اسرائیل کو تسلیم کروانے کے لیے ٹرمپ کے داماد کی دوڑ،محمد بن سلمان سے مذاکرات

مسلم ممالک پر دباﺅ،عرب ممالک کا آخری دور عروج پرایران کے خلاف گٹھ جوڑ کی نئی مہم

Sajjad Qadir سجاد قادر بدھ دسمبر 05:42

اسرائیل کو تسلیم کروانے کے لیے ٹرمپ کے داماد کی دوڑ،محمد بن سلمان سے ..
ریاض (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 02  دسمبر2020ء) جیراڈ کشنر جو کہ ڈو نلڈ ٹرمپ کا داماد ہے اور امریکی اسٹیٹ کا سینئر ایڈوائزر بھی ہے گزشتہ چند دنوں سے گلف کے آخری دورے پر اسرائیل کو تسلیم کروانے کی فائنل مہم پر گھوم رہا ہے۔گزشتہ سوموارکوکشنر سعودی عرب پہنچا جہاں اس نے امریکہ کی مڈل ایسٹ سے متعلق پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے قطر اور سعودی عرب کے تعلقات کی بات کی اور اس کے ساتھ ایران کے ساتھ مزاید سخت برتاﺅ کرنے ا ور خطے میں اسے تنہا کرنے کے معاملے پر بات چیت کی۔

تاہم اس دورے کا سب سے اہم مقصد کہ سبھی مسلم ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں وہ بھی زیربحث رہا تاکہ سعودی عرب جلد از جلد اسرائیل کو تسلیم کر لے۔کشنر نے گلف کوآپریشن کونسل کو تہران کے خلاف متحد ہونے کے لیے راہ ہموار کی اور اس سلسلے میں سعودی عرب کی طرف سے قطر کے لیے تین سال سے بند زمینی اور فضائی پابندی بھی ختم کروا دی گئی۔

(جاری ہے)

سعودی اور اس کے اتحادی ممالک نے 2017میں قطر پر زمینی اور فضائی حدود کی پابندی یہ کہہ کر لگائی تھی کہ اس کے تہران کے ساتھ تعلقات زیادہ اچھے ہیں اور وہ اس کے ساتھ مل کر خطے میں دہشت گردی کوفروغ دے رہا ہے۔

تاہم قطر نے ان سارے الزامات کی ہمیشہ تردید کی تھی۔اور اب ان کے درمیان جیراڈ کشنر نے سارے معاہدے بڑی خوش اسلوبی سے طے کروا دیے ہیں۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کشنر نے یہ سارا کچھ اسرائیل کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے کیا ہے۔کشنر ٹرمپ کی حکومت کے آخری دنوں میں سر توڑ محنت میں لگا ہوا ہے کہ ریاض اور تل ابیب کے درمیان امن معاہدہ قائم ہو جائے اور سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک کی فہرست میں آ جائے تاکہ باقی مسلم ممالک پر بھی آسانی سے دباﺅ ڈالا جا سکے۔

اب یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ امریکہ تمام تر کوششوں کے باوجود مسلم ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کروانے میں کامیاب ہو پاتا ہے یا نہیں۔تاہم یہ تو واضح ہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے حوالے سے کچھ نرم گوشہ پال لیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس نے اسرائیلی جہاز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی خاص اجازت عطا فرما دی ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments