بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی کے خلاف مذمتی قرارداد منظور؛پوری قوم دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی دیواربن کرکھڑی ہی؛اراکین اسمبلی

جمعہ اپریل 00:45

کوئٹہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 اپریل2019ء) بلوچستان اسمبلی نے سانحہ ہزارہ گنجی کے تناظرمیں دہشت گرد ی کے خلاف متفقہ مذمتی قرارداد منظورکرتے ہوئے کہاہے کہ دہشت گردوں کاکوئی مذہب نہیں ہوتا پوری قوم دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلائی دیواربن کرکھڑی ہے ۔کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں 21 بے گناہ افراد کی شہادت افسوسناک اور قابل مذمت ہے جوکہ بلوچستان کے امن کوتہیہ وبالا کرنے کی سازش ہے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو ڈپٹی اسپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل کی صدارت میں ہوا اجلاس میں رکن اسمبلی قادر نائل کی جانب سے کوئٹہ میں ہزار گنجی کے مقام پر پیش آنے والے دہشت گرد ی کے واقعہ کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی گئی جبکہ سانحہ ہزارگنجی اوراماڑہ اورچمن میں دہشت گردی کاشکار ہونے والے افراد کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لواحقین سے یکجہتی کااظہارکیاگیا۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیرداخلہ وپی ڈی ایم اے میرضیاء اللہ لانگو نے اجلاس کوبتایاکہ صوبے میں بحالی امن کیلئے پولیس ؛لیویز اورایف سی تمام دستیاب وسائل بروئے کارلاتے ہوئے عوام کے جان ومال کے تحفظ کیلئے سرگرم عمل ہیں ۔انہوںنے بتایاکہ فرنیٹئرکوربلوچستان کو ماہانہ 9 کروڑایک لاکھ روپے اخراجات کی مد میں ادا کئے جاتے ہیں ایف سی کو 2004 میں بحالی امن کیلئے بلوچستان میں تعینات کیاگیااوراس وقت بلوچستان کے پندرہ مقامات پر ایف سی کی 71 پلاٹون اورایک وینگ لاء ایند آڈر برقراررکھنے کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

انہوںنے کہاکہ بتایاکہ بلوچستان کے سیلاب اوربارشوں سے متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم اے نے حسب ضرورت امدادی سامان فراہم کردیاہے اوریہ سلسلہ تاحال جاری ہے نقصانات کے ازالے کیلئے وفاقی حکومت سے 10 ارب کی فراہمی کی استدعا کی گئی ہے ۔صوبائی وزیرخزانہ ظہوراحمد بلید ی اورپارلیمانی سیکرٹری محترمہ بشریٰ رند نے اجلاس کوبتایاکہ گوادر میں پینے کے پانی کامسئلہ حل کرد یاگیاہے پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یارمحمد رند نے کہاکہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات باعث افسوس ہیںجس پر وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ آکر ہزارہ برادری سے اظہاریکجہتی کیااس طرح کے واقعات پرقابوپانے کیلئے سیف سٹی پروجیکٹ پربلا تعطل عمل درآمد شروع کردیاجائے قائدایوان وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاکہ ہم نے حکومت سنبھالنے ہی خشک سالی سے نمٹنے کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کیاحالیہ بارشوں سے پیداہونے والی صورتحال کی ذمہ داری نظام میں موجودہ وہ خرابیاں ہیں جنہیں دورکرناحکومت کی ذمہ داری ہے اورہم یہ کررہے ہیں بعدازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 29 اپریل تک کیلئے موخر کردیاگیا۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments