عورت آزادی مارچ یا ننگ مارچ ؟

جمعرات مارچ

Sabir Abu Maryam

صابر ابو مریم

اس کالم کو لکھنے کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ میں خواتین کی عزت و عظمت اور آبرو سمیت ان کے بنیادی حقوق کے خلاف ہوں بلکہ یہ کالم اس لئے لکھ رہا ہوں تا کہ پاکستان میں عورت آزادی مارچ کے نام پر یا خواتین کے حقوق کے نام پر جو کچھ ننگ مارچ یا بے حیائی کا کلچر عام کرنے کی مغربی کوشش کی جا رہی ہے ا سکا کسی نہ کسی طرح راستہ روکا جائے اور ایوان حکومت تک کم سے کم کمزور ہی سہی آواز تو پہنچے۔


آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں اقوام متحدہ کی جانب سے اعلان کردہ ’’عالمی یوم خواتین‘‘ منایا جاتا ہے اس دن کو منانے کا جو مقصد اقوام متحدہ نے یا یوں کہہ لیجئے کہ اس دن کو قرار دلوانے والی استعماری حکومتوں نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ خواتین کو آزادی دینے سمیت خواتین کو مردوں کے برابر لانے کی بات کرتے ہیں یعنی ایک عورت اور مرد برابر ہوں ۔

(جاری ہے)

بظاہر تو یہ نعرے دل کو لبھانے والے ہیں ۔اور ان نعروں کو زیادہ اثر خود مغربی ممالک کے بجائے ہمارے مشرقی اور ایشیائی ممالک میں زیادہ نظر آیا ہے کیونکہ یہاں کی عورتوں نے اگر کسی کو اپنا آئیڈیل بنا رکھا ہے تو وہ مغرب کی عورت کو کیونکہ تیسری دنیا کے ممالک کی خواتین نے اپنی ثقافت اور مذہبی روایات و رسوم کو فراموش کر دیا ہے اور مغرب کے دل لبھانے والے نعروں کی زد میں آ کر یہاں بھی آزادی آزادی کے نعرے لگانے شروع کر دئیے ہیں۔


آٹھ مارچ سنہ2019ء کو مغربی استعماری قوتوں کی پیروی کرتے ہوئے خواتین کا عالمی دن بھی منایا گیا اور اس میں سب سے نمایاں کام ’’عورت آزادی مارچ‘‘ تھا جو ملک کے مختلف بڑے شہروں میں دیکھنے میں آیا ۔اس عورت آزادی مارچ کو ننگ مارچ کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہو گاکیونکہ یہاں شریک خواتین کے ہاتھوں میں جو پلے کارڈز اور بینر ز آویزاں تھے ان پر بے شمری و بے حیائی پر مبنی ایسے نعرے درج کئے گئے تھے کہ جنہیں زباں بیان کرنے سے قاصر ہے۔

عورت آزادی مارچ کے نعروں سے مقاصد واضح ہو چکے ہیں کہ در اصل ان کا ایجنڈا پاکستان میں بے حیائی اور فحاشی کا کلچر عام کرنا ہے۔گذشتہ برس بھی اس طرح کے بے ہودہ اور فرسودہ نعروں کا استعمال کیا گیا تھا تاہم اس برس بات حد سے آگے نکل چکی ہے اور صورتحال یہاں تک آن پہنچی ہے کہ خواتین نے ہی اس خواتین مارچ کو مسترد کر دیا ہے اور اس وقت سوشل میڈیا پر خواتین کی بہت بڑی تعداد اس عورت آزادی مارچ یا ننگ مارچ پر شدید تنقید کر رہی ہیں کیونکہ کوئی بھی باعزت اور غیرت مند عورت اس طرح کی توہین کو برداشت نہیں کر سکتی ۔


آخر مغرب کو کیا ضرورت پیش آئی ہے کہ انہوں نے عورت کی آزادی کا نعرہ بلند کیا اور دنیا کے غریب اور پسماندہ ممالک کی عورتوں کو اس کے جھانسہ میں لے کر انہیں اس قدر ورغلایا ہے کہ اب یہ خواتین اپنی آزادی کے نام پر بے حیائی کے کلچر کو عام کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔مغرب اور استعمار گر قوتیں ہمیشہ سے تیسری دنیا کے ممالک کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں رہی ہیں اور اس کام کے لئے انہوں نے جنگوں سمیت نت نئے ہتھکنڈوں کا استعمال کیا ہے جس سے تاریخ بھری پڑی ہے۔

اب جدید دنیا میں انہوں نے سوشل میڈیا ٹیکنالوجی کو اس کام کے لئے ایک مشن کے طور پر استعمال کیا ہے ۔
بہر حال مغرب کا آزادئ نسواں کا یہ نعرہ جہاں مشرق کے دیگر ممالک میں پھیلا ہے وہاں اس نے مسلمان آبادی والے ممالک میں براہ راست اسلام کی خواتین سے متعلق حقوق اور فکر کو بھی حملہ کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ دراصل مغربی استعماری ممالک کا بنیادی ہدف بھی تھا۔

آخر یہ مغرب کی بتائی ہوئی آزادی کس طرح کی آزادی ہے ؟ کیا مغرب کی طرح جس طرح عورت کا استحصال کیا جاتا ہے کیا اسی طرح کی آزادی پاکستان میں بھی مانگی جا رہی ہے ؟ کیا پاکستانی معاشرے کی عورت یہی چاہتی ہے کہ جس طرح مغرب میں عورت کو جنسی ہوس اور بھوک کے لئے استعمال کیا جا رہاہے اسی طرح کی آزادی یہاں بھی ہونا چاہئیے ؟ کیا پاکستانی معاشرے کی عورت واقعی یہی چاہتی ہے کہ مغرب و یورپ کی طرح پیدا ہونے والی اولادیں جن کو اپنے حسب نسب کی شناخت نہیں ہوتی اسی طرح کی اولادیں یہاں بھی آزادی کے نام پر پیدا ہوں ؟ یا یہ کہ جس طرح مغربی او ر یورپی ممالک نے عورت کو سرمایہ دارانہ نظام کی تقویت اور ترقی کے لئے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا ہے اور اس کام کے لئے وہاں کی عورت کو جو کچھ کرنا پڑے وہ اس کو ننگ و عار نہیں سمجھتی تو کیاپاکستان مین بسنے والی خواتین بھی اسی طرح ایک آلہ کار بن کر استعمال ہونے کو ترجیح دیں گی؟۔

میرا اپنا ذاتی خیال یہی ہے کہ پاکستان جیسے معاشرے کی عورت اس طرح کی آزادی لینے سے بہت خود کو اس سے دور رکھنا ہی بہت عافیت جانے گی ۔لیکن کیا کریں کہ کچھ مغرب زدہ پاکستانی خواتین نے مغرب اور یورہپ کے ناپاک عزائم کو بڑھاوا دینے کے لئے آزادی نسواں کا نعرہ لگا کر فحاشی اور بے حیائی کو عام کرنے کا بیڑہ اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھا ہے اور اس طرح کی بے حیاء خواتین کو ان کی اپنی کلاس میں ماڈرن یا پھر آزاد خیال تصور کیا جاتا ہے ۔


حالانکہ اگر یہی پاکستانی معاشرے کی مسلمان عورت اسلام کی بنیادی تعلیمات کو مطالعہ کرے اور اس کے بارے میں ادراک و فہم حاصل کرے تو اس کو اندازہ ہو گا کہ دنیا میں اسلام کے علاوہ کوئی ایسی فکر یا سوچ موجود ہی نہیں ہے کہ جس نے سب سے زیادہ حقوق خواتین کے لئے دئیے ہیں، شاید آج کی مغرب زدہ پاکستانی عورت یہ بھول چکی ہے کہ یہ اسلام ہی تھاکہ جب آیا تو بچیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچایا ورنہ زمانہ جاہلیت میں اور مغرب کے افکار آزادئ نسواں میں کوئی فرق نہ تھا۔

اسلام نے خواتین کے حقوق اور عظمت کو اجاگر کیا ہے لیکن آج کی مغرب زدہ عورتیں اپنی عزت کو خود چند نعروں کے عوض کھلے بازاروں میں تاراج کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔اسلامی تعلیمات نے عورت کو معاشرے کا عظیم فرد قرار دیا ہے جبکہ مغرب عورت کو پست ترین کردار کے طور پر پیش کر رہا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ چند مغرب زدہ خواتین مغرب کے اس بہلاوے میں اپنی عظمت کو تاراج کر رہی ہیں۔

اسلامی تعلیمات میں معاشروں کی پرورش کی ذمہ داری عورت کے کاندھوں پر ہے اور کہا جاتا ہے کہ عورت کی آغوش میں ہی اصل معاشرہ ترویج پاتا ہے اب اگر یہی عورت مغرب کے آزادی نسواں کے نعرے کا شکار ہو کر ننگ و بے حیائی کو پروان چڑھائے گی تو پھر پاکستانی معاشرہ میں پروان چڑھنے والی نئی نسلوں کا کیا ہو گا؟دنیا میں کئی ایک انقلاب آئے جن میں سے اسلامی دنیا میں آنے والا انقلاب ایران میں آیا جس کے بارے میں اس انقلاب کے بانی امام خمینی نے کسی صحافی کو سوال کے جواب میں کہا تھا کہ میری فوج ماؤں کی گو دمیں ہے ۔

کیونکہ آپ جانتے تھے کہ عورت کی آغوش ہی ایک اچھے اور یا پھر برے انسان کو پروان چڑھا سکتی ہے۔اسلامی تعلیمات کہتی ہیں کہ عورت کی ذمہ داری مرد پر ہے اور مرد کا کام ہے کہ وہ محنت ومشقت کرے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے رزق کی تلاش میں محنت کرے جبکہ ایک عورت بھی گھر کی چار دیواری اور چادر کا تقدس رکھتے ہوئے گھر میں مشقت کرتی ہے یعنی وہ گھر کے کام کاج سمیت معاشروں کو اچھے انسان دینے کے لئے تربیت کرتی ہے۔

اب اسلام کی تعلیمات کی رو سے دیکھا جائے تو مرد گھر سے باہر مشقت کرتا ہے تو عورت گھر کے اندر رہ کر مشقت کرتی ہے دونوں کی برابر مشقت ہے اور دونوں کے مشترکہ جدوجہد سے ایک خوبصورت معاشرہ پروان چڑھتا ہے اور عورت کو اپنے تحفظ کا احساس بھی رہتا ہے جبکہ پاکستان میں موجود چند ایک مغرب زدہ عورتیں شاید یہ سمجھ رہی ہیں کہ ننگ مارچ کر کے اور بے حیائی کے نعروں کو پلے کارڈز پر نشر کرکے شاید پاکستان کی یا اپنے گھرانے کی کوئی خدمت کر رہی ہیں تو انہیں جان لینا چاہئیے کہ مستقبل قریب میں ان کو اس بے حیائی اور فحاشی کے پروان چڑھانے کے بھیانک نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Aurat March Column By Sabir Abu Maryam, the column was published on 14 March 2019. Sabir Abu Maryam has written 5 columns on Urdu Point. Read all columns written by Sabir Abu Maryam on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.