اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریں20اکتوبرکے بعد کوئی موبائل فون بلاک نہیں ہوگا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی ..

20اکتوبرکے بعد کوئی موبائل فون بلاک نہیں ہوگا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی پی ٹی اے حکام کو سرزنش‘پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کا ڈیڈلائن منسوخ کرنے کا اعلان

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 18 اکتوبر۔2018ء)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو 20 اکتوبر کے بعد موبائل فون بند نہ کرنے کی ہدایت کردی ہے. وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیئرمین پی ٹی اے محمد نوید اور ڈائریکٹر طالب ڈوگر اور دیگر اراکین نے شرکت کی.

اجلاس کے آغاز پر سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ پی ٹی اے 20 اکتوبر سے موبائل فون بند کرنے جارہا ہے، عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، پی ٹی اے حکام واضح کریں کہ معاملہ کیا ہے کیونکہ پی ٹی اے کا پیغام واضح نہیں ہے.

(خبر جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جب سے کمیٹی شروع ہوئی ہے وزیر آئی ٹی نہیں آئے، اگر وہ نہیں آتے تو ان کے خلاف تحریک استحقاق لائیں گے. اس دوران پی ٹی اے حکام نے 20 اکتوبر سے غیر رجسٹرڈ اور اسمگل شدہ موبائل فون بند کرنے کے معاملے پر بریفنگ دی اور بتایا کہ اس کے لیے ایک نظام لانچ کر رہے ہیں، کوئی موبائل فون بند نہیں ہوگا، نان کمپلائنٹ پر فیصلہ کریں گے.

پی ٹی اے نے بریفنگ دی کہ ڈیوائس آئیڈینٹی فکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) موبائل فون کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے لایا جارہا ہے. انہوں نے بتایا کہ اس نظام سے موبائل فون کی درآمد سے آمدنی 20 کروڑ ڈالر تک بڑھ جائے گی. پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ موبائل فون ویری فیکیشن کی آخری تاریخ میں 2 ماہ کی توسیع کی جارہی ہے. دوران اجلاس چیئرمین پی ٹی اے نے بریفنگ دی کہ اسمگل شدہ اور ایک جیسے آئی ایم ای آئی نمبر کو روکنے کے لیے نیا سسٹم لا رہے ہیں کیونکہ ایک جیسے آئی ایم ای آئی نمبر ٹریس کرنا مشکل ہوتا ہے.

انہوں نے بتایا کہ ایک جیسے آئی ایم ای آئی نمبر سیکورٹی کے لیے بھی خطرات ہیں اور ایسے نمبر سیکورٹی اداروں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں. دوران اجلاس سینیٹر رحمان ملک نے پی ٹی اے حکام سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس چوری شدہ موبائل فون کا فرانزک آڈٹ کا نظام ہے، جس پر پی ٹی اے نے بتایا کہ چوری شدہ موبائل فون آئی ایم ای آئی نمبر سے ٹریس ہوجائے گا.

رحمان ملک نے کہا کہ سم کو ریگولیٹ کرنا سروس پرووائڈرز کا کام ہے، پی ٹی اے اسے اپنے کھاتے میں کیوں ڈال رہا ہے، ایک سم 10 مرتبہ رجسٹرڈ کرکے کیوں دی جاتی ہے، موبائل کمپنیوں کو ذمہ داری دی جائے تاکہ ان کو پکڑا جاسکے. انہوں نے کہا کہ آئی ایم ای آئی کو دنیا بھر میں ٹریس کیا جاسکتا ہے، پی ٹی اے سم پر اس نمبر کو کیسے ریگولیٹ کر رہا ہے، پی ٹی اے اپنے نہیں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، ہم غیر قانونی کام کی اجازت نہیں دے سکتے.

اجلاس کے دوران وزارت آئی ٹی کے حکام نے کہا کہ اگر باہر سے موبائل فون آتا ہے تو اس کو دیکھنے کے لیے پی ٹی اے کے پاس سسٹم کا ہونا ضروری ہے. ارکان کمیٹی نے کہا کہ 8484 پر ایس ایم ایس بھیجا جارہا ہے، لوگوں میں موبائل بند کرنے کے اقدام پر تشویش ہے، پی ٹی اے کسی اور کے لیے تھانہ بننے جارہا ہے. ارکان کمیٹی نے کہا کہ لوگوں کو صحیح طریقے سے بتایا بھی نہیں گیا، لوگ 8484 پر آئی ایم ای آئی نمبر بھیج رہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ 4 دن میں ہر طرف 8484 ایس ایم ایس گھوم رہا ہے، ہر پیغام کے چارجز بھی لیے جارہے ہیں. اجلاس کے دوران پی ٹی اے سے پوچھا گیا کہ وہ موبائل فون چوری ہونے پر کیا کرسکتا ہے؟ جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ چوری شدہ فون کو تلاش کرنا ہمارا کام نہیں، ہم ایسے فون بند کرسکتے ہیں. چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ہم ایک بات واضح کردیں کہ 20 اکتوبر کے بعد کوئی موبائل فون بند نہیں ہورہا.

دوران اجلاس سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ آپ نے عوام میں کیسی تشویش پھیلا دی ہے، ایک آدمی کا بھی موبائل فون بند نہیں ہونا چاہیے. اس موقع پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے ڈی آئی آر بی ایس کی ڈیڈلائن موخر کردی اور کہا کہ کمیٹی کے تحفظات دور ہونے تک موبائل فون بند نہ کیے جائیں. سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ہم آئی ایم ای آئی ویری ویریفیکشن سسٹم کا مکمل جائزہ لیں گے، کمیٹی کی اجازت کے بغیر عوام کو موبائل کی تصدیق کی ڈیڈ لائن نہ دی جائے.

انہوں نے کہا کہ کمیٹی اس معاملے پر پہلے مکمل بحث کرے گی، پھر اس کی اجازت دی جائے گی، موبائل فون کو بلاک کرنے کے بارے میں پہلے عوام کو مکمل آگہی دی جائے اور سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے نمائندوں کو بھی آئندہ اجلاس میں بلایا جائے. سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی نے کہا کہ میں متفق ہوں، ہمارے دیہی عوام کو
موبائل سم اور سیٹ کا پتہ ہی نہیں، وہ صرف موبائل پر آنے والی کال کو ہی سن
سکتے ہیں.

بعد ازاں کمیٹی نے پی ٹی اے اور وزارت آئی ٹی کو وضاحت کے لیے ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے کسٹم انٹیلی، ایف بی آر اور وزارت آئی ٹی کے حکام کو طلب کرلیا. دوسری جانب موبائل فون کی تصدیق کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے دی گئی ڈیڈلائن منسوخ کردی ہے.ذرائع کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) ایک مراسلہ جاری کررہی ہے کہ موبائل فون کی تصدیق کے لیے 20 اکتوبر کی ڈیڈ لائن منسوخ کردی گئی ہے.

قومی اسمبلی اور سینیٹ اراکین کی جانب سے تحفظات کے اظہار کے بعد پی ٹی اے نے موبائل فون کی تصدیق کی تاریخ میں غیر معینہ مدت تک توسیع کردی ہے. واضح رہے کہ ای سی سی اجلاس میں موبائل فون کی تصدیق کے لیے 20 اکتوبر کی ڈیڈلائن دی گئی تھی جس کے بعد پی ٹی اے نے بھی واضح کیا تھا کہ 20 اکتوبر کے بعد پی ٹی اے سے غیر منظور شدہ موبائل فون کی فروخت اور استعمال ممکن نہیں رہے گا.

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں