جب کوئی ریٹائر ہوجاتا ہے تب ہی انکے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات کیوں ہوتے ہیں ، مصطفی کمال

پاکستان چلانے والوں اور عدلیہ کے ایماندار لوگوں کو ایک طریقہ کار وضع کرنا ہوگا جس کے تحت کوئی غلط بندہ سسٹم میں داخل نہ ہو، چیئرمین پی ایس پی

جمعہ 26 نومبر 2021 20:10

جب کوئی ریٹائر ہوجاتا ہے تب ہی انکے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات کیوں ہوتے ہیں ، مصطفی کمال
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 نومبر2021ء) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ جب کوئی ریٹائر ہوجاتا ہے تب ہی انکے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات کیوں ہوتے ہیں پاکستان چلانے والوں اور عدلیہ کے ایماندار لوگوں کو ایک طریقہ کار وضع کرنا ہوگا جس کے تحت کوئی غلط بندہ سسٹم میں داخل نہ ہو اور اگر کوئی غلط بندہ داخل ہو بھی جائے تو غلط کام کرنے سے پہلے عدلیہ خود اسے روک لے تاکہ عدلیہ کی ساکھ متاثر نا ہو۔

سب سے زیادہ ظلم ہماری عدالتوں میں ہو رہا ہے۔ عام آدمی کو انصاف نہیں مل رہا۔ دس سال میں دو سابق چیف جسٹس افتخار چودھری اور اب ثاقب نثار پر سنگین الزامات لگے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ یہ ابھی شروعات ہے۔ یہ پاکستان اور عدلیہ کیلئے ٹھیک نہیں اور ہر پاکستانی کو تشویش ہے۔

(جاری ہے)

پی ڈی ایم جب تک پیپلز پارٹی کو ساتھ ملا کر انقلاب لانے کی بات کرتی رہے گی تب تک پاکستان بالخصوص سندھ کی عوام پی ڈی ایم کے ساتھ کھڑی نہیں ہوگی۔

پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی ایک سکے کے دو رخ ہیں، دونوں ایک دوسرے کی حکومت چلا رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف، مریم نواز اور پی ڈی ایم کی دیگر قیادت جس طرح عمران خان کے ظلم کے خلاف کھڑی ہے پیپلز پارٹی کے ظلم کے خلاف بھی کھڑی ہو، عمران خان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے وعدوں کے برخلاف سندھ کی عوام کو پیپلز پارٹی کے ظلم سے بچایا نہیں لیکن سندھ کو مارا تو پیپلز پارٹی نے ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سید مصطفی کمال نے مزید کہا کہ اگر کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس سے اس کی امید چھین لیں، پاکستان میں لوگوں کی امیدیں چھنتی چلی جا رہی ہیں۔پاکستانی مایوسی کی کیفیت میں ہیں۔ ہمارے معاشرے میں کردار کی اہمیت ختم ہو گئی ہے، جو بندہ انسان اچھا نہیں وہ کونسلر، میئر، وزیر اعلی، وزیراعظم، چیف جسٹس، سرکاری ملازم، سیاستدان کچھ بھی اچھا نہیں بن سکتا لیکن المیہ یہ ہے کہ کردار کی جب بات کرو تو کہا جاتا ہے کہ تمام برائیاں فرد واحد کا ذاتی معاملہ ہے۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی عوامی نمائندے یا سرکاری عہدے پر فائز آدمی کا کردار اس کا ذاتی مسئلہ نہیں ہوسکتا۔ معاشرے کی بنیاد خراب ہوچکی ہے۔ اسی وجہ سے ملک میں حالیہ تباہی ہے۔ مصطفی کمال نے مزید کہا کہ نسئلہ ٹاورز کے متاثرین کو معاوضہ ادا کیے بغیر نسئلہ ٹاورز کو توڑا جارہا ہے، نسئلہ ٹاورز کو جس طرح بم اور ہتھوڑوں سے توڑ رہے ہیں اس طرح سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھی بم اور ہتھوڑے مار مار کر توڑ دیں، پورے شہر میں غیر قانونی تعمیرات رک جائیں گی۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments