پرینک کے نام پر خواتین کو ہراساں کرنے والے یوٹیوبر کو گرفتار کر لیا گیا

پولیس نے دوسری خواتین کو دوپٹہ لینے کی تلقین کرنے والے یوٹیبر کو گرفتار کرکے ہتھکڑی حجابی اہلکارکے ہاتھ میں تھما دی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات جون 13:54

پرینک کے نام پر خواتین کو ہراساں کرنے والے یوٹیوبر کو گرفتار کر لیا ..
گجرانوالہ ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17 جون 2021ء ) پرینک کے نام پر خواتین کو ہراساں کرنے والے یوٹیوبر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک یوٹیوبر کو پرینک کے نام پر راہ چلتی خواتین کو ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا،نوجوان ویڈیو میں خواتین کو دوپٹہ لینے کا کہتے ہوئے انہیں زدوکوب بھی کرتا ہے،اور ہزار روپے دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ان پیسوں سے دوپٹہ خریدیں۔

خواتین کو کہتا ہے کہ جب ماں دوپٹہ نہیں کرے گی تو بیٹی نے کیا کرنا ہے،خواتین مذکورہ شخص کے رویے پر گھبرا گئیں اور کہا کہ اپنے پیسے پاس رکھو۔
ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین نے سوشل میڈیا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یوٹیوبر کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

(جاری ہے)

خواتین کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ مذکورہ یوٹیوبر کی اور ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں اسے فیملیز کو تنگ کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

صارف نے کہا کہ کبھی یہ شخص سکول کالج کی بچیوں کے بازو پکڑ لیتا ہے، کبھی بچیوں کے سر سے ڈوپٹہ کھینچ لیتا ہے، اس ویڈیو میں کسی کی بیوی کو کندھے سے پکڑ ہراساں کر رہا ہے ، کوئی قانون ہے پاکستان میں ؟ یہ مذاق ہے ؟
۔بتایا گیا ہے کہ مذکورہ یوٹیوبر کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔پولیس کی جانب سے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس نے ملزم کی تصویر شئیر کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

ملزم کی گرفتاری کو سوشل میڈیا پر سراہا جا رہا ہے۔جبکہ اس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
۔سینئر صحافی غریدہ فاروقی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ حجاب کے نام پر خواتین کو پرینک کرکے ہراساں کرنے والا اور یوٹیوب پرویڈیوزاپ لوڈ کرنے والا ملزم پولیس نے مقدمہ درج کر کے گرفتارکر لیا ہے۔ ویل ڈن پنجاب پولیس! اور ہتھکڑی ایک حجابی اہلکارکے ہاتھ میں تھمائی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اوربھی بہترمیسیجنگ ہوتی حجاب نہ لینے والی کوئی اہلکاربھی ہوتی۔
۔

گجرانوالہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments