عوام نے جماعت اسلامی کا ساتھ دیاتو حقیقی اسلامی انقلابی تبدیلی آئیگی ،مولانا عبدالحق ہاشمی

اتوار 16 جنوری 2022 20:55

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 جنوری2022ء) امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہاہے کہ عوام نے جماعت اسلامی کا ساتھ دیاتو حقیقی اسلامی انقلابی تبدیلی آئیگی قوم کو مسائل حل اور نفاذاسلام ہوگابصورت دیگر آئی ایم ایف اور امریکی آلہ کاروں کی غلامی ہوگی الیکشن کے دنوں میں وعدے بعدمیں دعوے وبہانے ہوں گے جماعت اسلامی نے پورے ملک میں ظلم وجبر لاقاونیت ،امریت ومافیازکے خلاف جدوجہد شروع کیا ہے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں منی بجٹ،معیشت واسٹیٹ بنک آئی ایم ایف کے حوالے کرنے اور امریکی غلامی قوم کو کسی صورت ترقی نہیں دے سکتی ۔

منی بجٹ ،پٹرولیم ،بجلی وگیس کی قیمتوں میں اضافہ بدترین ظلم ہے ۔انہوں نے کہاکہ کئی دہائیوں سے قوم پر آئی ایم ایف وامریکی غلام مسلط ہیں یہ وہی لوگ ہیں یہی مافیا زکبھی پیپلزپارٹی وکبھی مسلم لیگ میں ہوتے تھے اب پی ٹی آئی کی شکل میں قوم پر مسلط ہوگئی ہے ۔

(جاری ہے)

یہ سب پاکستان دشمنوں کے کارنامے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ایک مرتبہ پھر سے اضافہ کرکے حکمرانوں نے عوام کے لیے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کر دئیے ہیں۔

پورا ملک ہی حکمرانوں کے عاقبت نا اندیش منصوبوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔بلوچستان میں حکومتی مظالم جبر لاقانونیت بدعنوانی کے خلاف ہر طرف عوام سراپا احتجاج ہیں۔ تبدیلی کا نعرہ لگانے والوں نے عوام سے جینے کا حق بھی چھین لیا۔ ملکی تاریخ میں پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ وآمریت کی جو حکومتیں قوم پر مسلط کی گئی تھی یہ حکومت بھی اُن حکومتوں کاتسلسل ہے قوم کا مستقبل اندھیروں میں دھکیلا جارہا ہے۔

منی بجٹ کے نام پر عوام پر مہنگائی کا بم گرایا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط پر عمل در آمد کرکے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ وزراء کی فوج ظفر موج بھی، اپنی حکومت کی کسی ایک سیکٹر میں کارکردگی کو تسلی بخش قرار نہیں دے سکتی۔ ان کے پاس بو ل بچن کے سوا کچھ نہیں۔ عوام ان کی گمراہ کن تقریروں ، جھوٹے وعدوں اور کھوکھلے نعروں کی حقیقت جان چکے ہیں۔ حکومت آئی ایم ایف کے اشاروں پر چل رہی ، اس کو غریب عوام کی مشکلات کا کوئی احساس ہی نہیں۔سردی میں اضافے کے ساتھ ہی ملک میں گیس کی قلت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے ۔تبدیلی کے خواب کی ملک و قوم نے بہت بڑی قیمت چکائی ہے ۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments