کورونا کے فیصلے وفاقی سطح پر ہوتے ہیں، این سی او سی کے فیصلوںپرپر صوبے نہ چاہتے ہوئے بھی عملدرآمد کے پابند ہیں،سید ناصرحسین شاہ

کے فور منصوبے کے ڈیزائن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، سندھ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملکر اس منصوبے پر کام کررہی ہے، جزائر پر کسی کو بھی غیر آئینی کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، وزیراطلاعات سندھ کیپٹن صفدر سے متعلق وزرا کمیٹی کی رپورٹ چند روز میں پبلک کی جائے گی،آرمی چیف کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اس معاملے پر ایکشن لیا ،پاکستان پیپلزپارٹی آزادی صحافت پر پختہ یقین رکھتی ہے،صحافیوں اور ہمارا چولی دامن کا ساتھ ہے،میڈیاہاؤسز کے مالکان سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں ادا کریں،کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو

منگل نومبر 23:17

کورونا کے فیصلے وفاقی سطح پر ہوتے ہیں، این سی او سی کے فیصلوںپرپر صوبے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 نومبر2020ء) وزیراطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ عدالتوں کی ہدایت پر کورونا وائرس کے فیصلے وفاقی سطح پر ہوتے ہیں، این سی او سی نے جو فیصلے کیے ہیں اس پر صوبے نہ چاہتے ہوئے بھی عملدرآمد کے پابند ہیں، کے فور منصوبے کے ڈیزائن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، سندھ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملکر اس منصوبے پر کام کررہی ہے، جزائر پر کسی کو بھی غیر آئینی کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیپٹن صفدر سے متعلق وزرا کمیٹی کی رپورٹ چند روز میں پبلک کی جائے گی،آرمی چیف کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اس معاملے پر ایکشن لیا ،پاکستان پیپلزپارٹی آزادی صحافت پر پختہ یقین رکھتی ہے،صحافیوں اور ہمارا چولی دامن کا ساتھ ہے،میڈیاہاؤسز کے مالکان سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں ادا کریں ۔

(جاری ہے)

ا س سلسلے میں صوبائی حکومت اپنا کردار ادا کرے گی ۔وفاقی حکومت کی سپورٹنگ اسکیم سے بھی صحافیوں کو فائدہ ملنا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کراچی پریس کلب میں میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر صوبائی وزیراطلاعات نے حکومت سندھ کی جانب سے ڈھائی کروڑ روپے کا چیک بھی کراچی پریس کلب کے حوالے کیا۔اس موقع پرسیکرٹری انفارمشن عمران عطا سومر،سیکرٹری بلدیات ہاوسنگ نجم احمدشاہ ،ایڈیشنل ڈی جی ناصرخان ڈپٹی ڈایکٹر عارف خان،کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران ،نائب صدر سعید سربازی ،سیکرٹری ارمان صابر ،جوائنٹ سیکرٹری ثاقب صغیر ،خازن راجہ کامران سمیت گورننگ باڈی کے ارکان بھی موجود تھے ۔

سیدناصر حسین شاہ نے کہا کہ پورے پاکستان میں صحافیوں کوسب سے زیادہ سپورٹ پیپلز پارٹی کی جانب سے دی جاتی ہے۔کراچی پریس کلب کے لیے ڈھائی کروڑ روپے کی گرانٹ ایک چھوٹا سا ٹوکن ہے جو بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایت پر دیا گیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ کراچی پریس کلب کے ممبران کی لائف انشورنس لازمی کرائی جائے جبکہ ممبران کے پلاٹوں کے معاملات کو بھی حل کررہے ہیں ۔

ایل ڈی اے کو اس حوالے سے فوری کام شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ایم ڈی اے اور تیسر ٹاؤن میں صحافیوں کو جوپلاٹ الاٹ کیے گئے ہیں وہ مکمل ادائیگی کرکے تعمیرات کا آغاز بھی کرسکتے ہیں ۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے جو سپورٹنگ اسکیم شروع کی گئی ہے اس سے بھی صحافیوں کو فائدہ ملنا چاہیے ۔وزیراطلاعات سندھ نے کہا کہ پیپلزپارٹی آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے ۔

انہوںنے کہا کہ کیپٹن (ر)صفدر کی گرفتاری کے حوالے سے وزراء کمیٹی کی رپورٹ جلد منظرعام پرآجائے گی۔ہم آرمی چیف کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اس معاملے پر ایکشن لیا۔سندھ کے جزائر پر کوئی غیرقانونی تعمیرات نہیں ہونے دیںگے۔سید ناصر شاہ نے کہا کہ جب کوروناوائرس کے پھیلا ؤ پاکستان میں شروع ہوا تو ہم بروقت اقدامات کیے ۔عدالتوں کے احکامات ہیں کہ ہم نے مل کر فیصلے کرنے ہیں ۔

این سی او سی میں فیصلے ہوتے ہیں ۔پابندیوں سے لوگوں کے بے روزگار ہونے کی بات درست ہے ۔ہم نے جو تجاویز دی ہیں اس پر عمل ہونا چاہیے ۔انہوںنے کہا کہ ٹیکسز کے نظام کو بہتر بنایا جارہا ہے ۔کوشش ہے کہ جو ٹیکس جمع ہو وہ قومی خزانے میں آئے ۔ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری کے بعد کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کی کارکردگی میں نمایاں فرق آیا ہے ۔کراچی پریس کلب کا ملک میں جمہوریت کی بحالی اور اس ک استحکام کے لیے تاریخی کردار ہے ۔

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو بھی یہاں آتی تھیں ۔آپ کا اور ہمارا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔میڈیا ورکرز ہمیں کبھی پیچھے نہیں پائیںگے ۔صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی تنخواہوں کے حوالے سے میڈیاہاؤسز کے مالکان سے بات کی ہے ۔اس حوالے سے سندھ حکومت اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی ۔کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران اور سیکرٹری ارمان صابر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پریس کلب کی گرانٹ کا معاملہ حل ہوگیا ہے اور آج ہمیں چیک دے دیا گیا ہے ۔

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے ہمیشہ پریس کلب کا ساتھ دیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ ایل ڈی اے میں 210پلاٹوں کا معاملہ تھا وہ حل ہورہا ہے اور متبادل جگہ دیکھ لی گئی ہے ۔ہم سندھ حکومت اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مشکور ہیں کہ انہوںنے دو سال روکی گئی گرانٹ بحال کی ہے ۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments