خواجہ داؤد سلیمانی کے الزامات مسترد، اراکین اسمبلی نے کارروائی کا مطالبہ کر دیا

خواجہ داؤد کے حلقے میں کام نہ ہونے کا دعویٰ مسترد، حلقے کے لیے ساڑھے 3 ارب روپے کا پیکج دیا ، خواجہ داوَد کے پیچھے کون ہے بے نقاب کریں گے ، پی ٹی آئی اراکین پنجاب اسمبلی کی گفتگو

Sajid Ali ساجد علی بدھ جنوری 18:28

خواجہ داؤد سلیمانی کے الزامات مسترد، اراکین اسمبلی نے کارروائی کا ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 27 جنوری2021ء) پاکستان تحریک انصاف کے ارکان پنجاب اسمبلی نےخواجہ داؤد سلیمانی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رکن خواجہ داؤد سلیمانی کے وزیر اعلیٰ پنجاب پرالزامات کے معاملے میں ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے وزیراعلیٰ پنجاب پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی ارکان نے خواجہ داؤدکے الزامات کو رد کر دیا۔

ذرائع کے مطابق رکن اسمبلی حنیف پتافی نے خواجہ داؤد کے حلقے میں کام نہ ہونے کا دعویٰ مسترد کردیا ، انہوں نے کہا کہ خواجہ داؤد کے حلقے کے لیے ساڑھے 3 ارب روپے کا پیکج دیا گیا ، جب کہ جنوبی پنجاب میں بھی ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا جارہا ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک اور رکن پنجاب اسمبلی سردار احمد علی خان دریشک نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں تمام پی ٹی آئی ارکان متحد ہیں ، خواجہ داوَد کے پیچھے کون ہے بے نقاب کریں گے ، خواجہ داؤد اپنی نااہلی چھپانے کیلئے الزامات لگا رہے ہیں ، جس کی بنیاد پر خواجہ داوَد کے خلاف پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ایکشن ہونا چاہیئے۔

(جاری ہے)

دوسری طرف پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی خواجہ داؤد سلیمانی نے کہا ہے کہ 15 سے 20 ارکان صوبائی اسمبلی وزیراعلیٰ سے اختلاف رکھتے ہیں ، یہ تمام 15 سے 20 ارکان صوبائی اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں ، وزیراعلیٰ سے آٹھ ماہ قبل اختلافات پیدا ہوئے تھے ، جس کے بعد چودھری پرویزالہیٰ نے صلح کروائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کی گارنٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ نے دی تھی ، لیکن جو وعدہ کیا گیا تھا ہر کام اس کے الٹ ہو رہا ہے ، جب کہ ڈی جی خان کی ساری انتظامیہ کسی کی بات نہیں سنتی۔

قبل ازیں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ہم خیال گروپ نے سینیٹ الیکشن میں اپنا امیدوار لانے کا عندیہ دے دیا ، پنجاب اسمبلی میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ناراض اراکین کے ہم خیال گروپ کے رکن خواجہ داود سلیمانی نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ہم ناصرف استعفے دیں گے ، جو کہ ہمارا متفقہ فیصلہ ہوگا ، اس کے علاوہ سینیٹ الیکشن میں ہم اپنا امیداور بھی لائیں گے تاہم ہماری طرف سے اپنی جماعت سے دھوکہ نہیں کیا جائے گا ، اسی لیے ہم کسی اور جماعت سے بھی اتحاد نہیں کریں گے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments