پپو جونیئر کا پاکستان

جمعرات جولائی

Jahid Ahmad

جاہد احمد

پپو مطالعہ پاکستان پڑھ کر جوان ہوا، جیسے تیسے تعلیم مکمل کی، برسرِروزگار ہوا، پھر شادی ہوئی اور ایک ہی سال میں پپو جونئیر کا باپ بن گیا۔ پپو جونئیربڑا ہوا، سکول پہنچا اور اسی مطالعہ پاکستان کو پڑھتا پڑھتا تعلیمی منازل طے کرتا چلا گیا جو پپو سینئیر پڑھ کر فارغ التحصیل ہوا تھا۔ پپو جونیئر کے باصلاحیت دماغ کی بتیاں جل پڑنے پر منطقی سوالات ذہن میں ابھر کر زبان پر آ بھی جاتے تو استاد جی اسی مطالعہ پاکستان کی روشنی میں تسلی بخش جواب فراہم کر دیتے اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری چوں چراں کی صورت میں لکڑی کے پھٹے پر ہی مرغا بنا کر پپو جونئیر کے ننھے سے وجود کا سارا خون دماغ کی طرف دوڑا دیتے اور یوں روشن ہوئیں تمام بتیاں فورا سے پہلے گل ہو جاتیں۔

مرغا بننے کی اس افتاد، ذلت اور جگ ہنسائی نے پپو کو یہ سکھا دیا کہ کوئی ایسا سوال نہیں پوچھا جانا چاہئیے جس کا جواب مطالعہ پاکستان کے صفحات پر موجود نہ ہونے کا ذرہ بھر امکان بھی موجود ہو اور ایسے سوال کا گلا تو دماغ کے اندر ہی گھونٹ دینا بہتر ہے جو استاد جی کی طبیعیت پر گراں گزرنے کا احتمال رکھتا ہو۔

(جاری ہے)

ورنہ لکڑی کا بینچ ہو گا، اس پر ایک عدد ننھا سا پپو جونئیر مرغا اور استاد جی کی چھڑی۔


ریاستِ پاکستان میں کامیاب لائحہ عمل کے نتیجے میں ایسی پود در پود وجود میں لائی گئی ہے جس کی یاداشت نامکمل، منقسم، بناوٹی، مصنوعی اور مفروضات پر مشتمل ہے۔ کسی بھی معاشرے کی اپنی تاریخ سے متعلق سطحِ علم، فہم اور آگہی، اجتماعی یاداشت کہلاتی ہے۔ یاداشت ناقص ہو تو انفرادی طور پر انسان اور اجتماعی طور پر معاشرہ روز مرہ کے معمولات تک درست طور پر سرانجام دینے سے قاصر رہتا ہے تو فیصلہ سازی جیسے پیچیدہ عمل کی بات ہی کیا کی جائے۔

ایسی اقوام جو اجتماعی یاداشت سے محروم ہو جاتی ہیں یا ناقص یاداشت کی حامل ہوتی ہیں درحقیقت اپنی جڑوں سے محروم ہو جاتی ہیں! ایسی اقوام تاریخ کو بار بار دہراتی ہیں، بار بار ایک ہی جیسی غلطیوں کی مرتکب ہوتی ہیں اور مسلسل کمزور فیصلے کر کے خوفناک نتائج بھگتتی ہیں کیونکہ یہ تاریخ سے سبق سیکھ کر اپنی یاداشت کا حصہ نہیں بنا پاتیں! یہ کہنا ہر گز غلط نہیں کہ ترقی اور کامیابی کی بنیادی شرائط میں سے ایک قوی، مکمل اورمعیاری یاداشت ہے۔


ریاستِ پاکستان نے ایک کمزور، جذباتی اور بے شعور معاشرہ تخلیق کرنے کی خاطر جو دو اہم کام پوری شدت سے سرانجام دیے ہیں ان میں سے ایک آبادی میں بے پناہ اضافے کی بھرپور اجازت اور دوسرا تعلیم پر کم سے کم خرچہ کرنا ہے۔ ۲۲ کروڑ کو پہنچ چکی آبادی میں ایک اندازے کے مطابق ۰۶ فیصد افراد ۵۳ سال یا اس سے کم عمر کے ہیں جن کی اکثریت کو پپو جونئیر والے خانے میں ڈالا جا سکتا ہے۔

پپو جونئیرز کو یہ تو رٹا دیا گیا کہ ایوب خان کی آمریت پاکستان کا سنہری دور تھی لیکن یہ بیان نہیں کیا گیا کہ مغربی پاکستان کا یہ سنہری دور مشرقی پاکستان کے جسم سے نوچے گئے سنہری ریشے سے بْنا گیا تھا اور پاکستان دو لخت ہونے کی بھاری ذمہ داری اسی آمرانہ دور پر عائد ہوتی ہے۔ ان پپووں کو سقوطِ ڈھاکہ میں سازش دکھا کربنگالیوں کی غداری کا سبق تو پڑھا دیا گیا لیکن یہ بتلانا بھول گئے کہ کس کے حقوق کس نے کس کس طرح سلب کئے رکھے۔

۶ ستمبر ۱۹۶۵ کو رات کے اندھیرے میں دشمن کا لاہور پر بزدلانہ حملہ بھی ازبر کرا دیا گیا لیکن آپریشن جبرالٹر کا کہیں کوئی ذکر نہیں۔ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کی قراردادِ لاہور اور ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کی تواریخ تو ماتھے پر جھومر کی طرح سجا دی گئیں لیکن بیچ کیسات سال گرد و غبار سے اٹے پڑے ہیں، مطلب کے مناظر کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور باقی سب گول کر دیا گیا ہے۔

سیاست، جمہوریت اور عوامی نظام سے نفرت کا پرچار تو دن رات کیا گیا لیکن چار آمرانہ ادوار کے ملک و معاشرے پر پڑے بدترین اثرات بارے کوئی بحث نہیں۔ سیاسی ادوار کی ریشہ دوانیوں کو تو پھول بوٹے ٹانک کر پیش کیا گیا لیکن ڈوریاں ہلانے والوں کا ذکر شجرِ ممنوعہ ہے۔ غداری اور ایجنٹ کے لیبل لگا لگا کرعوامی نمائندگان کو قابلِ نفرت، حقیر، قومی سلامتی کے لئے خطرہ، نااہل اور ناقابلِ قبول مخلوق تو ثابت کیا جاتا رہا ہے لیکن آئین پامال کرنے اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے غیر منتخب غاصبین نجات دہندہ اور مسیحا کے درجات پر فائز کئے گئے ہیں۔

اسی طرح قیام پاکستان اور قرار دادِ لاہور سے پہلے اس معاشرے کی یاداشت گول میز کانفرنسوں، علامہ اقبال کے خواب، دو قومی نظریے، قائداعظم کی انگلستان سے واپسی، مسلم لیگ کے قیام، کانگریس کے مسلم دشمن رویے، قائداعظم اورعلامہ اقبال کی تاریخِ پیدائش و رحلت اور زندگی کے انتہائی منتخب حصوں پر مشتمل ہے۔ اس سے پیچھے مسلمان بادشاہوں کی ہندوستان پر کئی سو برس حکومت کا فتوراورجنگجو مسلم فاتحین کی عظمت کا خیال رگ و پے میں جنون بن کر دوڑتا ہے۔

یہ جنون اور فتوراجتماعی نفسیات کا لاشعور ہے جو ناقص یاداشت کے ساتھ سیاسی بندوبست پر یقین کم کرتا ہے، نظام کو غیر اہم سمجھتا ہے، ہمہ وقت کسی مسیحا کی آمد کا منتظر رہتا ہے اور جنگجو افراد کی گاہے بگاہے نظام سے چھیڑ خانی پر اطمینان کا اظہار بھی کرتا ہے۔
ایسی مخصوص و ناقص یاداشت کے حامل معاشرے کی موجودگی مقتدرِاعلی اور حقیقی فیصلہ ساز قوتوں کے لئے انتہائی اہم ہے جو ریاست کے نظریات اور معاملات پر اجارہ داری قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

کیونکہ کسی بھی قسم کی صورتحال میں ایسے معاشرے کے ممکنہ رویے اور ردِ عمل بارے کافی حد تک درست اندازہ کیا جا سکتا ہے لہذا حقیقی قوتوں کے لئے کسی بھی قسم کے حالات میں ایسے معاشرے کی مہار موڑنا اور رائے عامہ اپنے حق میں قائم رکھنا نسبتا آسان عمل ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے کسی بھی مسئلے پر درست تجزیہ کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور عمومی طور پر روایتی فیصلے ہی کرتے ہیں۔


ایک درست یاداشت کا حامل باشعور، تعلیم یافتہ اور آزاد سوچ رکھنے والا معاشرہ ایسی کسی بھی اجارہ داری کو مسترد کرتے ہوئے جدید ترقی یافتہ معاشروں کی تقلید میں حقیقی عوامی حقِ حکمرانی اور جمہوری نظام کو ریاست کی ترقی کے لئے ناگزیر سجمھ سکتا ہے۔ لہذا اجارہ دار قوتوں کی جانب سے معاشرے کے ذہنی و شعوری انجماد کو قائم رکھنے کی حتی المقدورکوشش کی جاتی ہے۔

مخصوص اور ناقص تعلیم فراہم کی جاتی ہے، آزادی اظہار پر قدغن لگائی جاتی ہے، ریاستی سطح پر موافق نظریات کی تشہیر کی جاتی ہے اور مخالفین سے کسی دشمن کے طور پر سلوک برتا جاتا ہے۔ عوامی حقِ حکمرانی اور شعور کی بھوک مٹانے کے واسطے ہر دور کے لئے نیا مسیحا تخلیق کیا جاتا ہے۔ اپنی مرضی کا میدان سجا کر من پسند کھلاڑی اتارے جاتے ہیں، انہیں حکومت کا جھنجھنا تھمایا بھی جاتا ہے لیکن پھرانہی مہروں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہوتا دیکھ کر قومی سلامتی، غداری، نااہلی اور بدعنوانی کے نام پر نشانِ عبرت بنا دیا جاتا ہے۔

نئے بت تراشے جاتے ہیں، پرانے ڈھا دیے جاتے ہیں اور پپو جونئیر ادھر سے ادھر چھلانگیں لگا کر مطمئین ہو جاتا ہے۔
آج ۲۰۱۹کا پاکستان ۱۹۹۰ کے پاکستان سے کسی طور مختلف نہیں۔ حقیقی مقتدر قوتیں وہی ہیں بس مہروں کے چہرے اور شناخت تبدیل ہو گئی ہیں۔ کل کا بغل بچہ آج کا مجرم ہے اورآج کا لے پالک کل کا نااہل ہو گا! پپو جونئیر کے پاکستان میں کسی بھی طرح کی حقیقی تبدیلی آزاد سوچ اور عوامی شعور کے بنا ممکن نہیں ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Pappu Junior Ka Pakistan Column By Jahid Ahmad, the column was published on 18 July 2019. Jahid Ahmad has written 51 columns on Urdu Point. Read all columns written by Jahid Ahmad on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.