سرگودھا پولیس نے اغواء ہونے والی 19 سالہ مغویہ کو9ماہ بعد بازیاب کر کے اغواء کا معمہ حل کر لیا

مغویہ نے اپنی مرضی سے نوجوان سے پسند کی شادی کر رکھی ہے اور وہ آئندہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے

پیر 29 نومبر 2021 13:47

سرگودھا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 نومبر2021ء) سرگودھا پولیس نے علاقہ سے اغواء ہونے والی 19 سالہ مغویہ کو9ماہ بعد بازیاب کر کے اغواء کا معمہ حل کر لیا۔جس میں مغویہ نے اپنی مرضی سے نوجوان سے پسند کی شادی کر رکھی ہے۔زرائع کے مطابق سرگودھا شہر سے ملحقہ علاقہ جھال چکیاں کے موضع یارے والا برخوراد کی 19 سالہ بیٹی کو بہک میکن سے اغواء کر لیا گیا تو تھانہ جھال چکیاں پولیس نے یکم اپریل 2021 کو یارے والا کے برخوردار کی درخواست پر دوشیزہ کے اغواء کا مقدمہ درج کیا جس میں مغویہ کے باپ نے انکشاف کیا کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے تعزیت کیلئے ان کے گاؤں بہک میکن گئے تو واپسی پر 19 سالہ بیٹی کی ضد پر اسے وہیں چھوڑ کر واپس آگئے۔

جہاں سے بچی کو نامعلوم افراد نے اغوائ کرلیا۔

(جاری ہے)

اس رپورٹ پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے مغویہ کی تلاش شروع کردی جس کی عدم بازیابی پر لڑکی کے باپ نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی تو معلوم ہوا کہ مدعی نے لڑکی کے اغواء کے دوماہ بعد تھانہ میں درخواست جمع کروائی اور مکمل معلومات فراہم نہ کرنے کے باعث پولیس کوتفتیش میں دشواری کا سامنا کرنا رہا۔

تاہم ڈی پی او ذوالفقاراحمد نے مقدمہ اغواء میں مغویہ کی عدم بازیابی پر خصوصی ٹیم تشکیل دیکر اپنی نگرانی میں تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اشتہار شوروغوغا جاری کر کے سوشل میڈیا پر مہم شروع کی۔ جس میں گذشتہ روز پولیس تھانہ جھال چکیاں کو اطلاع ملی کہ علاقہ کی ایک لڑکی جوہر آباد میں اپنے شوہر کے ساتھ مقیم ہے جس پر پولیس کی خصوصی ٹیم نے جوہرآباد میں لڑکی کے خاوند تک رسائی حاصل کی اور اس کے ذریعے 9ماہ قبل اغواء ہونے والی دوشیزہ مسماة (ر) کا سراغ لگایا اور پولیس حفاظت میں مغویہ کو عدالت میں پیش کرکے اس کا بیان حاصل کیاجس نے اپنے بیان میں بتایا کہ اس نے اپنی مرضی سے پسند کی شادی کر رکھی ہے اور آئندہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔

ڈی پی او سرگودھا ذوالفقاراحمد نے کہا کہ وقوعہ کی پولیس کو بروقت اطلاع نہ دینے اور مطلوبہ معلومات فراہم نہ کرنے سے تفتیش مکمل کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے لیکن سرگودھا پولیس نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور روائتی طریقہ تفتیش کو اپناتے ہوئے مغویہ کو بازیاب کروا لیا۔

سرگودھا شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>