کوئٹہ ،بلوچستان اسمبلی اجلاس میںجعلی ڈومیسائل کے حوالے سے قرار داد منظور ،چیف سیکرٹری بلوچستان کو مراسلہ ارسال

ہفتہ 22 جنوری 2022 00:17

[کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 جنوری2022ء) بلوچستان اسمبلی اجلاس میںجعلی ڈومیسائل کے حوالے سے قرار داد منظور چیف سیکرٹری بلوچستان کو مراسلہ ارسال کردیا گیا جمعے کو بلوچستان اسمبلی اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے میر زابد علی ریکی نے اپنی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جعلی ڈومیسائل کے اجراء کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے ۔

جعلی ڈومیسائل کے اجراء سے بلوچستان کے تعلیمیافتہ اور باصلاحیت نوجوانوں کی حق تلفی کی جارہی ہے ۔ چونکہ دوسرے صوبوں کے لوگ جعلی ڈومیسائل سرٹیفکیٹس حاصل کرنے کے بعد بلوچستان کے مختلف اضلاع سے میڈیکل سیٹس اور مختلف صوبائی محکموں اور لوچستان کے کوٹے کے وفاقی ملازمتوں پر تعینات ہیں ۔ جس کی مثال حال ہی میں ضلع جعفر آباد سے جعلی ڈومیسائل جاری کیا گیا جس کی بنیاد پر غیر مقامی طلبہ نے میڈیکل سیٹ حاصل کیا جس کی بناء صوبے کے تعلیمیافتہ نوجوانوں میں احساس محرومی پایاجانا فطر ی امر ہے ۔

(جاری ہے)

لہٰذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ 2018ء تا 2021ء صوبے کے تمام محکموں اور صوب کے کوٹے پر وفاقی محکموں میں تعینات ہونے والے ڈاکٹرز ، ویٹرنری ڈاکٹرز اور دیگر آسامیوں پر تعینات ہونے والون کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کی فوری تصدیق کرانے کو یقینی بنائے تاکہ جعلی ڈومیسائل کے اجراء کو روکا جاسکے ۔قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ تیس چالیس سال سے صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتیاں ہورہی ہیں پیسوں کے عیوض لوگوںکو جعلی ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کئے گئے ہیں ان عناصر کو منظر عام پر لانے کے لئے صوبے کے تمام اضلاع میں جاری ہونے والے ڈومیسائل کی دوبارہ تصدیق کرائی جائے ۔

پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شہید عثما ن خان کاکڑ نے سٹینڈنگ کمیٹی میں اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے رپورٹ طلب کی تھی جس کے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ وفاقی محکموں اور کارپوریشنز میں بلوچستان کے کوٹے پر ہزاروں افراد تعینات ہیں یہ معاملہ ہم نے صوبائی اسمبلی میں بھی اٹھایا جس پر چیف سیکرٹری بلوچستان کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی متعلقہ کمیٹی نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کی از سرنو تصدیق کی ہدایت کی تاہم صرف مستونگ کے ڈپٹی کمشنر نے اس حوالے سے کام کیا اور انہوںنے 300سے زائد ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں منسوخ کیا ۔

انہوںنے استدعا کی کہ جاری ہونے والے تمام اسناد کی از سرنو تصدیق کرائی جائے ۔بی این پی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی نے کہا کہ ایوان بالا میں سابق سینیٹر میر عبدالکبیر محمد شہی نے جعلی ڈومیسائل کی منسوخی سے متعلق قرار داد پیش کی تھی انہوںنے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز کو پابند کیا جائے کہ وہ تین ماہ کے اندر اندر یونین کونسل کی سطح پر ڈومیسائل اور سرٹفکیٹس کی تصدیق کرائیں اور جعلی اسناد پر تعینات ملازمین کو برطرف کیا جائے اب بھی ہزاروںکی تعداد میں لوگ جعلی اسناد کی بنیاد پر وفاق میں بلوچستان کے کوٹے پر ملازمت کررہے ہیں ۔

جے یوآئی کے اصغر علی ترین نے کہا کہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تو پچاس فیصد سے زائد ڈومیسائل جعلی نکلیں گے حکومت تما م اضلاع کے ڈپٹی کمشنر کو ڈومیسائلز کی تصدیق کی ہدایت کرے جعلی ڈومیسائل کے اجراء میں دیگر صوبوں سے آنے والے افسران ملوث ہیں یہ افسران محض اپنی نوکری کا دورانیہ پورا کرنے کے لئے یہاں آتے ہیں فہرست طلب کی جائے آج بھی کلیدی عہدوں پر دیگر صوبوں کے افسران تعینات ہیں انہوںنے کہا کہ جعلی ڈومیسائل کا ریکارڈ طلب کرکے ایوان کے سامنے پیش کیاجائے ۔

صوبائی مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے قرار داد کو اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا ہے حکومت نے جعلی ڈومیسائل کے حوالے سے جتنے اقدامات کئے ماضی میں ان کی مثال نہیں ملتی انہوںنے کہا کہ ریکارڈ طلب کیا جائے کہ کن کن اضلاع میں ڈومیسائلز کی تصدیق ہوئی ہے اس موقع پر ڈپٹی سپیکر سردار بابرخان موسیٰ خیل نے ایوان کی مشاورت سے قرار داد منظور کرنے کی رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں جتنے بھی ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری ہوئے ہیں ان کا ریکارڈاسمبلی میں پیش کیا جائے۔

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بلوچستان کے پشتون اور بلوچ طلباء وطالبات ملک بالخصوص پنجاب اور اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں علم کی پیاس بجھا رہے ہیں مگر تواتر کے ساتھ مذکورہ یونیورسٹیوں اور مورخہ تین جنوری2022ء کو انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک تنظیم نے صوبے کے پشتون اور بلوچ طلباء پر دہشت گردانہ حملہ کیا جس کے نتیجے میں 18طلباء زخمی ہوئے ۔

اس طرح کے حملوں سے صوبے کے ہونہار طلباء کو پنجاب اور اسلام آباد کی یونیورسٹیوں سے بے دخل کرنے کی گہری سازش ہورہی ہے ۔ لہٰذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی اور پنجاب حکومت سے صوبہ کے طلباء و طالبات کے جان و مال کے تحفظ اور انہیں پرامن تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کو یقینی بنائے ۔قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں میں صوبے سے تعلق رکھنے والے جو طلبہ زیر تعلیم ہیں انہیں ایک طلبہ تنظیم کی جانب سے زدوکوب کرنے کے واقعات تسلسل سے سامنے آرہے ہیں پنجاب یونیورسٹی میں 143بلوچ پشتون طلبہ کو گرفتار کرکے ان پر دہشت گردی کے مقدمات درج کئے گئے جس سے ان طلباء کا مستقبل دائو پر لگ گیا ہے ۔

حال ہی میں تین جنوری کو انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں اسلامی جمعیت طلبہ نے پشتون بلوچ طلباء پر حملہ کیا جس میں اٹارہ طلبہ زخمی ہوئے ہیں ایسے واقعات کے تدارک کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔مشیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ طلباء صوبے کا مستقبل ہیں ان کے مستقبل اور تعلیم کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی پنجاب حکومت نے صوبے کے طلباء کے ساتھ ہمیشہ تعاون کیا ہے انہوںنے کہا کہ حالیہ واقعہ افسوسناک ہے ۔

ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ مشیر داخلہ نے یقین دہانی کرائی ہے آئندہ اس قسم کے واقعات کا سختی سے نوٹس لیا جائے گا بلوچستان کے طلباء انتہائی مشکل حالات میں وہاں جا کر تعلیم حاصل کرتے ہیں ایسے افسوسناک واقعات سے ان کی مشکلات اور بڑھ جاتی ہیں بعدازاں ایوان نے قرار داد منظور کرلی ۔اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے جے یوآئی کے سید عزیز اللہ آغا کو ایوان کی مجلس قائمہ برائے ہائوسنگ و فزیکل پلاننگ شاہرات و تعمیرات اور مجلس قواعدانضباط کار و استحقاقات، ،قادر علی نائل کو مجلس حسابات عامہ ،خلیل جارج کو مجلس قائمہ برائے مالیات ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور نوابزادہ طارق خان مگسی کو مجلس برائے مالیات کا رکن منتخب کرنے سے متعلق تحاریک پیش کیں جن کی ایوان نے منظوری دی جبکہ اپوزیشن اراکین میر زابد علی ریکی اور نصراللہ خان زیرئے کے محکمہ صحت سے متعلق توجہ دلائو نوٹسز متعلقہ وزیر کی عدم موجودگی پر موخر کردیئے گئے ۔

وقفہ سوالات کے آغاز پر جمعیت کے رکن اسمبلی میر زابد علی ریکی نے متعلقہ وزیر کی عدم موجودگی پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت سے متعلق میرے سوالات 2020ء سے مسلسل زیرا لتواء ہیں وزراء کی عدم موجودگی پر ان کی تنخواہیں بند کردی جائیں انہوںنے متعلقہ وزیر کی عدم موجودگی پر ایوان سے واک آئوٹ کیا جس پر اپوزیشن کے دیگر اراکین نے بھی ان کا ساتھ دیتے ہوئے ایوان سے واک آئو ٹ کیا ڈپٹی سپیکر نے وقفہ سوالات اگلے اجلاس تک ملتوی کرنے کی رولنگ دی ۔

کوئٹہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments