ایبٹ آباد تعلیمی بورڈ اسکینڈل،حکومت اورادارے کہاں ہیں؟

ایبٹ آبادتعلیمی بورڈکے زیر اہتمام میٹرک امتحان2019میں تواترسے پیپرآؤٹ ہوتے رہے،جتنابڑاتماشااورنااہلی اس امتحان کے دوران دیکھنے میں آئی اس کی کم از کم خیبرپختونخوااوربالخصوص ایبٹ آبادکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی

Musharraf Hazarvi مشرف ہزاروی پیر نومبر

Abbottabad taleemi board scandal, hakumat aur adare kahan hai ?
ہماراالمیہ ہی یہ ہے کہ کسی بھی ادارے میں کوئی کرپشن ،بے قاعدگی یا بدعنوانی والا معاملہ ہو ہم اس کے خلاف اپناکرداراداکرناگواراہی نہیں کرتے ،ہم میں سے بعض کمزورہیں،بعض کے مفادات ہیں ،بعض انجانے خوف یا جھمیلوں میں پڑنے سے گریزکی پالیسی پر کاربندہیں، اوراکثریت کو پرواہ ہی نہیں کہ ادارے جائیں بھاڑ میں،پھرنتیجہ پوری قوم کے سامنے ،ادارے تباہ و برباد۔

ہم من حیث القوم تنزلی وزوال کی بدترین صورتحال سے دوچارہیں،پھرجب معاملہ ہو ہی تعلیم اورنوجواں نسل یعنی پاکستان کے مستقبل کا، جوموجودہ حکومت کے منشورمیں سرفہرست بھی ہے ،کے حقوق پر ڈاکے کا معاملہ ہواورسارے ذمہ دارواسٹیک ہولڈرزبھی خاموش تماشائی توپھردرددل رکھنے والے ہم وطنوں کا دل تو پھٹتاہے،مگرستم ظریفی کی انتہایہ ہے کہ سب خاموش ہیں ،سب لسی پی کر سوئے نظرآرہے ہیں۔

(جاری ہے)


اب آئیں بدعنوانی کے معاملے اورنسل نو کے حقوق ومستقبل پر پڑنے والے ڈاکے کی طرف،چھ سات ماہ قبل ایبٹ آبادتعلیمی بورڈکے زیر اہتمام میٹرک امتحان2019میں تواترسے پیپرآؤٹ ہوتے رہے،جتنابڑاتماشااورنااہلی اس امتحان کے دوران دیکھنے میں آئی اس کی کم از کم خیبرپختونخوااوربالخصوص ایبٹ آبادکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی جس نے ذمہ داروں کی ذمہ داری اوراہلیت کا بھی پول کھول کر رکھ دیا ہے ۔

دوسری طرف صوبائی حکومت جس کے منشورمیں میرٹ اورانصاف،کرپشن کے خلاف جہاداوربدعنوان مافیاکااحتساب سرفہرست ہے مگرابھی تک وہ بھی حرکت میں آتی نظرنہیں آرہی کہ امتحان کو چھ ساتھ ماہ گذرگئے ہیں مگرابھی تک پیپرآؤٹ اسکینڈل میں ملوث مافیا دندناتاپھررہا ہے جب کہ بورڈذمہ داران نے اپنے ہی بورڈملازمین پر مشتمل فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بناکران سے ابتدائی رپورٹ لے لی ہے کہ اس گھپلے میں بورڈکا کوئی ملازم یا ذمہ دارملوث نہیں اورامتحانی سنٹروں پر موجودایسے عملے سے پوچھ گچھ کی جائے جن کے بچے امتحان دے رہے تھے یا نان بینکنگ سنٹرزکے عملہ کو شامل تفتیش کیاجائے تو اصل ملزمان کاسراغ لگایاجاسکتا ہے ،لیکن یہاں سوال یہ بھی ہے کہ کیااس امتحان کے دوران کسی بورڈذمہ دارکاکوئی بچہ بھی تو امتحان نہیں دے رہاتھا؟اسے بھی دیکھ لیاجائے۔

دوسری طرف بورڈملازمین کو کلین چٹ دے کر معاملہ صرف امتحانی عملے کے سرتھوپنابھی قطعی طورپرقرین انصاف نہیں ۔سوال یہ بھی ہے کہ جب اس اسکینڈل کے وقوع پذیرہوتے وقت مختلف اطراف و اکناف سے بورڈذمہ داران کو پرچہ آؤٹ ہونے بارے اطلاعات مع آؤٹ ہونے والے پرچے کے ثبوتوں کے ہمراہ بہم پہنچائی گئیں تومتعلقہ ذمہ داران نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کیوں نہیں کیا؟انھوں نے ایک،دوسرا،تیسرااوراسی طرح مسلسل کئی پرچے آؤٹ ہوتے دیکھ ،سن اورثبوت لے کر بھی خاموشی کیوں اختیارکیے رکھی؟یہ بھی کہاجارہا ہے کہ آؤٹ ہونے والے پرچوں کی ماسٹرکاپی آؤٹ ہوتی رہی،اگرایساہے تو یہ ماسٹرکاپی سوائے بورڈسیکریسی کے کہیں اوردستیاب نہیں ہوتی؟بینکنگ اورنان بینکنگ کسی بھی سنٹرپرپرچے کی ماسٹرکاپی تو موجودنہیں ہوتی؟پھریہ سب کیاتھا؟کیسے رونماہوا؟
بورڈذمہ داران مسلسل کئی روز تک خاموش تماشائی کیوں بنے رہے؟ایبٹ آبادتعلیمی بورڈکو ان دنوں سندھ بورڈسے بھی نمبرلے جانے کے طعنے کیوں ملتے رہے؟اس ساری سورتحال کا ذمہ دارکون ہے؟اگرصوبائی حکومت نے ایک پرچہ منسوخ قراردے کر کنٹرولربورڈکو فارغ کیاتھاتوپھراسی کنٹرولرکو کس بنیادپرمعاملہ ٹھنڈاپڑنے پر دوبارہ تعینات کردیاگیاتھا؟کیایہ اتناعام معاملہ تھا؟لاکھوں بچوں کے حق پر ڈاکہ ڈالاگیا،انھیں اوران کے والدین کے علاوہ اساتذہ اکرام کو بھی سخت ذہنی اذیت سے دوچارکیاگیاکہ وہ سرپیٹتے رہے کہ یاخدایہ ہوکیارہا ہے،کیوں کہ بچے ایک روز قبل ہی سرشام یا رات گئے اپنے احباب یااساتذہ کو کہتے پھررہے تھے کہ پیپرہمارے پاس آگیاہے؟یہ امتحان تھا یا مذاق؟سارے اسٹیک ہولڈرزسخت تذبذب اورعجب فرسٹریشن سے دوچارتھے،بالخصوص ساراسال دن رات پڑھنے اورمحنت کرنے والے طلبہ کے تودماغ ہی ماؤف ہو گئے تھے۔

لیکن افسوس صدافسوس،کسی نے نوجواں نسل اوراس تعلیمی نظام و امتحانی نظام سے ہونے والے سرعام کھلواڑاورنااہلوں کی نااہلی کا نوٹس لینا،اورنوجواں نسل کے حق پر ڈاکے کے ذمہ داروں کو تا حال بے نقاب کرناگوارانہیں کیا؟
قربان جائیے ایسی تعلیمی ایمرجنسی پر!!!اس کھلواڑ کے بعدراقم کا سیکرٹری بورڈجواس وقت قائم مقام چئیرمین بھی تھیں مسلسل رابطہ رہا ،انھیں بھی کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی،کچھ عرصہ گذرنے کے بعدانھوں نے کہا کہ بورڈعملہ تو ملوث نہیں البتہ جس امتحانی عملہ کے بچے امتحان دے رہے تھے انھیں اورنان بینکنگ سنٹرزکے عملہ کی فہرستیں ایف آئی کو دے رہے ہیں ،پھرجب اس کو بھی کافی عرصہ گذرگیاتوگذشتہ روز تازہ ترین رابطے پر سیکرٹری بورڈڈاکٹرشائستہ ارشادنے بتایا کہ انھوں نے معاملہ ایف آئی اے کے حوالے کردیاہے،ان کی ٹین دوچارماہ پہلے بورڈوزٹ کر کے مطلوبہ ریکارڈبھی لے کر گئی ہے لیکن گذشتہ روز اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ۔

