کرونا انسانیت کے لیے ایک یاد دہانی ہے

منگل دسمبر

Ayesha Ali

عائشہ علی

آج سے تقریبن ایک سال قبل ، کوویڈ 19  کی وبائی بیماری ہماری زندگی میں ایک پریشانی کی حیثیت سے سامنے آئی ، جس نے ہماری روز مرہ کی زندگیوں میں نمایاں رکاوٹیں پیدا کیں_ ہمیں اپنے  گھروں کےاندر رہنے پر اور دوسروں سے فاصلہ برقرار رکھنے پر مجبور کرکے ہم سب کو اپنی معیاری معاشرتی زندگی سے محروم کردیا۔ .اس وبائی مرض نے ہم سب کو اپنے گھروں میں قید کردیا ہے ، جس کی وجہ سے ہم اپنے گھروں کے اندر "معمول کی زندگی" پیدا کرنے پر مجبور ہو گۓ ہیں۔

مگر ہم میں سے بیشتر لوگوں کے لئے یہ  روزمرہ کی زندگی کے ضیاع سے کہیں زیادہ ہے ، کیونکہ ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ ہم اپنے گھروں میں ہی رہیں اور اپنے گھر والوں کے ساتھ محفوظ محسوس کریں۔ یہ گھریلو پریشانیوں میں مبتلا افراد کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کیونکہ گھروں سے نکل کر کام کے لئے جانا ، یا اسکولوں / کالجوں ، وغیرہ کی طرف جانے سے ہی یہ افراد   ایسے ماحول سے پناہ لیتے تھے ۔

(جاری ہے)

لیکن اس کا سب سے افسوس ناک حصہ یہ ہے کہ اس کا الزام پوری طرح کرونا کو ٹھرایا جا رہا ہے بجاۓ اس کے کہ ایسے واقعات کی طہ تک پوہنچا جاۓ اور ان کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی جاۓ تاکہ معاشرے میں بڑھتی ہوئ ذہنی بیماروں پر بھی قابو پایا جاۓ۔   اس ایک سال میں طلاقوں میں اور گھریلو تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے ، جو پوری ازماءش کو کہیں زیادہ مشکل بنا ہوا ہے۔


اگر ہم  اس پورے تجربے کو مثبت نقطہ نظر سے دیکھنا چھوڑ دیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہم سب کو اپنی خامیوں کو دور کرنے اور خود پر کام کرنے کے لئے وقت دیا گیا ہے۔ معاشرے میں تبدیلی کا آغاز اپنے آپ سے ہوتا ہے۔ اور اس وبائی مرض کو ایک عزاب کی بجائے ایک نعمت کے طور پر گننے اور آزادانہ وقت کو اچھے طریقے سے استعمال کرنے سے ، ہم اپنے اور اپنے معاشرے میں  تبدیلی لاسکتے ہیں۔


اس ازماءش کو پار کرتے ہوۓ ہمیں دیہان رکھنا چاہیے کہ ہمارے  اپنے پیاروں کے ساتھ روابط ضائع نہیں ہونےل چاہئے۔ اور اس کو یقینی بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کے ساتھ باقاعدگی سے بات چیت کریں۔  بات چیت وہ گلو ہے جو تمام تعلقات اور دوستی کو ایک ساتھ رکھتی ہے۔  الگ تھلگ رکھنے کے بجائے بات چیت کرکے ، ہم اپنے پیاروں اور ہمارے درمیان جذباتی فاصلوں کی تباہ کن رکاوٹ کو توڑ دیتے ہیں۔

ہم ان پر اعتماد کرسکتے ہیں کہ وہ اس مشکل وقت کے دوران  ہماری مدد کریں۔ کرونا انسانیت کے لیے مصیبت نہیں ہے۔ اس کے بجائے ، یہ فطرت کا  ہم سب کو احساس د لانے کا طریقہ ہے  کہ ہم اس کو اپنے اسباب کو دیکھیں ۔ مقصد پر مبنی ہونا ضروری ہے ، لیکن ان مقاصد اور عزائمکوی وجہ سے اپنی حالی زندگی کا احساس اتنا دور کر دینا کہ آپ مستقبل کو لے کر ذہنی دباؤ کا شکار ہو جایں۔ لہذا ، گھر میں اس وقت  کو ہمارے لئے ایک تہفہ سمجھا جاے ، اور آئیے ہم ایک بہتر انسان بننے اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کرنے پر غور کریں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Corona Insaaniyat K Liye Aik Yaad-Dehaani Hai Column By Ayesha Ali, the column was published on 01 December 2020. Ayesha Ali has written 2 columns on Urdu Point. Read all columns written by Ayesha Ali on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.