رونالڈو کا ریپ الزام لگانے والی خاتون کو لاکھوں ڈالر دینے کا اعتراف

منگل اگست 20:04

رونالڈو کا ریپ الزام لگانے والی خاتون کو لاکھوں ڈالر دینے کا اعتراف
میڈرڈ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 اگست2019ء) پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر34 سالہ کرسٹیانو رونالڈو نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے ریپ الزام لگانے والی سابق ماڈل کو خاموش رہنے کے لیے لاکھوں ڈالر دئیے۔کرسٹیانو رونالڈو اس سے قبل ریپ الزامات لگانے والی سابق امریکی ماڈل کیتھرین مایورگا کو جھوٹا قرار دیتے آ رہے تھے اور دعویٰ کرتے رہے تھے کہ ایسا کوئی واقعہ ہی پیش نہیں آیا۔

کیتھرین مایورگا نے ستمبر 2018 میں کرسٹیانو رونالڈو پر 9 سال قبل ریپ کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف امریکی ریاست نیواڈا میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔کیتھرین مایورگا نے 32 صفحے پر مشتمل دستاویزات عدالت میں جمع کراتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ رونالڈو نے 13 جون 2009 کو ان کا ریپ کیا تھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے اس مقدمے میں الزام عائد کیا تھا کہ فٹبالر نے اس مبینہ ریپ کو خفیہ رکھنے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا تھا اور فٹ بالر نے وکلاء کی مدد سے انہیں پونے 4 لاکھ ڈالر دے کر خاموش رہنے کا کہا۔

عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ریپ واقعے کے بعد ماڈل ذہنی طور پر پریشان رہیں، یہاں تک کہ انہوں نے متعدد بار خودکشی کرنے کا بھی سوچا۔ساتھ ہی ماڈل نے فٹ بالر کے خلاف 2 لاکھ امریکی ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ بھی دائر کیا تھا تاہم کرسٹیانو رونالڈو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کیتھرین مایورگا کو جھوٹا قرار دیا تھا، لیکن اب انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے الزام لگانے والی خاتون کو خاموش رہنے کے لیے پیسے دئیے۔

شوبز و اسپورٹس میگزین ’ٹی ایم زیڈ‘ کے مطابق کرسٹیانو رونالڈو کی جانب سے نیواڈا کی ریاست میں نئے دستاویزات جمع کرائے گئے ہیں جن میں تسلیم کیا گیا ہے کہ انہوں نے الزام لگانے والی خاتون کو خاموش رہنے کے لیے 3 لاکھ 75 ہزار امریکی ڈالر دئیے۔کرسٹیانو رونالڈو کی جانب سے جمع کرائے گئے دستاویزات میں کہا گیا کہ خاتون اور فٹ بالر کے درمیان پیسوں کے عوض معاہدہ طے پایا تھا کہ معاملے کو سامنے نہیں لایا جائے گا۔فٹ بالر نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ چوں کہ انہوں نے ریپ الزامات کو سامنے نہ لانے سے متعلق باہمی رضامندی کا معاہدہ کیا اور اس لیے انہوں نے خطیر رقم بھی ادا کی، اس لیے ان کے خلاف دائر کیس کو خارج کردیا جائے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 20/08/2019 - 20:04:41

Your Thoughts and Comments