آخریہ چکرکیاہے؟اتنی لمبی کیوں لگ گئی؟ اورسب سے بڑاسوال یہ ہے کہ پیپرآؤٹ اسکینڈل میں ملوث ملزمان کیفرکردارکوبھی پہنچیں گے یا نہیں اورکیابورڈکے اپنے ملازمین سے ابتدائی انکوائری کرواکربورڈملازمین کو کلین چٹ دینااورامتحانی عملہ کو قربانی کا بکرابناناکیاناانسافی اورجلدبازی نہیں؟
کیایہ سارے کا سارامعامہ ہی غیرجانبداراداروں کے حوالے کر کے انھیں ملزم ٹریس کرنے اورتحقیقات کی ذمہ داری سونپی جاتی تو زیادہ بہتراورشفاف معاملہ نہ ہوجاتا؟دوسری طرف بورڈوالوں نے الزام کی گیندگویاامتحانی عملہ کے کورٹ میں پھینک دی ہے جو اکثریت میں اساتذہ اکرام اورماہرین تعلیم ہیں ،کیابغیرکسی ثبوت اخذکرلیناکہ یہ لوگ قصوروارہیں ،محض اندازے یا شک کی بنیادپرایساکرناان معززاساتذہاکرام کے کردارکو داغدارکرنے کے مترادف اوران کی کھلی توہین نہیں؟ہاں اگرکسی غیرجانبداروشفاف انکوائری کے نتیجے میں کسی ثبوت کے ہمراہ کسی پر بات آتی کسی کا نام آتاتوبات کسی حدتک دل کولگتی تھی مگریہاں تومنطق ہی نرالی اوراقدام ہی انوکھااٹھایاگیاہے۔

خیریہ صوبائی حکومت کے لیے بہت بڑاچیلنج بن گیاہے کہ وہ پیپرآؤٹ اسکینڈل کی شفاف و غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائے اورہرہرپہلوسے اس نازک معاملے کا جائزہ لے تا کہ نہ تو کوئی بے گناہ رگڑے میں آئے اورنہ ہی کسی گناہگارکومحفوظ رستہ مل سکے،دیرپہلے ہی بہت ہو چکی ہے،شکوک و شبہات بھی جنم لے رہے ہیں ،اداروں اورحکومت کی ساکھ بھی متاثرہو رہی ہے علاوہ ازیں والدین،طلبہ اورتعلیمی حلقے بھی سخت اضطرابی کیفیت سے دوچارہیں اس لیے میرٹ و انصاف اوربے لاگ احتساب کی خواہاں حکومت اس سنگین و افسوس ناک صورتحال کوہنگامی بنیادوں پر منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے ادارہ جاتی ساکھ بھی بہتربنائے اورعوامی اضطراب کا بھی خاتمہ کر کے انھیں ریلیف دے تا کہ عوام کا اداروں پراعتمادبحال ہو اورکرپشن میں ملوث عناصربھی انجام کو پہنچ سکیں،اورپھرکسی کو یہ کہنے کی نوبت نہ آئے کہ
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے
منصف ہو توحشراٹھاکیوں نہیں دیتے۔

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Abbottabad taleemi board scandal, hakumat aur adare kahan hai ? is a Educational Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 11 November 2019 and is famous in Educational Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.