انتظامیہ کی نا اہلی سے کراچی پورٹ پر 10 دن کے دوران دوسرا بڑا حادثہ

ہفتے کے روز کراچی بندرگاہ پر چینی کی بوریوں سے بھرا کنٹینر ٹرالر سمندر میں جا گرا، کروڑوں روپے مالیت کی 33 ہزار ٹن چینی سمندر برد

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری ہفتہ 31 جولائی 2021 23:01

انتظامیہ کی نا اہلی سے کراچی پورٹ پر 10 دن کے دوران دوسرا بڑا حادثہ
کراچی (اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 31جولائی2021) انتظامیہ کی نا اہلی سے کراچی پورٹ پر 10 دن کے دوران دوسرا بڑا حادثہ، ہفتے کے روز چینی بیگز سے بھرا کنٹینر ٹرالر سمندر میں جا گرا، کروڑوں روپے کی چینی سمندر برد ہو گئی- تفصیلات کےمطابق ٹریلر ریورس ہوتا ہوا سمندر کے اندر گر گیا جس کے باعث ٹریلر موجود چینی کی 800 بوریاں ڈوب گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریلر کو نکالنے کی کوشش جاری ہے۔

کراچی پورٹ پر 10 دن کے دوران یہ دوسرا بڑا حادثہ ہے- یہ حادثہ کے پی ٹی ایسٹ و ہارف پر پیش آیا- حادثے میں ڈرائیور کو بروقت بچا لیا گیا، کنٹینر میں 780 بیگز لوڈ کیے گئے تھے، ٹرالر اور کنٹینر سمندر میں گرنے سے ٹی سی پی کی کروڑوں روپے کی چینی سمندر برد ہو گئی۔ ایم وی یونٹی جہاز دبئی سے 33 ہزار ٹن چینی لے کر 27 جولائی کو کراچی پہنچا تھا، تاہم لاک ڈاؤن کی وجہ سے کے پی ٹی پر مزدوروں کی تعداد کم ہونے سے جہاز سے چینی کی ان لوڈنگ مکمل نہ ہو سکی تھی۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی عید کے دن ایک کارگو جہاز بھی کے پی ٹی چیل س ساحل پر پھنس چکا ہے- کے پی ٹی حکام کی جانب سے اس تمام صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شہر قائد کے تفریحی مقام سی ویو پر پھنسا بحری جہاز بھارتی بندرگاہ سے براستہ ہانگ کانگ کراچی آیا تھا، کراچی آمد کے بعد بحری جہاز کو یہاں سےترکی کے شہر استنبول جانا تھا۔ جہاز کی پاکستان آمد 18 جولائی کو اس وقت ہوئی جب کراچی مون سون سلسلے کی زد میں تھا۔

سمندر میں طغیانی اور تیز ہواؤں کے باعث بحری جہاز سی ویو کے ساحل پر آ کر پھنس گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ہینگ ٹانگ نامی یہ مال بردار جہاز 2 ہزار 250 ٹن وزنی ہے اور اس کا کراچی آمد کا مقصد عملے کی تبدیلی تھا۔ جہاز کو سی ویو سمندر سے دور دھکیلنے کے حوالے سے کے پی ٹی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کو نکالنے اور سمندر میں واپس لے جانے کی ذمے داری جہاز راں کمپنی کی ہے، ریسکیو کا کام ماہر کمپنی ہی کر سکتی ہے۔

کے پی ٹی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کے ریسکیو کی ذمے داری ان پر عائد نہیں ہوتی، تاہم جہاز کے ٹوٹنے کی صورت میں ساحل اور سمندر سمیت ماحولیات کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کے پیش نظر نقصانات سے بچنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حفاظتی اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے جہاز کے چاروں طرف مخصوص باڑھ لگادی گئی ہے۔ اس باڑھ کے باعث جہاز ٹوٹنے کی صورت میں اگر تیل بہتا ہے تو یہ باڑھ تیل کو سمندر میں پھیلنے سے روک لے گا۔ جبکہ دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے بحری جہاز کی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments