عمران خان 5اگست کو کشمیر کے حوالے سے کیے جانے والے بھارتی اقدام سے پہلے سے آگاہ تھے، انہوں نے کشمیر کا سودا کیا ہے: ریحام خان

عمران خان نے نریندرا مودی کو خوش کرنے کے لیے خود اس حوالے سے معاہدہ کرنے کی پیشکش بھی کی تھی: وزیراعظم کی سابقہ اہلیہ کا دعویٰ

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ منگل اگست 23:09

عمران خان 5اگست کو کشمیر کے حوالے سے کیے جانے والے بھارتی اقدام سے پہلے ..
لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 اگست 2019ء) وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان 5اگست کو کشمیر کے حوالے سے کیے جانے والے بھارتی اقدام سے پہلے سے آگاہ تھے اور انہوں نے کشمیر کا سودا کیا ہے اور وزیراعظم عمران خان نے نریندرا مودی کو خوش کرنے کے لیے خود اس حوالے سے معاہدہ کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔ ریحام خان نے بھارتی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بلا ججھک یہ کہہ سکتی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کا سودا کرلیا ہے۔

ریحام خان نے مزید کہا ہے کہ 5 اگست کو بھارت نے جب کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کیا تو میری کی ایک ٹیم ممبر نے کشمیر پر سودے بازی کے حوالے سے مجھ سے جب یہ پوچھا کیا یہ سچ ہے کہ عمران اس سب کے بارے میں پہلے سے آگاہ تھے؟ تو میں نے کہا کہ ہاں یہ سب سچ ہے لیکن سب دعا کریں کہ یہ خبر جھوٹی ہو۔

(جاری ہے)

ریحام خان نے وزیراعظم عمران خان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے اور انہوں نے اس حوالے سے خود بھارت کو معاہدہ کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔

اس کے علاوہ آج آرمی چیف کو مدتِ ملازمت میں توسیع دینے کے حوالے سے ریحام خان نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ میرے لیے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کوئی اچھنبےکی بات نہیں ۔ اپنا تھوکا ہوا چاٹنا سلیکٹڈ کی عادت ہے۔ سلیکٹر کی مدت ملازمت میں توسیع سے سلیکٹڈ کی مدت ملازمت میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔ خیال رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتملازمت میں تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ مزید تین سال کے لیے آرمی چیف کے عہدے پر مقرر رہیں گے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر 2019ء کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے تھے لیکن اب ان کی مدت ملازمت میں مزید تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے جس کے تحت جنرل قمر جاوید باجوہ نومبر 2022ء تک چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments