اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںسپریم کورٹ:اسکردوایئرپورٹ پرمسافروں کی پریشان کا نوٹس سپریم کورٹ ..

سپریم کورٹ:اسکردوایئرپورٹ پرمسافروں کی پریشان کا نوٹس

سپریم کورٹ نےرپورٹ طلب کرلی، مسافروں نے پی آئی اے کیخلاف کاروائی اورہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ میڈیا رپورٹس

اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 جولائی 2018ء): سپریم کورٹ نےاسکردو ایئرپورٹ پرمسافرو ں کو پریشان کرنے کا نوٹس لے لیا، سپریم کورٹ نے مسافروں کو پریشان کرنے کی رپورٹ طلب کرلی ہے، جبکہ مسافروں نے پی آئی اے کیخلاف کاروائی اورہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسکردو ایئر پورٹ پرمسافر پرواز کا انتظار کرتے ہوئے تھک گئے لیکن ڈی جی سول ایوی ایشن غلام حسن بیگ دوستوں کے ہمراہ طیارہ لے کر نانگا پربت کی فضائی سیر کرتے رہے۔

مہمانوں میں گلگت بلتستان کے سینیئر وزیراکبر تابان بھی شامل تھے۔لاڈلے مہمان ایئر سفاری سے لوٹے توپریشان مسافروں نے گھیر لیا۔ اور ان کے سامنے خوب احتجاج کیا۔ مسافروں نے کہا کہ 20 ہزار کا ٹکٹ لینے والے پریشان ہیں، آپ سیر کر رہے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

ہمیں کہا گیا خواتین کا واش روم وی آئی پیز کیلئے ہے۔ آپ مردوں کا واش روم استعمال کریں۔ سپریم کورٹ نے مسافروں کی پریشانی کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اسکردو ایئرپورٹ پراحتجاج کرنے والی خاتون مسافر منیزہ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے نے وعدے کے باوجود لیٹ ہونے والے مسافروں کومعاوضہ نہیں دیا۔ اسکردو اسلام آباد پروازمیں تاخیر سے ہماری اگلی فلائٹ نکل گئی۔ جن مسافروں کی اگلی فلائٹ مس ہوئی انہوں نے نئے ٹکٹ خرید کر سفر کیا۔ سول ایوی ایشن پی آئی اے کیخلاف کارروائی کرے اور مسافروں کو ہرجانہ ادا کرے۔

دوسری جانب نانگا پربت کی ایئر سفاری پر ڈائریکٹرجنرل سول ایوی ایشن نے وضاحت کی ہے کہ طیارہ ایئرسفاری پرلے جانے سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ پی آئی اے کے سی ای اوکی دعوت پرایئرسفاری گیا تھا۔ پی آئی اے نے کہا تھا کہ وہ ایئرسفاری شروع کررہی ہے۔ ایئر سفاری جانے والی پروازپرمیرے کوئی دوست نہیں تھے۔ تاہم ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ڈی جی سول ایوی ایشن حسن بیگ نے مزید کہا کہ اسکردو ایئرپورٹ پرمسافروں کی پریشانی کا نوٹس لیا ہے۔

مسافروں سے کہا میں بھی آپ کے احتجاج میں شامل ہوں۔ میں نے ان سے کہا میں چائےنہیں پیوں گا اورآپ کے ساتھ احتجاج میں شامل ہونگا۔ انہوں نے کہا کہ خط لکھ کرپی آئی اے انتظامیہ سے وضاحت مانگی ہے۔ ایئرلائنزکو ریگولیٹ اورمسافروں کے حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی رکاوٹ پیدا ہوئی یا فلائٹ لیٹ ہوئی تو یہ پی آئی اے کی ذمے داری ہے۔ اسی طرح ترجمان پی آئی اے مشہود تاجورکا کہنا ہے کہ ایئرسفاری کیلئے ونڈوسیٹس ایلوکیٹ کی ہیں۔

اسلام آباد سے اسکردو کی پرواز میں2 گھنٹے کی تاخیر ہوئی۔ شاید پیغام رسانی میں کوتاہی ہوئی اورمسافروں کو نہیں بتایا گیا۔ ری فنڈ کا معاملہ تب بنتا اگرپرواز منسوخ کی جاتی۔ پرواز مسافروں کو لے بھی گئی اور واپس بھی لائی۔ پرواز کی تاخیر کے باعث یہ سارا معاملہ پیش آیا۔ مسافروں کوہونے والی تکلیف پرمعذرت خواہ ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں