قَالَ : هَلْ أَنْتَ مُبْلِغٌ عَنِّي رِسَالَةً مَرَّةً مِنَ الدَّهْرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَكَتَبَ إِذَا أَنْتَ شَهِدْتَ الْمَوْسِمَ فَنَادِ يَا آلَ قُرَيْشٍ فَإِذَا أَجَابُوكَ فَنَادِ يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَسَلْ عَنْ أَبِي طَالِبٍ فَأَخْبِرْهُ أَنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي فِي عِقَالٍ وَمَاتَ الْمُسْتَأْجَرُ , فَلَمَّا قَدِمَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ أَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ صَاحِبُنَا ؟ قَالَ : مَرِضَ فَأَحْسَنْتُ الْقِيَامَ عَلَيْهِ فَوَلِيتُ دَفْنَهُ ، قَالَ : قَدْ كَانَ أَهْلَ ذَاكَ مِنْكَ فَمَكُثَ حِينًا , ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي أَوْصَى إِلَيْهِ أَنْ يُبْلِغَ عَنْهُ وَافَى الْمَوْسِمَ ، فَقَالَ : يَا آلَ قُرَيْشٍ ، قَالُوا : هَذِهِ قُرَيْشٌ ، قَالَ : يَا آلَ بَنِي هَاشِمٍ ، قَالُوا : هَذِهِ بَنُو هَاشِمٍ ، قَالَ : أَيْنَ أَبُو طَالِبٍ ؟ قَالُوا : هَذَا أَبُو طَالِبٍ ، قَالَ : أَمَرَنِي فُلَانٌ أَنْ أُبْلِغَكَ رِسَالَةً أَنَّ فُلَانًا قَتَلَهُ فِي عِقَالٍ , فَأَتَاهُ أَبُو طَالِبٍ ، فَقَالَ : لَهُ اخْتَرْ مِنَّا إِحْدَى ثَلَاثٍ إِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤَدِّيَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ فَإِنَّكَ قَتَلْتَ صَاحِبَنَا وَإِنْ شِئْتَ حَلَفَ خَمْسُونَ مِنْ قَوْمِكَ إِنَّكَ لَمْ تَقْتُلْهُ , فَإِنْ أَبَيْتَ قَتَلْنَاكَ بِهِ فَأَتَى قَوْمَهُ ، فَقَالُوا : نَحْلِفُ , فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ كَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْهُمْ قَدْ وَلَدَتْ لَهُ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا طَالِبٍ أُحِبُّ أَنْ تُجِيزَ ابْنِي هَذَا بِرَجُلٍ مِنَ الْخَمْسِينَ وَلَا تُصْبِرْ يَمِينَهُ حَيْثُ تُصْبَرُ الْأَيْمَانُ , فَفَعَلَ , فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَقَالَ : يَا أَبَا طَالِبٍ أَرَدْتَ خَمْسِينَ رَجُلًا أَنْ يَحْلِفُوا مَكَانَ مِائَةٍ مِنَ الْإِبِلِ يُصِيبُ كُلَّ رَجُلٍ بَعِيرَانِ , هَذَانِ بَعِيرَانِ فَاقْبَلْهُمَا عَنِّي وَلَا تُصْبِرْ يَمِينِي حَيْثُ تُصْبَرُ الْأَيْمَانُ , فَقَبِلَهُمَا وَجَاءَ ثَمَانِيَةٌ وَأَرْبَعُونَ فَحَلَفُوا ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا حَالَ الْحَوْلُ وَمِنَ الثَّمَانِيَةِ وَأَرْبَعِينَ عَيْنٌ تَطْرِفُ " .

Who narrated Sahih Bukhari Hadith 3845?

Imam Bukhari narrated Hadith 3845 of Sahih Bukhari.

What is the topic of Sahih Bukhari Hadith 3845?

Hadith 3845 of Sahih Bukhari discusses about the The Merits Of Al-ansar.

Where can we read the complete Hadith 3845 of Sahih Bukhari?

You can read the complete Hadith 3845 of Sahih Bukhari in Arabic with Urdu and English translation at UrduPoint.

