شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ

بدھ 26 اگست 2020

Mir Afsar Aman

میر افسر امان

 حضرت محمد صلہ اللہ علیہ وسلم کی چار لڑکیاں تھی۔ حضرت زینب، حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ ۔ حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے فرزند تھے۔ر سول اللہ کا فرمان ہے۔ حسین رضی اللہ عنہ مجھ سے ہے اورمیں حسین رضی اللہ عنہ سے ہوں۔کیوں نہ ہو حسین رضی اللہ عنہ خاتون جنت رسول اللہ کی لخت جگر حضرت فاظمہ رضی اللہ عنہ کے فرزند ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ شیر خدا فاتح خیبر،بچوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے،جنگ بدر میں قریش کے سرداروں کی للکار پر میدان جنگ میں مقابلے کے لیے اُترنے والے، ہجرت کے موقعہ پر رسول اللہ کے بستر پر سونے والے، تاکہ لوگوں کی اماتیں واپس کو سکیں اورہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی کے صاحزادے ہیں۔

(جاری ہے)

جن کو رسول اللہ نے جنت میں نوجوانوں کا سردارکہا ہے۔

مسلمانوں کے سر کے تاج ہیں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ وہ سب کچھ ہیں جیسے کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ عوا م کے اندر مقبول اور پسندیدہ ایک خوبصورت نغمہ، جو ہم اکثر عقیدت سے گانے والوں سے سنتے رہتے ہیں سنیں:۔
زندگی بخش دی بندگی کو
آبرو دین حق کی بچا لی
وہ محمد کا پیارا نواسہ
جس نے سجدے میں گردن کٹا لی
 رسول اللہ کو تو جنت کے پھول عام بچوں سے بھی ہمیشہ پیار کرتے تھے۔

مگر اس پیار میں اپنے پیاری بیٹی ،خاتون جنت ، عورتوں کی سردار اپنی لخت جگرحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے بیٹوں، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نمبر ایک تھا۔جب رسول اللہ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور سجدے میں ہوتے توننے منھے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اورحضرت حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ کے کاندھے پر سوار ہو جاتے۔ رسول اللہ سجدے سے اُٹھنے میں دیر فرماتے کہ کہیں یہ ننے منھے شہزادے دوسری طرف لڑک نہ جائیں۔

جب عیسائیوں کے ساتھ مبائلہ کا وقت آیا تورسول اللہ کی آ ل اولاد میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی شریک تھے۔
مسلمانوں کے اندر سیاسی اختلاف کی بات کی جائے تورسول اللہ نے اللہ کے حکم کے مطابق مدینہ میں مثالی اسلامی ریاست قائم کی تھی۔ اس ریاست کی ایک ایک بات واضع تھی۔ اسی پر مسلمانوں کو چلنے کی تاکید کی گئی تھی۔

پھر خلفائے راشدین رضی اللہ عنہ نے اسی حکم پر عمل کر کے مثال قائم کی۔ مگر اس کے بعد مسلمانوں میں قبائلی سوچ نے پھر سے جنم لیا۔اسلامی جمہوری طور پر قائم ہونے والی اسلامی خلافت کو خاندانی ملوکیت میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کی تحقیقی روپورٹس ہماری اسلامی تاریخی کتابوں میں موجودہیں۔ اسی خرابی کی وجہ سے اسلامی تاریخ میں حضرت امام حسین کی شہادت کا عظیم واقعہ رونماء ہوا۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے نامزد کرد ہ جانشین یزید کے عہد میں وہ بدترین نتائج تک پہنچ گئی۔ پہلا وقعہ سید نا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ہے۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے یزید کے خلاف خروج کو کسی بھی صحابی رضی اللہ عنہ اور تابعین  نے ناجائز نہیں کہا۔ صحابہ میں جس کسی نے بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو نکلنے سے روکا تھا وہ اس بنا پر تھا کہ تدبیر کے لحاظ سے یہ اقدام نامناسب ہے۔

یزید کی حکومت اگر کہے کہ یہ بغاوت ہے۔ تو بھی امر واقعہ یہ ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ خروج کے لیے کوئی فوج تو نہیں تھی ۔صرف ۳۲سوار اور ۴۰ پیادے تھے۔ اسے کوئی بھی شخص فوجی چڑھائی نہیں کہہ سکتا؟۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں چار(۴) ہزارکی باقاعاہدہ فوج عمر بن سعد بن ابی وقاص کے ساتھ بھجی گئی تھی۔ اس فوج کو چند لوگوں سے لڑائی کی کوئی ضرورت نہ تھی۔

وہ ان کا محاصرہ کر کے گرفتار کر سکتے تھے۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ان سے آخری وقت تک یہ کہا تھا کہ مجھے واپس جانے دو۔ کسی سرحد کی طرف نکل جانے دو یا پھر مجھے یزید کے پاس لے چلو۔لیکن اس میں کوئی بھی بات نہیں مانی گئی۔ کہا گیاکہ آپ کو گورنر عبید اللہ بن زیاد کے پاس کوفہ جانا ہو گا۔ جبکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ عبیداللہ بن زیاد کے پاس جانے کے لیے تیار نہیں تھے۔

یہ مسلم بن عقیل کے ساتھ جو کچھ وہ کر چکا تھا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو معلوم تھا۔ مگرشاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے وہی کیا جس کی وجہ سے ساری عمر کے لیے بدنامی اپنے سر لے لی۔حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے سے جنگ کی۔ جب حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے کے سارے لوگ شہید کر دیے گئے ۔حسین رضی اللہ عنہ میدان جنگ میں تنہا رہ گئے۔ اس وقت بھی ان پر حملہ کیا گیا۔

جب زخمی ہو کر گر پڑے تو اس وقت ان کو ذبح کیا گیا۔ان پر گھوڑے دوڑا ان کو روندہ گیا۔اس کے بعد ان تمام شہدائے کر بلا کے سر کاٹ کر کوفہ لے گئے۔ ابن زیاد نے ان کی برسرے عام نمائش کی، بلکہ جامع مسجد میں منبر پرگھڑے ہو کر اپنی بہادری کا اعلان کیا۔پھر یہ سارے سر یزید کے پاس دمشق بھیجے گئے۔ اس نے بھرے دربار میں ان کی نمائش کی۔
 خلافت کس کا حق ہے کے شروع کے سیاسی اختلاف نے آہستہ آہستہ مذہبی اختیار کر لیا۔

دو مستقل فرقے وجود میں آ گئے۔پھر کشت و خون کا آغازہوا۔ امت مسلمہ کی وحدت کو نقصان پہنچا۔ مسلمانوں کے لیے ہر دور کا پیغام ہے ابلیس/ شیطان انسان کاازلی دشمن اسے لڑا کر ہی چھورٹا ہے۔ مگر ساتھ ساتھ قرآن شریف میں اللہ کے احکامات بھی بھی روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اللہ کا حکم ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقوں میں نہ بٹو ورنہ تمھاری ہوا اُکھڑ جائے گا۔

رسول اللہ نے فرمایا میں تمھارے درمیان اللہ کی کتاب اور اپنی سنت چھوڑے جاتا ہوں۔ اس پر عمل کرو گے تو فلاح پاؤ گے۔علامہ شیخ محمد اقبال شاعر اسلام جو سب مسلمانوں میں یکساں مقبول ہیں۔اسے طرح بیان کرتے ہیں:۔فرقہ بندی ہے کہیں، اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
 اللہ تعالی ہر وقت حاضر و موجود ہے۔ اب بھی کوئی مرد حق لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے تو خلافت اور اتحاد بین المسلیمن پھر سے قائم ہو سکتا ہے۔

اس لیے انسانیت کو پھر سے اسلامی خلافت کی طرف گامزن ہونا چاہیے۔ مسلمان اس کا ہراول دستہ ہیں۔ پھر اللہ پہلے والی شان و شوکت بھی عطا فرمائے گا۔ اللہ کبھی نہ کبھی اپنی جلک، حضرت عمر بن عبدالعزیز کی شکل میں، کبھی یہ قائد اعظم کی شکل میں۔ کبھی یہ امام خمینی کی شکل میں اور کبھی امام سید ابوالا علیٰ مودودی وغیرہ کی شکل میں ظاہر کرتارہتا ہے ۔

وقت کے مجدد سید ابو الا علی مودودی نے انسانیت کو پھر سے حکومت الہیا/ خلافت/ نظام مصطفےٰ/ اسلامی نظام حکومت، نام کچھ بھی کی طرف بلانے کی بنیاد، ۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی کے نام سے رکھی تھی۔ غیر مسلموں میں چند رجال کے علاوہ ہ کوئی بھی اس تحریک کے قریب نہیںآ یا۔مسلمانوں نے اسے مشکل اور ناممکن سمجھا ۔ مگر یہ قافلہ سخت جان اب بھی مصروف عمل ہے۔دیکھیں اللہ کب اپنا کرشمہ دکھاتا ہے۔ جابر اور اللہ کے باغی مسلم حکمرانوں کے سامنے وہی حضرت امام حضرت حسین رضی اللہ عنہ والا جذبہ اختیار کرنا پڑے گا۔ فتح یا شہادت ۔ اللہ مسلمانوں کی مدد فرمائے آمین۔

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :