کورونا وائرس :طاہرالقادری نے حکومت سندھ کے اقدامات کی تعریف کردی

سندھ حکومت کے عملی اقدامات عوام کے تحفظ کا بہترین ذریعہ ہیں دیگر صوب بھی تقلید کریں،سربراہ پاکستان عوامی تحریک

جمعرات مارچ 22:44

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 26 مارچ2020ء) پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی رہنماء سید ظفر اقبال کا مشیر وزیر اعلی سندھ محترم راشد ربانی سے ٹیلیفونک رابطہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی جانب سے کرونا کے خلاف حکومت سندھ کے بروقت اقدامات کی تعریف کی، وزیراعلی سندھ کی موثر رہنمائی کو سراہتے ہوئے کہا سندھ حکومت کے عملی اقدامات عوام کے تحفظ کا بہترین ذریعہ ہیں دیگر صوبے اقدامات کی تقلید کریں۔

ترجمان پی اے ٹی کے مطابق سید ظفر اقبال نے کرونا کے خلاف منہاج ویلفیئر فاونڈیشن کے اقدامات سے آگاہ کیا اور تحریک منہاج القرآن، پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے حکومت سندھ کو بھرپور حمایت کی یقین دہانی کروائی۔*سید ظفر اقبال شاہ نے مشیر وزیر اعلی سندھ راشد ربانی صاحب سے کہا کہ ضرورت پڑنے پر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے رضاکار حکومت سندھ کی مدد کیلئے ہمہ وقت تیار اور دستیاب ہیں۔

(جاری ہے)

اس موقع پرمشیر وزیراعلی راشد ربانی نے وزیر اعلی سندھ کی جانب سے شیخ السلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کی جانب سے "متعددی امراض (کرونا وائرس) سے بچاؤ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے آگاہ کرنے کو سراہا۔اور کہا شیخ الاسلام نے ہر مشکل وقت میں عالم اسلام کی رہنمائی فرمائی کرونا وائرس کے خلاف منھاج ویلفئر فاؤنڈیشن کی خدمات کو سراہا اور حکومت سندھ کیلیے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے رضا کاروں کی دستیابی پر شکریہ ادا کیا۔

کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن کے باعث بندرگاہ پر درآمدی مال کے ڈھیر لگ گئیکمرشل امپورٹرز نے صنعتوں کو خام مال کی فراہمی متاثرہونے کا خدشہ ظاہر کردیا، چیئرمین پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن امین یوسف بالا گام والا کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کمرشل امپورٹرز پورٹ سے درآمدی مال اٹھانے سے قاصر ہیں،ا بندرگاہ اور کسٹم کھلا ہے لیکن کمرشل امپورٹرز لاک ڈاؤن کی وجہ سے مال نہیں اٹھا پارہے، صنعتوں باالخصوص ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل انڈسٹری اور سینی ٹائزرکے خام مال کی فراہمی تعطل کا شکار ہو سکتی ہے،پورٹ پر درآمدی مال کے ڈھیر لگ گئے ہیں، مزید مال آیا تو رکھنے کی جگہ کم پڑ جائے گی، چیئرمین پی سی ڈی ایم اے نے کہا کہ کمرشل امپورٹرز کو کسٹم،بندرگاہ تک رسائی کی اجازت دی جائے، لاک ڈاؤن کے باعث پورٹ چارجز، بینک چارجز ایک سے 2ماہ کے لیے ختم کیے جائیں،ان کا مزید کہنا تھاکہ درآمدی مال پریومیہ ڈیمرج اور دیگر چارجز لاگو ہورہے ہیں، موجودہ حالات میں کمرشل امپورٹرز ڈیمرج، جرمانے و دیگر چارجزادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے، صنعتیں بند ہونے، مارکیٹوں کو تالے لگنے سے درآمدکنندگان کا سرمایہ پھنس کر رہ گیا ہے،خام مال کے درآمدکنندگان کو سرمائے کی شدیدقلت کا سامنا ہے،موجودہ حالات میں برآمدکنندگان اور مینوفیکچررز سے کس طرح بقاجات وصول کریں،مختلف ٹرمینل کے پی ٹی،پی آئی سی ٹی،کے آئی سی ٹی،ایس اے پی ٹی اے کے چارجز دو ماہ کے لیے ختم کیے جائیں، جی ڈی فائلنگ میں تاخیر پر چارجزسمیت لاک ڈاؤن کی مدت تک بینک چارجز بھی ختم کیے جائیں۔

#

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments