"روٹی کی کھوج"

اتوار اکتوبر

Muhammad Faisal

محمد فیصل

وہ آج پھر روٹی کی کھوج میں نککا تھا۔ مملکت خداداد کا یہ  باسی گزشتہ کئی ماہ سے پے در پے آنے والی آفتوں سے زندہ لاش کی شکل اختیار کرگیا تھا۔ کورونا وبا کے دوران لگائے جانے والے لاک ڈاٶن میں ایک 'سخی" حاکم نے اسے 12 ہزار کی خیرات بھی دی تھی جس کی وجہ سے اس نے کچھ دن پیٹ بھرے گزار لیے تھے۔۔یہ کوئی اس کی آج کی داستان نہیں تھی پہلے اس کا باپ اور اس سے پہلے اس کے باپ کا باپ یہ سب نسل در نسل بھوک کے ہاتھوں غلام تھے لیکن اس کی غلامی ذرا مختلف تھی۔

۔ اس کے ساتھ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اس کی نسل میں تھوڑا شعور آگیا تھا۔اس کے باپ دادا تو یہ سب مقدر کا لکھا سمجھ کر منوں مٹی تلے سوگئے لیکن آج کا دور اس کو سمجھاتا تھا کہ یہ سب تمہارا مقدر نہیں بلکہ چند لوگوں کے غیر منصفانہ طرز عمل کا نتیجہ ہے۔

(جاری ہے)


اس کی آنکھوں کے سرخ ڈورے بتارہے تھے کہ وہ رات بھر سو نہیں سکا ہے اور اسے یہ بھی نہیں پتہ تھا اسے ابھی زندگی اور کتنا خراج ادا کرنا ہے۔

۔وہ ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے ایک "کھلاڑی" سے امیدیں لگائی تھیں کہ وہ اس سمیت لاکھوں لوگوں کی گیم چینج کردے گا۔۔۔ ان کا کام باس باٶنڈری سے باہر بیٹھ کر گیند واپس پھینکنا نہیں رہ جائے بلکہ اب کی بار "بیٹ" ان کے ہاتھوں میں ہوگا۔۔دماغ میں روٹی کے حصول کا سودا سمائے وہ سوچ رہا تھا کہ یہاں بیٹ تو دور کی بات اس سے تو بال واپس پھینکنے کا حق تک چھین لیا گیا ہے
حالات بتارہے تھے کہ آج کا دن بھی اس کے لیے کٹھن ہوگا۔

مزدوری ملنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔وہ چلتے چلتے ایک دکان کے سامنے رک گیا جہاں ٹیلی وژن پر کوئی کچھ بتارہا تھا۔۔۔ ایک قیمتی لباس میں ملبوش شخص بتارہا تھا کہ ملک کے حالات اب بدلنے والے ہیں۔زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا ہے۔تجارتی خسارے میں کمی آگئی ہے۔کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کردیا گیا ہے جس کے بعد ملک میں دودھ کی نہریں بہنا شروع ہوجائیں گی۔

۔راوی چین ہی چین لکھے گا۔۔ ابھی یہ بھاشن ختم ہی ہوا تھا کہ کچھ پرانے سیاسی "کھلاڑیوں"کی جھلک سامنے آگئی۔۔وہ کہہ رہے تھے کہ اناڑی حکمران نے غریب سے دو وقت کی روٹی بھی چھین لی ہے۔۔اب وہ اس حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے۔۔جلسے ہوں گے جلوس نکالے جائیں گے دھرنے ہوں گے اور عوام کو ان کاحق دلاکر دم لیں گے۔۔۔ وہ پھٹی آنکھوں سے انہیں سن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ کھلاڑی تو تین تین مرتبہ حاکم بنے ہیں انہوں نے عوام کو ان کا حق پہلے کیوں نہیں دیا۔

۔۔
اس کو لگ رہا تھا کہ اس کی ٹانگیں اب اس کے وجود کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہورہی ہیں۔۔ اس نے اپنی جیب میں پڑے سکوں کو شمار کرنا شروع کیا اور ایک تندور کی جانب بڑھ گیا۔۔نان بائی نے اس کے ہاتھ سے لے کر سکے شمار کیے اور تمخسرانہ انداز واپس اس کو تھماتے ہوئے کہا کہ بھائی کس دنیا میں رہتے ہو کیا تمہیں علم نہیں کہ آٹے کا بھاٶ کیا چل رہا ہے۔

۔ان سکوں سے تمہارے پیٹ کی آگ نہیں بجھے گی۔۔۔اس کو آج اپنے باپ دادا ہر رشک آرہا تھا کچھ بھی سہی وہ کھانے کے لیے روٹی کا انتظام تو کرلیتے تھے۔۔اس نے تھکے ہارے قدموں واپسی کا سفر شروع کردیا۔۔۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اپنے آپ کو تو وہ بہلا لے گا لیکن بچوں کے سوال کا کیا جواب دے گا۔۔۔انہی سوچوں میں غرق وہ نجانے کب گھر پہنچ گیا ۔۔وہ نظریں جھکائے بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک اس نے ایک آواز سنی۔۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ ابا روٹی کہاں ہے ؟اس نے نظریں اٹھائیں اور آنکھیں موندھتے ہوئے بے ساختہ کہا قبر میں۔۔۔۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Rooti Ki Khooj Column By Muhammad Faisal, the column was published on 18 October 2020. Muhammad Faisal has written 2 columns on Urdu Point. Read all columns written by Muhammad Faisal on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.