پسند کی شادی کی اجازت نہ دینا جرم بن گیا، بیٹے نے اپنے ہی باپ کو گولیاں مار کر قتل کر دیا

کامونکی کے رہائشی تنویر اوراس کے والد میں تلخ کلامی کے بعد بیٹے نے اپنے باپ پرفائرنگ کردی جس سے اسکا والد صغیر احمد موقع پر ہلاک ہوگیا

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری بدھ جون 22:37

پسند کی شادی کی اجازت نہ دینا جرم بن گیا، بیٹے نے اپنے ہی باپ کو گولیاں ..
کامونکی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار ۔02 جون 2021ء ) پسند کی شادی کی اجازت نہ دینا جرم بن گیا، بیٹے نے اپنے ہی باپ کو گولیاں مار کر قتل کر دیا- تفصیلات کے مطابق کامونکی میں نوجوان نے فائرنگ کرکے باپ کو قتل کردیا جب کہ چچا گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔ چک ہندہ کے رہائشی تنویر اوراس کے والد میں تلخ کلامی کے بعد بیٹے نے اپنے باپ پرفائرنگ کردی جس سے اسکا والد صغیر احمد موقع پر ہلاک ہوگیا جب کہ چچا شبیر احمد گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔

ملزم واردات کے بعد فرار ہوگیا جب کہ پولیس نے واقعے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی مدد سے لاش اور زخمی کو ٹی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا۔ پولیس کاکہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم پسند کی شادی کرنا چاہتا تھا۔علاقہ پولیس نے ابتدائی تفتیش کے تحت بتایا ہے کہ اسی مسئلے پر جب باپ بیٹے کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تو تنویر نے اپنے والد پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جب کہ چچا شبیر احمد گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گیا ہے۔

(جاری ہے)

دوسری جانب رحیم یار خان میں رحیم یار خان میں صرف 2 دن کی دلہن کو اس کے اپنے ہی شوہر نے نامحرم سے تعلق کے شعبے میں فائرنگ کر کے زخمی کر دیا- پولیس اور ریسکیو حکام نے موقع پر پہنچ کر خاتون کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کر دیا ہے- بتایا گیا ہے کہ شوہر اور سسرال والوں نے مبینہ طور پر دو دن کی دلہن پر تشددکیا اور فائرنگ کرکے زخمی کردیا۔ پولیس کے مطابق دلہن پر قاتلانہ حملے اورتشددکرکے زخمی کرنے کا واقعہ تھانہ بی ڈویژن کے علاقے میں پیش آیا۔

پولیس کاکہناہے کہ لڑکے اور لڑکی کاتعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ شوہر اور سسرال والوں نےمبینہ طورپرلڑکے سے دوستی کے الزام میں دلہن کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گولی ماراسے زخمی کردیا۔ ملزمان گھر چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں جبکہ زخمی دلہن کو شیخ زاید اسپتال منتقل کردیاگیاہے۔ زخمی دلہن نے اپنے بیان میں کہاہے کہ سسرال والوں نے جھوٹا الزام عائد کیا ہے

گجرانوالہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments