ڈاکٹرعرفان کی ایک اور متنازعہ ویڈیو سامنےآگئی

اگرڈاکٹرشدت پسند ہیں تو ان شدت پسندوں کےبغیر ہسپتال نہیں چلائے جا سکتے: ڈاکٹرعرفان کا بیان

Usama Ch اسامہ چوہدری ہفتہ دسمبر 22:16

ڈاکٹرعرفان کی ایک اور متنازعہ ویڈیو سامنےآگئی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین 14 دسمبر2019) :ڈاکٹرعرفان کی ایک اور متنازعہ ویڈیو سامنےآگئی ہے۔ ڈاکٹرعرفان نے ویڈیو میں کہا ہے کہ اگرڈاکٹرشدت پسند ہیں تو ان شدت پسندوں کےبغیر ہسپتال نہیں چلائے جا سکتے۔ تفصیلات کے مطابق پی آئی سی ہنگامہ آرائی میں مرکزی کردار رکھنے والے ڈاکٹر عرفان کی ایک اور ویڈیوسامنے آئی ہے۔ ویڈیو میں ڈاکٹر عرفان کا کہنا ہے کہ آج کے روز ہڑتال کےباعت پنجاب کے تمام ہسپتالوں میں کام بند ہے،او پی ڈی بھی بند ہے۔

انکا کہنا ہے کہ حکومت کا موقف ہے کہ کچھ شدت پسند لوگ ہیں جو کہ ہسپتال کو چلنے نہیں دیتے،ہم نے حکومت کو یہ بات بتا دی ہے کہ اگر ہم شدت پسند ہیں تو ہمارے بغیر ہسپتال چل بھی نہیں سکتے۔ انکا مزید کہنا ہے اگر ہم کام نہیں کرتے تو کوئی کام بھی نہیں کر سکتا۔

(جاری ہے)

ویڈیو میں عمران خان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب شوکت بسرا کا کہنا تھا کہ اپنے رویے پر ڈاکٹر عرفان کو معافی مانگنی چاہیے۔

انھوں نے کہا تھاکہ ڈاکٹر عرفان کا رویہ بالکل بھی ڈاکٹروں والا نہیں تھا۔ تفصیلات کے ایک نجی ٹی وی جینل کے پروگرام میں ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب شوکت بسرا کا کہنا تھا کہ اپنے رویے پر ڈاکٹر عرفان کو معافی مانگنی چاہیے۔ انھوں نے کہا تھاکہ ڈاکٹر عرفان کا رویہ بالکل بھی ایک مسیحا جیسا نہیں تھا، انکا رویہ بہت زیادہ غیر سنجیدہ تھا۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر عرفان نے محض اتنا کہا تھا کہ جس وقت حملہ کیا گیا اس وقت میں آپریشن تھیٹر میں موجود تھا اور آپریشن تھیٹر میں پتھر مارے گئے اور شیشے توڑے گئے ۔

یاد رہے کہ ی آئی سی واقعے کی رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کر دی گئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 200 سے 250 افراد نے ہسپتال پر حملہ کیا،وکلا نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کہ پی آئی سی پر دھاوا بولا، ریلی پہنچنے سے آدھا گھنٹہ قبل دو خواتین وکلا نے ہسپتال کے اندرونی حصوں کی فوٹیج بنائی، ڈاکٹر فضا، ڈاکٹر صدف اور ڈاکٹر رحمان سمیت 6 ڈاکٹرز کو تششد کا نشانہ بنایا گیاتھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیاتھا ہے کہ تشویشناک حالت کے مریض بھی وکلا کی اینٹوں اور پتھروں کا نشانہ بنے،مشتعل وکلا نے مریضوں کے لواحقین کو دھمکیاں بھی دیں۔ اس سے قبل وفاقی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ یاسمین راشد اور فیاض الحسن چوہان نہ ہوتے تو زیادہ نقصان کا خدشہ تھا۔ انکا کہنا تھا کہ وزیرا علیٰ نے واضع پیغام دیا ہے کہ ملزمان کے خلاف سخت کاروائی کی جائیگی۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر قانون راجہ بشارت نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی جو روایت شروع ہوئی ہے اسے ختم کیا جائیگا۔ انکا کہنا تھا کہ ہنگامہ آرائی میں ملوث کچھ افراد کی شناخت کی جا چکی ہے۔انکا کہنا تھا کہ جو لوگ ذمہ دار ہیں ان کے خلاف بھر پور کاروائی کی جائیگی، وزیرا علیٰ نے واضع پیغام دیا ہے کہ ملزمان کے خلاف سخت کاروائی کی جائیگی۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments