امریکی شہری نے 41 انچ لمبے سینگ والا استور مارخور شکار کرلیا

امریکی شکاری نے سب سے زیادہ ریٹنگ والے مارخور کے شکار کا لائسنس حاصل کرنے کیلئے 61 ہزار 500 ڈالر ادا کیے

اتوار جنوری 14:25

امریکی شہری نے 41 انچ لمبے سینگ والا استور مارخور شکار کرلیا
گلگت(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جنوری2021ء) امریکی شہری نے موجودہ ہنٹنگ (شکار) ٹرافی سیزن میں 61 ہزار 500 ڈالر (تقریبا 98 لاکھ 80 ہزار پاکستانی روپی) لائسنس فیس کی ادائیگی کے بعد سب سے بلند قیمت والے استور مارخور کا شکار کیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان کے محکمہ جنگلی حیات نے بتایا کہ ایڈورڈ جوزف ہڈسن نے استور کے محفوظ علاقے داشکن-مشکن-تربولنگ (ڈی ایم ٹی) میں مارخور شکار کیا۔

رپورٹ کے مطابق شکار کیے گئے جانور کے سینگ کی لمبائی 41 انچ ہے۔سال 21-2020 کے ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے لیے گلگت بلتستان کے محکمہ جنگی حیات، ماحولیات اور جنگلات نے استور مارخور کے صرف 4، بلیو شیپ کے 18 اور ہمالیہ آئی بیکس کے 18 شکاری اجازت ناموں کی نیلامی کی تھی۔خیال رہے کہ ٹرافی ہنٹنگ سیزن نومبر میں شروع ہوتا ہے اور اپریل میں اختتام پذیر ہوجاتا ہے، غیر ملکی، قومی اور مقامی شکاری لائسنس حاصل کرنے کے بعد گلگت بلتستان کے محفوظ علاقوں میں ٹرافیز شکار کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

امریکی شکاری نے سب سے زیادہ ریٹنگ والے مارخور کے شکار کا لائسنس حاصل کرنے کے لیے 61 ہزار 500 ڈالر ادا کیے۔گزشتہ ماہ ایک اور امریکی شہری جوزف بریڈ فوڈ نے چترال کے محفوظ قرار دیے گئے علاقے توشی شاشا میں تیر کمان سے 40 انچ کے سینگوں والا کشمیری مارخور کا شکار کر کے تیار کمان سے پہلی ٹرافی ہنٹنگ کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔جوزف بریڈ فورڈ نے لائسنس کا اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے ایک کروڑ 31 لاکھ 20 ہزار روپے ادا کیے تھے۔

ذرائع کے مطابق اجازت نامے سے حاصل ہونے والی رقم کا 80 فیصد مقامی افراد کو ملتا ہے جسے ان کی اجتماعی ترقی اور گاؤں کی کنزرویشن کمیٹیوں کے ذریعے بے روزگار نوجوانوں کے روزگار کا بندو بست کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ٹرافی ہنٹنگ کا پروگرام 80 کی دہائی میں شروع کیا گیا تھا جو جنگی حیات کی نایاب نسل کے بین الاقوامی کنوینشن کے تحت ہوتا ہے اور گلگت بلتستان کے صرف مخصوص علاقوں میں ہی اس کی اجازت ہے۔کوئی بھی شخص اگر غیر قانونی شکار میں ملوث پایا جاتا ہے تو اسے پکڑ کر سزا دی جاتی ہے۔

متعلقہ عنوان :

گلگت شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments