کراچی رابطہ کمیٹی کا برساتی آبی نالوں کے صفائی ستھرائی کے کاموں کا جائزہ

جمعہ دسمبر 23:40

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 دسمبر2020ء) کراچی کی ترقی کیلئے تشکیل دی گئی رابطہ کمیٹی نے شہر کی ترقی کیلئے اٹھائے جانے والے مختلف اقدامات کی پیشرفت کا جائزہ لیا جس میں نالوں کی صفائی ، کچرے کو ٹھکانے لگانا ، پانی کی فراہمی اور کچھ اہم سڑکوں کی تعمیر شامل ہیں۔ اجلاس میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ جس میں وزیر بلدیات ناصر شاہ، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ ، چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم، ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی افتخار شہلوانی، سیکرٹری بلدیات نجم شاہ، سیکرٹری ٹرانسپورٹ شارق احمد ، ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ خان ، ایم ڈی ایس ایس ڈبلیو ایم اے زبیر چنہ اور این ای ڈی کے پروفیسر ڈاکٹر عدنان نے شرکت کی جبکہ وفاقی حکومت کی نمائندگی اسد عمر نے کی اور ان کے ہمراہ دیگر ممبران میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ہمایوں عزیز ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ، جی او سی کراچی میجر جنرل عقیل اور دیگر شامل تھے۔

(جاری ہے)

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ انہوں نے این ای ڈی یونیورسٹی کو تین بڑے نالوں جس میں محمود آباد ، گجر اور اورنگی نالہ شامل ہیں کا سروے اور انکی ری ماڈلنگ ڈیزائن کی تیاری کا کام سونپا ہے۔ یونیورسٹی نے محمود آباد نالہ کا ایک تفصیلی ڈیزائن اور ازسر نو تکمیل کا منصوبہ پیش کیا ہیباقی دو دیگر نالوں کی ڈیزائننگ اور سروے کا کام 15 جنوری تک مکمل ہوجائے گا۔

وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ محمود آباد نالے کی ری ماڈلنگ ڈیزائن کو منظوری کیلئے پیش کردیاگیا ہیجہاں تک ڈیزائن کی تفصیلات کا تعلق ہے تو وزیراعلی سندھ نے کہا کہ انکے پشتوں کے ساتھ تعمیر شدہ 319 اسٹرکچرز متاثرہونگے۔انہوں نے مزید کہا کہ محمود آباد نالہ کورنگی کے مقام پر 6میٹر گہرائی تک ہے اور اسکے بعد گہرائی میں بالترتیب کمی کا سامنا ہے جوکہ ڈیفنس کے اختتام تک ایک میٹر تک گہرائی ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کے ہموار بہا کی نکاسی کے حوالے سے یہ ایک سنگین مسئلہ درپیش ہے۔ انہوں نے کہا تجویز کردہ ری ماڈلنگ ڈیزائن میں ان نقائص کو دور کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ محمود آباد نالہ پر کام جلد شروع کیا جانا چاہئے تاکہ منصوبے کو تکمیل جلد از جلد کی جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نالوں کے صفائی ستھرائی کے کاموں اور ان سے متعلقہ اسائنمنٹز کیلئے وفاقی حکومت نے 7 ارب روپے استعمال کرنے کیلئے این ڈی ایم اے کو اختیار دیا ہے۔

کے۔فور منصوبہ:اجلاس میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے کے فورمنصوبے کی تکمیل کا کام اپنے ذمے لیا ہے لہذا تمام متعلقہ دستاویزات مرکزی حکومت کے حوالے کردئے گئے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے واپڈا کو اسکی تکمیل کا کام تفویض کیا ہے اور اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کا عزم کیا ہے۔30 ایم جی ڈی:وزیر اعلی سندھ نے بتایا کہ ان کی حکومت نے ضلع جنوبی کو پانی کی فراہمی کیلئے 30 ایم جی ڈی اسکیم شروع کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پورٹ قاسم اتھارٹیز اس اسکیم کیلئے منظوری دینے سے گریزاں ہیں لہذا انہوں نے وفاقی وزیر اسد عمر پر زور دیا کہ وہ پی کیو اے کو ہدایت کریں کہ وہ راستہ صاف کریں تاکہ اسکیم مکمل ہوسکے۔ اسد عمر نے وزیراعلی سندھ کو یقین دلایا کہ اس حوالے سے تمام تر معاملات حل ہوجائیں گے۔ایس ایس ڈبلیو ایم بی:وزیراعلی سندھ نے کہا کہ شہر کی سطح پر تفوض کرنے کیلئے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے قانون میں ضروری ترامیم کی جارہی ہیں۔

کراچی شہر میں صفائی کے کاموں کو انجام دینے کیلئے الگ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ ہوگا جوکہ صفائی ستھرائی کا کام کرے گا۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ صفائی کے کاموں سے سڑکیں صاف ہوجائیں گی ، دروازے کے سامنے سے کچرا اٹھاکر گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن (جی ٹی ایس) اور اسکے بعد اسے لینڈ فل سائٹ تک منتقل کیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع وسطی اور ضلع کورنگی کے صفائی ستھرائی کے کاموں کا ٹھیکہ آکشن کیا جارہا ہے۔

فروری کے آخر تک دونوں اضلاع میں صفائی کے کاموں کا ٹھیکہ دیا جائے گا۔ وزیراعلی سندھ نے اجلاس کو بتایا کہ اسی اثنا میں وہ شہر کو صاف ستھرا بنانے کیلئے خصوصی مہم چلارہے ہیں۔سڑکیں:وزیراعلی سندھ نے اجلاس کو بتایا کہ وہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ کے تحت میگا پراجیکٹس، ملیر ایکسپریس وے اور آئی سی آئی پل کی ری ماڈلنگ کرنے جا رہے ہیں۔ یہ دونوں اسکیمیں شہر میں ٹریفک کی روانی کو نئی جہت دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے گل بائی سے وائی جنکشن تک خستہ حال سڑکوں اور سائٹ کے مرکزی اور اندرونی سڑکوں کی تعمیر کیلئے خصوصی فنڈز بھی جاری کیے ہیں۔ اجلاس میں نالوں کی صفائی کے کام کو تیز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments