بند کریں

مزید عنوان

لطیفے

سپاہی عورت سے

باپ بیٹے سے

نرس

قائداعظم

تنقید

استاد نے شاگرد سے کہا

پہلا دوست دوسرے سے

چار بار کھانا کھا چکا ہوں

ناشر نے معذرت کرتے ہوئے

ڈش

مزید لطیفے

مزاحیہ ادب

ایکٹومزاح نگاراوربیویوں کے لطیفے

عطاء الحق قاسمی اس وقت اردو کے سب سے بڑے ”ایکٹو“ مزاح نگار ہیں کیونکہ․․․ مشتاق احمد یوسفی (اللہ اُن کی بھی عمر دراز کرئے) آجکل الیکٹرونکس میڈیاپر ”ایکٹو“ ہیں اور ۔۔۔

مکالمہ

آج کل علم تاریخ یہ بحث چل نکلی ہے کہ اس کاانسان کوبالکل کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔دوسرانظریہ یہ ہے کہ تاریخ کے مطالعے سے حال اور مستقبل کوسنواراورماضی سے ایک سبق حاصل کیاجاسکتا ہے۔

کالے کبوتر سفید کبوتر

جہاں میں بیٹھا ہوں۔ اس عمارت کی چھت کے شہتیروں میں کالے کبوتر رہتے ہیں اور کبوتر چاہے کالے ہوں یاسفید وہ بیٹ ضرور کرتے ہیں اور یہ بیٹ ہرآدھ پون گھنٹے کے بعد چھپک سے میرے کوٹ یاسویٹرپربرس پڑتی ہے۔

بحث وتکرار

جب کتے آپس میں میں مل کر بیٹھتے ہیں تو پہلے تیوری چڑھا کر ایک دوسرے کو بری نگاہ سے آنکھیں بد ل بدل کر دیکھنا شروع کرتے ہیں۔۔۔

سیاسی و سوشل قربانیاں!

فی الحال تو قربانی کے جانور ہیں جو تماش بینوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہ بھی سیاست کا ہی کرشمہ ہے کہ خریدنے والے کم اور تماشا دیکھنے والے زیادہ ہوگئے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے ، جانور لوگوں کی بے بسی کا تماشا دیکھتے ہیں اور لوگ ، جانوروں کی زیب و زینت اور قیمتوں سے دل بہلاتے ہیں
🌄

” احمد فراز کے اصلی اشعار اور نقلی حسن کے تذکرے “

میں صبح سویرے لوڈ شیڈنگ کے زیر سایہ شیو کر کے منہ دھو کر دفتر روانہ ہوا۔۔گیلے بال اور سونے پر سہاگہ ہمارے علاقہ پر ترقیاتی کام نازل ہوئے دوسرا سال ہے
🌄

میم صاحبہ

آئیے آج ہم آپ کو ایک میم صاحبہ سے ملواتے ہیں، نازک اندام یہ میم صاحبہ یقینا آپ میں سے بہت سوں کی منظورِنظر ہوں گی، ویسے بھی ہم دیسی لوگ ولایتی چیزوں کو بہت پسند کرتے ہیں
🌄

اسمِ ”بے“ مسمٰی

اسمِ بامسمٰی کے معانی سے توآپ سب واقف ہیں اور جو اس کا مطلب نہیں جانتے وہ ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کے ناول پڑھ لیں،معلوم ہو جائے گا! اس کے برعکس ہمارے والے” اسمِ بے مسمٰی “سے آپ کی واقفیت ہم کرا دیتے ہیں
مزید مزاحیہ ادب

مزاحیہ کالم

🌄

نیا اینگل

ہم نے ایک صاحب کو دیکھا جو یوٹیلٹی اسٹور کے باہر لمبی لائن کو دیکھ کر رو رہے تھے، وجہ پوچھی تو بھڑک اٹھے”ہم پر حکومت کرنے والوں کی سمجھ نہیں آتی، پہلے کے حکمرانوں نے ہمیں ترغیب دی تھی
🌄

حضور کو عادت ہے بھول جانے کی۔شوکت علی مظفر

ملک صاحب کی عادت ہے وہ کسی کام کے سلسلے میں جب بھی وعدہ کرتے ہیں تو ہم سمجھ جاتے ہیں اب یہ کام ہونے کا نہیں، کیونکہ ان کے وعدے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے ”بھول جاؤ!“
🌄

ابتر اشتہارات۔دل آویز

آوارگی میں تمام دن جوتے چٹخانے والے حضرات سے گزارش ہے کہ وہ کسی امیر زادی سے شادی کا ڈھونگ رچا کے نہ صرف گھر دامادی جیسی فرمانبردار نیز منافع بخش آفر قبول کریں
🌄

ہم ایک رسالہ نکالیں گے

ہم ایک رسالہ نکالیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جی صا حبو چند دنوں پہلے بدن کی بالائی اور نسبتا ویران منزل میں ایک عجیب طرح کا سودا سمایا کہ ہم ایک رسالہ نکالیں گے۔
🌄

شادی سے پہلے۔قسط نمبر 4 ۔مخزن علی

🌄

طنزو مزاح ایک معاشرتی ضرورت

اس دنیا میں کیا فلسفی ، کیا ادیب کیا دانشور سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ دنیا دکھوں کا گھر ہے دار المحسن ہے۔مجمعوعہ آلام ہے۔
🌄

مرد بھی بیویوں سے پٹتے ہیں۔

🌄

ہم ایک موٹر خریدیں گے

مزید مزاحیہ کالم

مزاحیہ مضامین

مہینے بعد آٹے کا تھیلا کنٹرول ریٹ پر

میاں کررہے ہوں․․․․․․ چوڑونوکری․․․․․․ دن بھر ہمیں ہنسایاکرو“ کو ہزار کانوٹ پکڑو․․․․․․ گھر کا خرچہ چلاؤ․․․․․․ موج ․․․․․․ کرو․․․․․․

چاچا نیلام گھر

چاچا نیلام گھر سے ہم مذاق مذاق میں تفریح تولیتے رہتے ہیں لیکن آپ یقین کیجئے وہ ہمارے چلتے پھرتے استاد یعنی موبائل ٹیچر ہیں۔

مرغی یا انڈہ

یہ ایک بڑا مشکل سوال ہے کہ کہ انڈہ پہلے آیاتھایا مرغی؟ یہ سوال پوچھ کر آپ بڑے سے بڑے تاریخ دان اور عالم کی لاعلمی کو بے نقاب کرسکتے ہیں‘

سری پائے

شیخ صاحب حسب معمول اس روز کچھ زیادہ پریشان نظر آرہے تھے۔ کھنگالنے پر کھل پڑے کہ ان کے والدین کا عقیقہ کرنا بھول گئے اور وہ اپنے بچوں کا عقیقہ کرنا بھول گئے۔

چلو․․․․․․․․․چلو

ہمارے ملک میں سفر کرنا یااپنے اوپر جبر کرنا عین لمساوی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی حادثاث کی طرح روز بروز بڑھتے جارہے ہیں۔

کرسی کہانی

بابا پھنسے خان دل کے بہت اچھے تھے اس لیے سارے گاوٴں میں امن قائم رکھنے کا ٹینڈر ہمیشہ ان کے نام نکلا کرتا تھا۔

سگِ لیلیٰ

کتے پر بہت سے لوگوں نے مضامین لکھے ہیں لیکن کسی کتے نے انسان پر کوئی مضمون لکھنے کی زحمت گوارہ نہیں کی (شاید وہ انسان کو اس قابل نہیں سمجھتے)۔۔۔

لاہوری ناشتے

لاہوی ناشتے میں حلوہ پوری کا وہی مقام ہے جوا ردو ادب میں ملاوجہی کی ” سب رس“ اور عبدالعزیز خالد کی شاعری کا ہے کیونکہ انہیں نوش جاں کرنے کے بعد آدمی کی طبیعت اتنی مکدر ہو جاتی ہے کہ

میں اوئی اللہ ہوگیا ہوں

مجھ میں جو کچھ بھی رونما ہواہے آج صبح ناشتے کے بعد ہوا ہے ناشتے سے قبل میں ایک نارمل پاکستانی تھا۔ اپنی بیوی اور اپنے حال پر صابروشاکر․․․․․․ البتہ مرد ہونے پر نازاں اور اس خیال کا اسیر کہ میں اپنی زندگی کے۔۔۔

سینکڑوں سال پہلے․․․․․ سوسال بعد

ہمارے بچپن میں ہمیں تاریخ کی کتاب میں پڑھایاجاتا تھا۔

تعلیم․․․․ یا انفارمیشن

ابراہیم لنکن ․․․․سابق امریکی صدر نے کہا تھا کہ علم ڈگریوں کا محتاج نہیں۔ موجودہ دور میں کمپیوٹر کی آمد اور کتاب سے دوری نے کچھ نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔

سکھ نوجوان اور اک نعرہ مستانہ

نہایت شان سے چمکتے ہوئے مینا ر پاکستان پر 25دسمبر کی شام میری نظریں اٹھیں تو دوسری طرف مغل دور حکومت کی یاد لاتے ہوئے بادشاہی مسجد کے مینار اور راہداریاں تھیں۔

امن کا راگ

موسم بادلابارش ہویانہ ہوڈاکٹروں کے کلینک پر مریضوں کے موسلا دھار بارش جاری ہے مریضوں کے کھانسے کی آوازیں جیسے بادل گرج رہے ہوں اور نزلے برس رہے ہوں

صادق بھٹی جانے․․․ بشیر صاب جانے یا ٹریفک پولیس جانے

میں مین گیٹ پر کھڑا تھا کہ ایک نہایت معزز مہذب شخصیت کامالک نوجوان جو بظاہر پڑھالکھا بھی محسوس ہوتا تھا‘ گیٹ سے گزرنے کہ ایک سکیورٹی گارڈ آگے بڑھا اور اس نے نوجوان کی جامہ تلاشی لی۔

جدید دور کے سلطان راہی

میں نے دست بستہ کھڑے ہوکر سلطان راہی کی روح سے معذرت چاہی اور ان کیلئے دعا کی کہ اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے(آمین) ہوایوں کہ بس میں سفر کے دوران ایک انگریزی فلم دکھائی گئی اس فلم میں۔۔۔

لوگوں کو ہنسانے والے ثواب کمارہے ہیں

ایک ویران سڑک پرایک شخص اکیلا جارہا ہے اچانک چلتے چلتے وہ رک گیا․․․ ارے یہ تواکیلا ہی ہنسنے لگا ارے یہ تو ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگیا۔
مزید مضامین