تحریک انصاف نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے ‘محمد جاوید

حکمرانوںمیں فہم و فراست کے نام کی کو ئی چیز نہیں، قوم تبدیلی کے خمار سے باہر آچکی ہے‘جماعت اسلامی پنجاب وسطی

پیر 6 دسمبر 2021 14:13

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 دسمبر2021ء) امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے معاہدے، ملک میں مسلسل مہنگائی میں اضافہ کررہے ہیں۔ میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آنے والے منی بجٹ میں بجلی کے نرخوں 4.85 روپے فی یونٹ اضافے کی نوید سناکر قوم کا خون خشک کردیا گیا ہے۔

اس سے بجلی کے صارفین پر ماہانہ 61 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا جبکہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں ہر ماہ 4 روپے فی لیٹر اضا فے سے صارفین پر 356ارب روپے کا بوجھ پڑے گا اور ہر ماہ اضافے کا سلسلہ جون 2022ء تک جاری رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف عوامی وفود سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے منی بجٹ میں حکومت کی جانب سے اشیاء خوردونوش اور ادویات کے علاوہ دیگر اشیاء پر 350ارب روپے ٹیکس چھوٹ ختم کردی جائے گی۔

(جاری ہے)

پبلک سیکٹر کے ترقیاتی منصوبوں میں 200ارب کم کرکے 700ارب کرنے سے جاری ترقیاتی منصوبے بھی متاثر ہوں گے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حکمرانوںمیں فہم و فراست کے نام کی کو ئی چیز موجود نہیں۔ پورے کے پورے ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے اور اس بات کا اعتراف خود پی ٹی آئی کاگورنر پنجاب چوہدری سرور بھی کرچکے ہیں۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کی ہدایت پر اسٹیل ملز ، ریلوے، واپڈا ، پی آئی اے کی نجکاری کرنا چاہتی ہے۔

اس سے ہزاروں افراد کا روزگار دائو پر لگ جائے گا۔ جو حکومت ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے کا وعدہ کرکے بر سر اقتدار آئی تھی، اب وہی لوگوں کو بے روزگار اور ان سے چھت چھین رہی ہے۔ ملک کے بیرونی قرضے 127ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں۔ ملکی معیشت کا کل حجم 280ارب ڈالر ہے جبکہ ایف ٹیف کی گرے لسٹ سے ملکی معیشت کو 50ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ 1190ڈالر فی کس آمدنی کے ساتھ پاکستان کا 181واں نمبر ہے۔ تبدیلی سرکار نے ملک کی معیشت کا وہ حشر کیا جو کوئی دشمن بھی نہیں کرسکتا۔ ان سے نجات حاصل کئے بغیر پاکستان کو نہیں بچایا جا سکتا ۔قوم تبدیلی کے خمار سے باہر آچکی ہے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments