لولے لنگڑے گریجویٹ

پیر فروری

Ghulam Mustafa Haziq

غلام مصطفیٰ حاذق

اقوام عالم کی تاریخ اٹھاکے دیکھ لیں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار اس قوم کی نوجوان نسل کی مثبت سوچ پرہوتا ہے نوجوان نسل کی امنگوں ،جزبات اور خواہشات کوتعمیری اور مثبت سوچ میں ڈھالناہر قوم کے ارباب اختیار لیے ازحد ضروری ہے ۔اس مشن کی تکمیل کے لیے ایسی تعلیم ناگزیر ہے جسے حاصل کرنے کے بعدایک نوجوان اپنے ملک وقوم کے لیے ایک مضبوط اور فعال کردار ادا کر سکے۔

ایک ایسی تعلیم جسے حاصل کر کے اس نوجوان سٹوڈنٹ کا وقت اور پوٹینشل ضائع نہ ہو اور وہ نوجوان اپنے ملک و قوم کے کسی بھی پرائیویٹ یا سر کاری ادارے میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق بہترین کردار ادا کر سکے۔
ویسے تو تعلیم کے بارہا مسائل غور طلب ہیں لیکن یہ جو مسئلہ آپ قارئین کے گوش گزار ہوگا بظاہر منفرد اور حکام بالا کے لیے بڑی توجہ کا طالب ہے ۔

(جاری ہے)

راقم درحقیقت حکام بالا کی توجہ ان لولے لنگڑے گریجویٹ کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہے جنھوں نے ڈگریاں حاصل کر کے ملک کے گریجویٹس میں اضافہ تو فرمایا ہے لیکن اپنے ملک و قوم کے لیے کوئی خاطر خواہ کام سر انجام نہیں دے سکتے یعنی ملک و قوم کی ترقی کا حصہ بننے سے قاصر ہیں۔کتنے دکھ کی بات ہے کی یہ لولے لنگڑے گریجویٹ اعداد و شمار میں تو آتے ہیں لیکن ان کے لیے ملک کے تمام سیکٹرز میں بڑی محدود نشستیں مخصوص ہوتی ہیں جو آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔


یہ لولے لنگڑے گریجویٹ وہ طالب علم ہیں جنھوں نے آرٹس کے مضامین اختیار کرنے کی فاش غلطی کی ہے یعنی آرٹس میں گریجویشن کیا ہے ان نوجوان ڈگری ہولڈرز میں ذیادہ تر افراد کا تعلق متوسط اور غریب گھرانوں سے ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے کیا ان کو یکسر نظر انداز کردیا جائے گاجبکہ پچاس فیصد سے زائد طالب علم آرٹس میں ڈگری رکھتے ہیں جس کا سیدھے سادے الفاظ میں مطلب یہ نکلتا ہے کہ آدھے سے ذیادہ طلباء کی چودہ سالہ محنت اکارت جائے گی۔

کیا آرٹس کی ڈگری حاصل کرنا کوئی مزاق ہے؟ یا پھر صرف ملک پاکستان میں ہی ایسا ہوتا ہے اگر آرٹس کی ڈگری کی اہمیت اتنی ہی کم ہے تو آرٹس کے سٹوڈنٹس کی کلاسیں جامعات میں محدود کیوں نہیں کی گئیں۔ہمارے ملک میں آرٹس کے گریجویٹس اس پودے کی مانند ہیں جن کے اوپر سائبان تان دیا جائے نہ تو سائبان ہٹے اور نہ ہی پودا پروان چڑھ سکے۔آرٹس کے گریجویٹس اپنی بطیعت میں وہی بے چینی سیماب فطرتی لے کر پیدا ہوتے ہیں جو سائنسی مضامین اختیار کرنے والوں میں ہوتی ہے یہ بھی آگے بڑھنا چاہتے ہیں ان کا بھی ایک ہدف ہے یہ بھی ملک وقوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے خواہاں ہیں لیکن گائیڈ لائن نہ ہونے کی وجہ سے آرٹس سبجیکٹ منتخب کر بیٹھتے ہیں جس کے اسکوپ کم ہوتے ہیں اور ساری عمر پچھتاوے میں گزرتی ہے کہ کاش سائنس کے مضامیں منتخب فرما لیے ہوتے لیکن ٹین ایج میں مضامین کا چناؤ کرنا بنا گائڈ لائین کے ممکن نہیں کچھ سٹوڈنٹ اس حوالے سے خوش نصیب ہوتے ہیں کہ انہیں گھر سے ہی رہنمائی مل جاتی ہے لیکن سب کے ساتھ ایسا ممکن نہیں ہوتااس لیے ازحد ضروری ہے کہ سٹوڈنٹس کے لیے میٹرک کے نتائج آنے سے پہلے ہی انہیں آگہی ورکشاپ دی جائے جو محکمہ تعلیم کی طرف سے ہو جس میں سبجیکٹ کے چناؤ کے متعلق اور ان سبجیکٹ کے اندرون اور بیرون ملک افادیت پر بھرپور روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے حوالے سے اور حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر سبجیکٹ کو تفصیل سے سمجھایا جائے اور سیکنڈ آگہی ورکشاپ جو گریجویشن کے سبجیکٹ منتخب کرنے کے لیے ہو گی اس میں سابقہ سقم بھی نکل جائے گا اور سٹوڈنٹ اپنے لیے بہترین نصاب کا انتخاب کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔


لیکن جتنی ذیادہ تعداد ان آرٹس گریجویٹس کی ہے آرمی یا ٹیچنگ کا ادارہ ان سب کو سنبھال نہیں سکتاتو لازمی بات ہے کہ ملک کے دوسرے ادارے بھی لچک لیں اور ان بھائیوں کے لیے خاطرخواہ نشستیں مخصوص کریں۔ آج کے دور کے ذیادہ تر چانسلرز،ڈائیریکٹرز اور ایڈمنسٹریٹرزاسی ڈگری کی مرہون منت ہیں پھر اس دور میں آرٹس کے ساتھ یتیموں جیسا سلوک کیوں؟گر اس ڈگری کی افادیت نہیں ہے تو راقم حکام بالا سے درخواست کرتا ہے کہ یہ ڈگری سرے سے ہی ختم کردی جائے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ملک میں گریجویٹس کی تعداد میں اضافہ ہی مطلوب ہے یاہمارا پیارا ملک ان ڈگری ہولڈرز سے استفادہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔جتنی ذیادہ تعداد ہمارے آرٹس ڈگری ہولڈر کی ہے ان کا مصرف کیا ہے؟اتنی ذیادہ مین پاور اور انرجی بے توجہی کا شکار کیوں ہے؟کیا ان کے لیے سوچنا ضروری نہیں؟
چووہ سالہ محنت کے بعد غریب غرباء آرٹس ڈگری ہولڈر زجنھوں نے اپنے گھر کو سنبھالنے اور خود کفیل ہونے کے خواب دیکھ رکھے ہیں جن کے پاس اضافی اخراجات نہیں یا جنھیں حالات آگے تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتے اور وہ اپنے بوڑھے والدین کی امیدوں کے سہارے ہیں پھر ان کا کیا ہوگا،صاف ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں آرٹس ڈگری ہولڈرز خود کو لولا لنگڑا محسوس کریں گے ان میں دن بدن تعمیری سوچ کا فقدان ہوگا اور منفی سوچ پنپے گی۔

کوئی ہنر یا ڈپلومہ اس کے پاس نہیں ہوگا کیونکہ اس کے لیے ایکسٹرا ٹائم درکار ہو گا۔کسی بھی سیکٹرز میں آرٹس گریجویٹس کو جاب اپلائی کرنے کے لیے اسی سیکٹر کے متعلق مخصوص ڈپلومہ درکار ہوتا ہے یعنی جتنے مختلف سیکٹرز میں اپلائی کرنا ہے اتنے ہی مختلف ڈپلوماز ہونے چاہیے تو ڈپلوماز کے لیے ایکٹرا عرصہ درکار ہوتا ہے ممکن ہے ایک سال دو سال یا ذیادہ ،میری حکام بالا سے گزارش ہے کہ ایجوکیشن سسٹم میں ایک مربوط لائحہ عمل تیار کیا جائے جس میں آرٹس کی ڈگری کو کچھ اس طرح سے نکھارا جائے کہ اس میں کوئی سقم باقی نہ رہے جسے حاصل کر کے کوئی بھی آرٹس سٹوڈنٹ ملک کے کسی بھی فیلڈ میںآ سانی سے فعال کردار ادا کر سکے اور معمار قوم کے خوابوں زندہ تعبیر کر سکے۔


راقم کا مقصد تنقید برائے اصلاح ہے میں حکام بالا سے گزارش کرتا ہوں کہ آرٹس سٹوڈنٹس کا چودہ سالہ دور قیمتی بنانے کے لیے اس میں ایک ایسے جنرل نصاب کا اضافہ فرمادیں جو کہ ایسے کورسز پر مشتمل ہوجو آج کے دور میں ناگزیر ہوں اور یہ سبجیکٹ آرٹس میں کمپلسری قرار دیا جائے۔ جنرل نصاب میں اس دور کے مطابق ہر وہ کورس اور ڈپلومہ شامل کیا جائے جو دور حاضر کے مشینی روئیے کا متبادل ہو۔

جس طرح فزکس اور کیمسٹری کے لیب میں پریکٹیکل ہوتے ہیں اس طرح جنرل نصاب کے لیے بھی باقاعدہ ایک ورکشاپ کی بنیاد رکھی جائے جس میں آرٹس کے باقاعدگی سے پریکٹیکل ہو سکیں اور سٹوڈنٹس کے لیے بیترین ممتحن کا بڑی ذمہ داری سے چناؤ کیا جائے اور جو طالب علم پرائیویٹ ڈگری حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے بھی جنرل سبجیکٹ کے پریکٹیکل لازمی قرار دئیے جائیں اس سلسلے میں ریگولر اور پرائیویٹ سٹوڈنٹس میں کوئی فرق روا نہ رکھا جائے یعنی کسی کو بھی پریکٹیکل سے استثنا حاصل نہ ہو۔

ظاہر ہے کہ پھر جنرل سبجیکٹ کی ورکشاپ سائنس لیبارٹری کے مقابلے میں سارا سال ہے ورک کرے گی کیوں کہ ایک تو یہ کافی ذیادہ کورسسز پر مشتمل ہوگی دوسرا اس میں کافی ذیادہ ممتحن کی ضرورت رہے گی تو گر محکمہ تعلیم جنرل ورکشاپ میں اساتذہ کی اٹیچمنٹ کو ان کی اسیسمنٹ سے مربوط کردے تو بے پناہ اساتذہ نہ صرف ورکشاپ میں دلچسپی لینگے بلکہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ بھی کریں گے اور اس کے علاوہ سٹوڈنٹس کی بہت ذیادہ تعداد کے پیش نظر ان کی جنرل نصاب کی ورکشاپ میں ان کی حاضری کو بہتر بنانے اور اچھا سکھانے کے لیے ان کی سال کے مختلف مہینوں میں جماعت بندی کرنا بہت ضروری ہوگی کیوں کہ ان میں ذیادہ تعداد پرائیویٹ سٹوڈنٹس کی بھی ہوگی اس لیے جو مہینے بھی جنرل ورکشاپ کے لیے دیے جائیں گے وہ ریگولر اور پرائیویٹ کے لیے یکساں لاگو ہونگے ۔

یہ توراقم کی طرف سے ایک رائے ہے بلاشک و شبہ حکومت اس سے بہتر ین اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Loole Langre Graduate Column By Ghulam Mustafa Haziq, the column was published on 22 February 2021. Ghulam Mustafa Haziq has written 5 columns on Urdu Point. Read all columns written by Ghulam Mustafa Haziq on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.