Sahih Bukhari Hadees Number 4757 - Chapter 65 - Chapter Belief Faith

Hadees Number 4757 - Chapter 65 from Commentary. of Sahih Bukhari. Read the authentic Hadith by Imam Bukhari in Arabic, with complete translation in English and Urdu. All references of the Hadees are given for authenticity of it. This chapter Commentary. has total 503 Hadees, and the whole book has 7558 Ahadees, search easily online or download the books in PDF format.
  • Hadith No 4757
  • Book Name Sahih Bukhari
  • Chapter Name Commentary
  • Writer Imam Bukhari
  • Writer Death 256 ھ

Hadith in Arabic

وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا ذُكِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُكِرَ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيَّ خَطِيبًا ، فَتَشَهَّدَ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي أُنَاسٍ أَبَنُوا أَهْلِي ، وَايْمُ اللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي مِنْ سُوءٍ ، وَأَبَنُوهُمْ بِمَنْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَطُّ ، وَلَا يَدْخُلُ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا حَاضِرٌ ، وَلَا غِبْتُ فِي سَفَرٍ إِلَّا غَابَ مَعِي ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، فَقَالَ : ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ نَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ ، وَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْخَزْرَجِ ، وَكَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ مِنْ رَهْطِ ذَلِكَ الرَّجُلِ ، فَقَالَ : كَذَبْتَ أَمَا وَاللَّهِ أَنْ لَوْ كَانُوا مِنْ الْأَوْسِ مَا أَحْبَبْتَ أَنْ تُضْرَبَ أَعْنَاقُهُمْ حَتَّى كَادَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ شَرٌّ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا عَلِمْتُ ، فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ ذَلِكَ الْيَوْمِ خَرَجْتُ لِبَعْضِ حَاجَتِي وَمَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ ، فَعَثَرَتْ ، وَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، فَقُلْتُ : أَيْ أُمِّ تَسُبِّينَ ابْنَكِ ، وَسَكَتَتْ ، ثُمَّ عَثَرَتِ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَتْ : تَعَسَ مِسْطَحٌ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَيْ أُمِّ أَتَسُبِّينَ ابْنَكِ ، فَسَكَتَتْ ، ثُمَّ عَثَرَتِ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَتْ : تَعَسَ مِسْطَحٌ ، فَانْتَهَرْتُهَا ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ مَا أَسُبُّهُ إِلَّا فِيكِ ، فَقُلْتُ : فِي أَيِّ شَأْنِي ، قَالَتْ : فَبَقَرَتْ لِي الْحَدِيثَ ، فَقُلْتُ : وَقَدْ كَانَ هَذَا ؟ قَالَتْ : ، نَعَمْ وَاللَّهِ ، فَرَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي كَأَنَّ الَّذِي خَرَجْتُ لَهُ لَا أَجِدُ مِنْهُ قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا وَوُعِكْتُ ، فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرْسِلْنِي إِلَى بَيْتِ أَبِي ، فَأَرْسَلَ مَعِي الْغُلَامَ ، فَدَخَلْتُ الدَّارَ ، فَوَجَدْتُ أُمَّ رُومَانَ فِي السُّفْلِ ، وَأَبَا بَكْرٍ فَوْقَ الْبَيْتِ يَقْرَأُ ، فَقَالَتْ أُمِّي : مَا جَاءَ بِكِ يَا بُنَيَّةُ ؟ فَأَخْبَرْتُهَا ، وَذَكَرْتُ لَهَا الْحَدِيثَ وَإِذَا هُوَ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهَا مِثْلَ مَا بَلَغَ مِنِّي ، فَقَالَتْ : يَا بُنَيَّةُ ، خَفِّفِي عَلَيْكِ الشَّأْنَ ، فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا لَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا حَسَدْنَهَا ، وَقِيلَ فِيهَا وَإِذَا هُوَ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهَا مَا بَلَغَ مِنِّي ، قُلْتُ وَقَدْ عَلِمَ بِهِ أَبِي ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قُلْتُ : وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْبَرْتُ ، وَبَكَيْتُ ، فَسَمِعَ أَبُو بَكْرٍ صَوْتِي وَهُوَ فَوْقَ الْبَيْتِ يَقْرَأُ ، فَنَزَلَ ، فَقَالَ لِأُمِّي : مَا شَأْنُهَا ؟ قَالَتْ : بَلَغَهَا الَّذِي ذُكِرَ مِنْ شَأْنِهَا ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ، قَالَ : أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ أَيْ بُنَيَّةُ إِلَّا رَجَعْتِ إِلَى بَيْتِكِ ، فَرَجَعْتُ ، وَلَقَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي ، فَسَأَلَ عَنِّي خَادِمَتِي ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقُدُ حَتَّى تَدْخُلَ الشَّاةُ ، فَتَأْكُلَ خَمِيرَهَا أَوْ عَجِينَهَا ، وَانْتَهَرَهَا بَعْضُ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : اصْدُقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْقَطُوا لَهَا بِهِ ، فَقَالَتْ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا إِلَّا مَا يَعْلَمُ الصَّائِغُ عَلَى تِبْرِ الذَّهَبِ الْأَحْمَرِ ، وَبَلَغَ الْأَمْرُ إِلَى ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي قِيلَ لَهُ ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ كَنَفَ أُنْثَى قَطُّ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُتِلَ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَتْ : وَأَصْبَحَ أَبَوَايَ عِنْدِي ، فَلَمْ يَزَالَا حَتَّى دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ ، وَقَدِ اكْتَنَفَنِي أَبَوَايَ عَنْ يَمِينِي ، وَعَنْ شِمَالِي ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ ، إِنْ كُنْتِ قَارَفْتِ سُوءًا أَوْ ظَلَمْتِ فَتُوبِي إِلَى اللَّهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ مِنْ عِبَادِهِ " ، قَالَتْ : وَقَدْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَهِيَ جَالِسَةٌ بِالْبَابِ ، فَقُلْتُ : أَلَا تَسْتَحْيِ مِنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ أَنْ تَذْكُرَ شَيْئًا ، فَوَعَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَالْتَفَتُّ إِلَى أَبِي ، فَقُلْتُ لَهُ : أَجِبْهُ ، قَالَ : فَمَاذَا أَقُولُ ؟ فَالْتَفَتُّ إِلَى أُمِّي ، فَقُلْتُ : أَجِيبِيهِ ، فَقَالَتْ : أَقُولُ مَاذَا ؟ فَلَمَّا لَمْ يُجِيبَاهُ تَشَهَّدْتُ فَحَمِدْتُ اللَّهَ ، وَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قُلْتُ : أَمَّا بَعْدُ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ ، قُلْتُ لَكُمْ : إِنِّي لَمْ أَفْعَلْ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَشْهَدُ إِنِّي لَصَادِقَةٌ مَا ذَاكَ بِنَافِعِي عِنْدَكُمْ لَقَدْ تَكَلَّمْتُمْ بِهِ وَأُشْرِبَتْهُ قُلُوبُكُمْ ، وَإِنْ قُلْتُ إِنِّي قَدْ فَعَلْتُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْ ، لَتَقُولُنَّ قَدْ بَاءَتْ بِهِ عَلَى نَفْسِهَا ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا ، وَالْتَمَسْتُ اسْمَ يَعْقُوبَ ، فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْهِ إِلَّا أَبَا يُوسُفَ حِينَ ، قَالَ : فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ سورة يوسف آية 18 ، وَأُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَاعَتِهِ ، فَسَكَتْنَا ، فَرُفِعَ عَنْهُ وَإِنِّي لَأَتَبَيَّنُ السُّرُورَ فِي وَجْهِهِ ، وَهُوَ يَمْسَحُ جَبِينَهُ ، وَيَقُولُ : " أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ ، فَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ بَرَاءَتَكِ " ، قَالَتْ : وَكُنْتُ أَشَدَّ مَا كُنْتُ غَضَبًا ، فَقَالَ لِي أَبَوَايَ : قُومِي إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : لَا ، وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ ، وَلَا أَحْمَدُهُ ، وَلَا أَحْمَدُكُمَا ، وَلَكِنْ أَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي ، لَقَدْ سَمِعْتُمُوهُ ، فَمَا أَنْكَرْتُمُوهُ ، وَلَا غَيَّرْتُمُوهُ ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ ، تَقُولُ : أَمَّا زَيْنَبُ ابْنَةُ جَحْشٍ ، فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِدِينِهَا ، فَلَمْ تَقُلْ إِلَّا خَيْرًا ، وَأَمَّا أُخْتُهَا حَمْنَةُ ، فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ ، وَكَانَ الَّذِي يَتَكَلَّمُ فِيهِ مِسْطَحٌ ، وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَالْمُنَافِقُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ، وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَسْتَوْشِيهِ وَيَجْمَعُهُ ، وَهُوَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ هُوَ وَحَمْنَةُ ، قَالَتْ : فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَا يَنْفَعَ مِسْطَحًا بِنَافِعَةٍ أَبَدًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ سورة النور آية 22 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ سورة النور آية 22 يَعْنِي مِسْطَحًا إِلَى قَوْلِهِ أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 22 حَتَّى ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : بَلَى ، وَاللَّهِ يَا رَبَّنَا ، إِنَّا لَنُحِبُّ أَنْ تَغْفِرَ لَنَا وَعَادَ لَهُ بِمَا كَانَ يَصْنَعُ "

Urdu Translation

´اور ابواسامہ حماد بن اسامہ نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` جب میرے متعلق ایسی باتیں کہی گئیں جن کا مجھے گمان بھی نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے معاملہ میں لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کے بعد اللہ کی حمد و ثنا اس کی شان کے مطابق بیان کی، پھر فرمایا، امابعد! تم لوگ مجھے ایسے لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میری بیوی کو بدنام کیا ہے اور اللہ کی قسم! کہ میں نے اپنی بیوی میں کوئی برائی نہیں دیکھی اور تہمت بھی ایسے شخص (صفوان بن معطل) کے ساتھ لگائی ہے کہ اللہ کی قسم! ان میں بھی میں نے کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی۔ وہ میرے گھر میں جب بھی داخل ہوا تو میری موجودگی ہی میں داخل ہوا اور اگر میں کبھی سفر کی وجہ سے مدینہ نہیں ہوتا تو وہ بھی نہیں ہوتا اور وہ میرے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ اس کے بعد سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں حکم فرمایئے کہ ہم ایسے مردود لوگوں کی گردنیں اڑا دیں۔ اس کے بعد قبیلہ خزرج کے ایک صاحب (سعد بن عبادہ) کھڑے ہوئے، حسان بن ثابت کی والدہ اسی قبیلہ خزرج سے تھیں، انہوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ تم جھوٹے ہو، اگر وہ لوگ (تہمت لگانے والے) قبیلہ اوس کے ہوتے تو تم کبھی انہیں قتل کرنا پسند نہ کرتے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مسجد ہی میں اوس و خزرج کے قبائل میں باہم فساد کا خطرہ ہو گیا، اس فساد کی مجھ کو کچھ خبر نہ تھی، اسی دن کی رات میں، میں قضائے حاجت کے لیے باہر نکلی، میرے ساتھ ام مسطح بھی تھیں۔ وہ (راستے میں) پھسل گئیں اور ان کی زبان سے نکلا کہ مسطح کو اللہ غارت کرے۔ میں نے کہا، آپ اپنے بیٹے کو کوستی ہیں، اس پر وہ خاموش ہو گئیں، پھر دوبارہ وہ پھسلیں اور ان کی زبان سے وہی الفاظ نکلے کہ مسطح کو اللہ غارت کرے۔ میں نے پھر کہا کہ اپنے بیٹے کو کوستی ہو، پھر وہ تیسری مرتبہ پھسلیں تو میں نے پھر انہیں ٹوکا۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ کی قسم! میں تو تیری ہی وجہ سے اسے کوستی ہوں۔ میں نے کہا کہ میرے کس معاملہ میں انہیں آپ کوس رہی ہیں؟ بیان کیا۔ کہ اب انہوں نے طوفان کا سارا قصہ بیان کیا میں نے پوچھا، کیا واقعی یہ سب کچھ کہا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، اللہ کی قسم! پھر میں اپنے گھر گئی۔ لیکن (ان واقعات کو سن کر غم کا یہ حال تھا کہ) مجھے کچھ خبر نہیں کہ کس کام کے لیے میں باہر گئی تھی اور کہاں سے آئی ہوں، ذرہ برابر بھی مجھے اس کا احساس نہیں رہا۔ اس کے بعد مجھے بخار چڑھ گیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ مجھے ذرا میرے والد کے گھر پہنچوا دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ایک بچہ کو کر دیا۔ میں گھر پہنچی تو میں نے دیکھا کہ ام رومان نیچے کے حصہ میں ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بالاخانے میں قرآن پڑھ رہے ہیں۔ والدہ نے پوچھا بیٹی اس وقت کیسے آ گئیں۔ میں نے وجہ بتائی اور واقعہ کی تفصیلات سنائیں ان باتوں سے جتنا غم مجھ کو تھا ایسا معلوم ہوا کہ ان کو اتنا غم نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا، بیٹی اتنا فکر کیوں کرتی ہو کم ہی ایسی کوئی خوبصورت عورت کسی ایسے مرد کے نکاح میں ہو گی جو اس سے محبت رکھتا ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں اور وہ اس سے حسد نہ کریں اور اس میں سو عیب نہ نکالیں۔ اس تہمت سے وہ اس درجہ بالکل بھی متاثر نہیں معلوم ہوتی تھیں جتنا میں متاثر تھی۔ میں نے پوچھا والد کے علم میں بھی یہ باتیں آ گئیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، میں نے پوچھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی علم میں سب کچھ ہے۔ میں یہ سن کر رونے لگی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی میری آواز سن لی، وہ گھر کے بالائی حصہ میں قرآن پڑھ رہے تھے، اتر کر نیچے آئے اور والدہ سے پوچھا کہ اسے کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ تمام باتیں اسے بھی معلوم ہو گئی ہیں جو اس کے متعلق کہی جا رہی ہیں۔ ان کی بھی آنکھیں بھر آئیں اور فرمایا: بیٹی! تمہیں قسم دیتا ہوں، اپنے گھر واپس چلی جاؤ چنانچہ میں واپس چلی آئی۔ (جب میں اپنے والدین کے گھر آ گئی تھی تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرہ میں تشریف لائے تھے اور میری خادمہ (بریرہ) سے میرے متعلق پوچھا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ نہیں، اللہ کی قسم! میں ان کے اندر کوئی عیب نہیں جانتی، البتہ ایسا ہو جایا کرتا تھا (کم عمری کی غفلت کی وجہ سے) کہ (آٹا گوندھتے ہوئے) سو جایا کرتیں اور بکری آ کر ان کا گندھا ہوا آٹا کھا جاتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے ڈانٹ کر ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بات صحیح صحیح کیوں نہیں بتا دیتی۔ پھر انہوں نے کھول کر صاف لفظوں میں ان سے واقعہ کی تصدیق چاہی۔ اس پر وہ بولیں کہ سبحان اللہ، میں تو عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس طرح جانتی ہوں جس طرح سنار کھرے سونے کو جانتا ہے۔ اس تہمت کی خبر جب ان صاحب کو معلوم ہوئی جن کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی تو انہوں نے کہا کہ سبحان اللہ، اللہ کی قسم! کہ میں نے آج تک کسی (غیر) عورت کا کپڑا نہیں کھولا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر انہوں نے اللہ کے راستے میں شہادت پائی۔ بیان کیا کہ صبح کے وقت میرے والدین میرے پاس آ گئے اور میرے پاس ہی رہے۔ آخر عصر کی نماز سے فارغ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے۔ میرے والدین مجھے دائیں اور بائیں طرف سے پکڑے ہوئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: امابعد! اے عائشہ! اگر تم نے واقعی کوئی برا کام کیا ہے اور اپنے اوپر ظلم کیا ہے تو پھر اللہ سے توبہ کرو، کیونکہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک انصاری خاتون بھی آ گئی تھیں اور دروازے پر بیٹھی ہوئی تھیں، میں نے عرض کی، آپ ان خاتون کا لحاظ نہیں فرماتے کہیں یہ (اپنی سمجھ کے مطابق کوئی الٹی سیدھی) بات باہر کہہ دیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی، اس کے بعد میں اپنے والد کی طرف متوجہ ہوئی اور ان سے عرض کیا کہ آپ ہی جواب دیجئیے، انہوں نے بھی یہی کہا کہ میں کیا کہوں جب کسی نے میری طرف سے کچھ نہیں کہا تو میں نے شہادت کے بعد اللہ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثنا کی اور کہا: امابعد! اللہ کی قسم! اگر میں آپ لوگوں سے یہ کہوں کہ میں نے اس طرح کی کوئی بات نہیں کی اور اللہ عزوجل گواہ ہے کہ میں اپنے اس دعوے میں سچی ہوں، تو آپ لوگوں کے خیال کو بدلنے میں میری یہ بات مجھے کوئی نفع نہیں پہنچائے گی، کیونکہ یہ بات آپ لوگوں کے دل میں رچ بس گئی ہے اور اگر میں یہ کہہ دوں کہ میں نے واقعتاً یہ کام کیا ہے حالانکہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میں نے ایسا نہیں کیا ہے، تو آپ لوگ کہیں گے کہ اس نے تو جرم کا اقرار کر لیا ہے۔ اللہ کی قسم! میری اور آپ لوگوں کی مثال یوسف علیہ السلام کے والد کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا «فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون‏» پس صبر ہی اچھا ہے اور تم لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔ میں نے ذہن پر بہت زور دیا کہ یعقوب علیہ السلام کا نام یاد آ جائے لیکن نہیں یاد آیا۔ اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہو گیا اور ہم سب خاموش ہو گئے۔ پھر آپ سے یہ کیفیت ختم ہوئی تو میں نے دیکھا کہ خوشی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے ظاہر ہو رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (پسینہ سے) اپنی پیشانی صاف کرتے ہوئے فرمایا کہ عائشہ! تمہیں بشارت ہو اللہ تعالیٰ نے تمہاری پاکی نازل کر دی ہے۔ بیان کیا کہ اس وقت مجھے بڑا غصہ آ رہا تھا۔ میرے والدین نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو جاؤ، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی نہیں ہوں گی نہ آپ کا شکریہ ادا کروں گی اور نہ آپ لوگوں کا شکریہ ادا کروں گی، میں تو صرف اللہ کا شکر ادا کروں گی جس نے میری برات نازل کی ہے۔ آپ لوگوں نے تو یہ افواہ سنی اور اس کا انکار بھی نہ کر سکے، اس کے ختم کرنے کی بھی کوشش نہیں کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ زینب بنت جحش کو اللہ تعالیٰ نے ان کی دینداری کی وجہ سے اس تہمت میں پڑنے سے بچا لیا۔ میری بابت انہوں نے خیر کے سوا اور کوئی بات نہیں کہی، البتہ ان کی بہن حمنہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوئیں۔ اس طوفان کو پھیلانے میں مسطح اور حسان اور منافق عبداللہ بن ابی نے حصہ لیا تھا۔ عبداللہ بن ابی منافق ہی تو کھود کھود کر اس کو پوچھتا اور اس پر حاشیہ چڑھاتا، وہی اس طوفان کا بانی مبانی تھا۔ «وهو الذي تولى كبره» سے وہ اور حمنہ مراد ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی کہ مسطح کو کوئی فائدہ آئندہ کبھی وہ نہیں پہنچائیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ولا يأتل أولو الفضل منكم‏» اور جو لوگ تم میں بزرگی والے اور فراخ دست ہیں الخ، اس سے مراد ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ وہ قرابت والوں اور مسکینوں کو اس سے مراد مسطح ہیں۔ (دینے سے قسم نہ کھا بیٹھیں) اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ألا تحبون أن يغفر الله لكم والله غفور رحيم‏» کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہارے قصور معاف کرتا رہے، بیشک اللہ بڑی مغفرت کرنے والا بڑا ہی مہربان ہے تک۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں، اللہ کی قسم! اے ہمارے رب! ہم تو اسی کے خواہشمند ہیں کہ تو ہماری مغفرت فرما۔ پھر وہ پہلے کی طرح مسطح کو جو دیا کرتے تھے وہ جاری کر دیا۔

English Translation

Narrated Aisha: When there was said about me what was said which I myself was unaware of, Allah's Messenger got up and addressed the people. He recited Tashah-hud, and after glorifying and praising Allah as He deserved, he said, "To proceed: O people Give me your opinion regarding those people who made a forged story against my wife. By Allah, I do not know anything bad about her. By Allah, they accused her of being with a man about whom I have never known anything bad, and he never entered my house unless I was present there, and whenever I went on a journey, he went with me." Sa`d bin Mu`adh got up and said, "O Allah's Messenger Allow me to chop their heads off". Then a man from the Al-Khazraj (Sa`d bin 'Ubada) to whom the mother of (the poet) Hassan bin Thabit was a relative, got up and said (to Sa`d bin Mu`adh), "You have told a lie! By Allah, if those persons were from the Aus Tribe, you would not like to chop their heads off." It was probable that some evil would take place between the Aus and the Khazraj in the mosque, and I was unaware of all that. In the evening of that day, I went out for some of my needs (i.e. to relieve myself), and Um Mistah was accompanying me. On our return, Um Mistah stumbled and said, "Let Mistah. be ruined" I said to her, "O mother Why do you abuse your Son" On that Um Mistah became silent for a while, and stumbling again, she said, "Let Mistah be ruined" I said to her, "Why do you abuse your son?" She stumbled for the third time and said, "Let Mistah be ruined" whereupon I rebuked her for that. She said, "By Allah, I do not abuse him except because of you." I asked her, "Concerning what of my affairs?" So she disclosed the whole story to me. I said, "Has this really happened?" She replied, "Yes, by Allah." I returned to my house, astonished (and distressed) that I did not know for what purpose I had gone out. Then I became sick (fever) and said to Allah's Messenger "Send me to my father's house." So he sent a slave with me, and when I entered the house, I found Um Rum-an (my mother) downstairs while (my father) Abu Bakr was reciting something upstairs. My mother asked, "What has brought you, O (my) daughter?" I informed her and mentioned to her the whole story, but she did not feel it as I did. She said, "O my daughter! Take it easy, for there is never a charming lady loved by her husband who has other wives but that they feel jealous of her and speak badly of her." But she did not feel the news as I did. I asked (her), "Does my father know about it?" She said, "yes" I asked, Does Allah's Messenger know about it too?" She said, "Yes, Allah's Messenger does too." So the tears filled my eyes and I wept. Abu Bakr, who was reading upstairs heard my voice and came down and asked my mother, "What is the matter with her? " She said, "She has heard what has been said about her (as regards the story of Al-lfk)." On that Abu- Bakr wept and said, "I beseech you by Allah, O my daughter, to go back to your home". I went back to my home and Allah's Messenger had come to my house and asked my maid-servant about me (my character). The maid-servant said, "By Allah, I do not know of any defect in her character except that she sleeps and let the sheep enter (her house) and eat her dough." On that, some of the Prophet's companions spoke harshly to her and said, "Tell the truth to Allah's Messenger ." Finally they told her of the affair (of the slander). She said, "Subhan Allah! By Allah, I know nothing against her except what goldsmith knows about a piece of pure gold." Then this news reached the man who was accused, and he said, "Subhan Allah! By Allah, I have never uncovered the private parts of any woman." Later that man was martyred in Allah's Cause. Next morning my parents came to pay me a visit and they stayed with me till Allah's Messenger came to me after he had offered the `Asr prayer. He came to me while my parents were sitting around me on my right and my left. He praised and glorified Allah and said, "Now then O `Aisha! If you have committed a bad deed or you have wronged (yourself), then repent to Allah as Allah accepts the repentance from his slaves." An Al-Ansari woman had come and was sitting near the gate. I said (to the Prophet). "Isn't it improper that you speak in such a way in the presence of this lady? Allah's Apostle then gave a piece of advice and I turned to my father and requested him to answer him (on my behalf). My father said, "What should I say?" Then I turned to my mother and asked her to answer him. She said, "What should I say?" When my parents did not give a reply to the Prophet, I said, "I testify that none has the right to be worshipped except Allah, and that Muhammad is His Apostle!" And after praising and glorifying Allah as He deserves, I said, "Now then, by Allah, if I were to tell you that I have not done (this evil action) and Allah is a witness that I am telling the truth, that would not be of any use to me on your part because you (people) have spoken about it and your hearts have absorbed it; and if I were to tell you that I have done this sin and Allah knows that I have not done it, then you will say, 'She has confessed herself guilty." By Allah, 'I do not see a suitable example for me and you but the example of (I tried to remember Jacob's name but couldn't) Joseph's father when he said; So (for me) "Patience is most fitting against that which you assert. It is Allah (alone) whose help can be sought.' At that very hour the Divine Inspiration came to Allah's Messenger and we remained silent. Then the Inspiration was over and I noticed the signs of happiness on his face while he was removing (the sweat) from his forehead and saying, "Have the good tidings O ' "Aisha! Allah has revealed your innocence." At that time I was extremely angry. My parents said to me. "Get up and go to him." I said, "By Allah, I will not do it and will not thank him nor thank either of you, but I will thank Allah Who has revealed my innocence. You have heard this story but neither did not deny it nor change it (to defend me)," (Aisha used to say:) "But as regards Zainab bint Jahsh, (the Prophet's wife), Allah protected her because of her piety, so she did not say anything except good (about me), but her sister, Hamna, was ruined among those who were ruined. Those who used to speak evil about me were Mistah, Hassan bin Thabit, and the hypocrite, `Abdullah bin Ubai, who used to spread that news and tempt others to speak of it, and it was he and Hamna who had the greater share therein. Abu Bakr took an oath that he would never do any favor to Mistah at all. Then Allah revealed the Divine Verse: "Let not those among you who are good and wealthy (i.e. Abu Bakr) swear not to give (any sort of help) to their kinsmen, and those in need, (i.e. Mistah) ...Do you not love that Allah should forgive you? And Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful." (24.22) On that, Abu Bakr said, "Yes, by Allah, O our Lord! We wish that You should forgive us." So Abu Bakr again started giving to Mistah the expenditure which he used to give him before.

قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں سے مزید احادیث

حدیث نمبر 4843

´مجھ سے محمد بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے ابوقلابہ نے` اور ان سے ثابت بن ضحاک نے اور وہ (صلح حدیبیہ کے دن) درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں شامل تھے۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4901

´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں اپنے چچا (سعد بن عبادہ یا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہما) کے ساتھ تھا میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کہتے سنا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4799

´ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، ان سے حسن بصری اور محمد بن سیرین اور خلاس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بڑے باحیاء تھے، انہیں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4790

´ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے پاس اچھے برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں، کاش آپ ازواج مطہرات کو پردہ کا حکم دے دیں۔ اس کے بعد اللہ نے پردہ کا حکم اتارا۔مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4943

´ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ بن قیس نے بیان کیا کہ` عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کے ساتھ میں ملک شام پہنچا ہمارے متعلق ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے سنا تو ہم سے ملنے خود تشریف لائے اور دریافت فرمایا تم میں کوئی قرآن مجید کا قاری بھی ہے؟ ہم سے کہا جی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4674

´ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابورجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے سمرہ بن جندب نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ رات (خواب میں) میرے پاس دو فرشتے آئے اور مجھے اٹھا کر ایک شہر میں لے گئے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4510

´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے مطرف نے بیان کیا، ان سے شعبی نے بیان کیا اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (آیت میں) «الخيط الأبيض» اور «الخيط الأسود» سے کیا مراد ہے؟ کیا ان سے مراد دو دھاگے ہیں؟ نبی کریم مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4768

´اور ہم سے ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے والد (آذر) کو قیامت کے دن گرد آلود کالا کلوٹا دیکھیں گے۔ امام بخاری رحمہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4862

´ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم میں سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے اور تمام مشرکوں اور جنات و انسانوں نے بھی سجدہ کیا۔ عبدالوارث کے ساتھ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4571

´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ` ایک رات وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4541

´ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سلیمان اعمش نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالضحیٰ سے سنا، وہ مسروق سے روایت کرتے تھے کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا` جب سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور مسجد میں انہیں پڑھ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4849

´ہم سے محمد بن موسیٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوسفیان حمیری سعید بن یحییٰ بن مہدی نے بیان کیا، ان سے عوف نے، ان سے محمد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ابوسفیان حمیری اکثر اس حدیث کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے موقوفاً ذکر کرتے تھے کہ جہنم سے پوچھا جائے گا تو بھر ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4937

´ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زرارہ بن اوفی سے سنا، وہ سعد بن ہشام سے بیان کرتے تھے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا حافظ بھی ہے، مکرم اور نیک لکھنے والے (فرشتوں) جیسی ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4958

´ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے عبدالکریم جزری نے، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا` ابوجہل نے کہا تھا کہ اگر میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کے پاس نماز پڑھتے دیکھ لیا تو اس کی گردن میں کچل دوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4636

´مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک سورج مغرب سے نہ طلوع ہو لے۔ جب مغرب سے سورج طلوع ہو گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لائیں گے لیکن یہ وقت ہو ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4508

´ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) اور ہم سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، ان سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ` ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4617

´ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا` ہم لوگ تمہاری «فضيخ» (کھجور سے بنائی ہوئی شراب) کے سوا اور کوئی شراب استعمال نہیں کرتے تھے، یہی جس کا نام تم نے «فضيخ» رکھ رکھا ہے۔ میں ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4833

´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ان کے والد نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں جا رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ رات کا وقت تھا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سوال کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر انہوں نے سوال ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4535

´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ` جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نماز خوف کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ فرماتے کہ امام مسلمانوں کی ایک جماعت کو لے کر خود آگے بڑھے اور انہیں ایک رکعت نماز پڑھائے۔ اس دوران میں مسلمانوں کی دوسری جماعت ان کے اور دشمن کے درمیان میں رہے۔ یہ لوگ نماز میں ابھی شریک نہ ہوں، ..مکمل حدیث پڑھیئے

حدیث نمبر 4698

´مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اچھا مجھ کو بتلاؤ تو وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کی مانند ہے جس کے پتے نہیں گرتے، ..مکمل حدیث پڑھیئے