More Hadiths From : Sahih Bukhari - The Book Of The Merits Of Al-ansar

حدیث نمبر 3875

´ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ` (ابتداء اسلام میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور ہم آپ کو سلام کرتے تو آپ نماز ہی میں جواب عنایت فرماتے تھے۔ لیکن جب ہم نجاشی کے ملک حبشہ سے واپس مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3782

´ہم سے ابوہمام صلت بن محمد نے بیان کیا کہا میں نے مغیرہ بن عبدالرحمٰن سے سنا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` انصار نے کہا: یا رسول اللہ! کھجور کے باغات ہمارے اور مہاجرین کے درمیان تقسیم فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایسا نہیں کروں گا اس پر انصار نے (مہاجرین ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3867

´مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے قیس نے، کہا کہ میں نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا` انہوں نے مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا ایک وقت تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ جب اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے تو مجھے اور اپنی بہن کو اس لیے باندھ رکھا تھا کہ ہم اسلام کیوں لائے اور آج تم نے جو کچھ عثمان ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3832

´ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` زمانہ جاہلیت میں لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا بہت بڑا گناہ خیال کرتے تھے۔ وہ محرم کو صفر کہتے۔ ان کے ہاں یہ مثل تھی کہ اونٹ کی پیٹھ کا زخم جب اچھا ہونے لگے اور (حاجیوں کے) ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3917

´ہم سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ ان سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن یوسف نے، ان سے ان کے والد یوسف بن اسحاق نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا کہ` میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے حدیث سنی وہ بیان کرتے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عازب رضی اللہ عنہ سے ایک پالان خریدا اور میں ان کے ساتھ اٹھا کر پہنچانے لایا تھا۔ انہوں نے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3821

´اور اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، انہیں علی بن مسہر نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہالہ بنت خویلد نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اجازت لینے ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3890

´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ عمرو بن دینار کہا کرتے تھے کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ` میرے دو ماموں مجھے بھی بیعت عقبہ میں ساتھ لے گئے تھے۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے کہا کہ ابن عیینہ نے بیان کیا ان میں سے ایک براء بن معرور رضی اللہ عنہ تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3865

´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمرو بن دینار سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` جب عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو لوگ ان کے گھر کے قریب جمع ہو گئے اور کہنے لگے کہ عمر بےدین ہو گیا ہے۔ میں ان دنوں بچہ تھا اور اس وقت اپنے گھر کی چھت پر چڑھا ہوا تھا۔ اچانک ایک ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3808

´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی مجلس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا کہ` اس وقت سے ان کی محبت میرے دل میں بیٹھ گئی جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ قرآن ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3872

´ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ ہم سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبر دی، انہیں مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث ان دونوں نے عبیداللہ بن عدی بن خیار سے کہا کہ` تم اپنے ماموں (امیرالمؤمنین) عثمان رضی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3841

´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے سچی بات جو کوئی شاعر کہہ سکتا تھا وہ لبید شاعر نے کہی ہاں اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔ اور امیہ بن ابی الصلت ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3938

´مجھ سے حامد بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے، ان سے حمید طویل نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ` جب عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آنے کی خبر ہوئی تو وہ آپ سے چند سوال کرنے کے لیے آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ سے تین چیزوں کے متعلق پوچھوں گا جنہیں نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3901

´مجھ سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہشام نے بیان کیا کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` اے اللہ! تو جانتا ہے کہ اس سے زیادہ مجھے اور کوئی چیز پسندیدہ نہیں کہ تیرے راستے میں، میں اس قوم سے جہاد کروں جس نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3870

´ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے بکر بن مضر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عراک بن مالک نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بلا شک و شبہ چاند پھٹ گیا تھا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3802

´مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا مجھ سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ میں ایک ریشمی حلہ آیا تو صحابہ اسے چھونے لگے اور اس کی نرمی اور نزاکت پر تعجب کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3902

´ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے روح نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں رسول بنایا گیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک وحی آتی رہی اس کے بعد آپ کو ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3801

´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار میرے جسم و جان ہیں، ایک دور آئے گا کہ دوسرے لوگ تو بہت ہو جائیں گے، لیکن انصار کم رہ جائیں گے، اس لیے ان کے نیکو کاروں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3851

´ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا ان سے ہشام نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس سال کی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال مکہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3900

´مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ` عبید بن عمیر لیثی کے ساتھ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہم نے ان سے فتح مکہ کے بعد ہجرت کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مسلمان اپنے دین کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف عہد کر کے آتا تھا۔ اس خطرہ کی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 3921

´ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنوکلب کی ایک عورت ام بکر نامی سے شادی کر لی تھی۔ پھر جب انہوں نے ہجرت کی تو اسے طلاق دے آئے۔ اس عورت سے پھر اس کے چچا زاد بھائی (ابوبکر شداد بن اسود) ..مکمل حدیث پڑھیئے