عوام کا گناہ اور قصور کیا۔؟

بدھ 27 اکتوبر 2021

Umer Khan Jozvi

عمر خان جوزوی

کپتان کے کھلاڑی اورکارکن کیا ۔؟ان کے تووزیراورمشیربھی سبحان اللہ۔نہ توکارکن اورکھلاڑیوں کے رویے،لہجے،انداز،کرداروگفتارسے یہ لگ رہاہے کہ یہ کسی سیاسی پارٹی اورجماعت کے کارکن یاوزیراعظم عمران خان جیسے کسی کپتان کے کھلاڑی ہوں گے اورنہ ہی مونچھوں کوتاؤونظروں کوکھاؤدینے والے وزیروں اورمشیروں کے خیالات، کمالات،انوارات اوربرکات سے کہیں یہ محسوس ہورہاہے کہ یہ بھی کوئی وزیریامشیرہوں گے۔

معذرت کے ساتھ نہ سیاسی شاگرد ایسے ہوتے ہیں اورنہ ہی ان کے استاد۔معلوم نہیں نئے پاکستان کے یہ سیاسی شاگرداوراستادکس سکول،کس کالج،کس یونیورسٹی اورکس گھرسے واردیانازل ہوئے ہیں۔ہم جس ملک اورجس معاشرے میں رہ رہے ہیں ۔اس کے بارے میں آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک اورمعاشرے میں ایک دونہیں ہزاروں خرابیاں ہیں لیکن اخلاقیات کے معاملے میں کم ازکم اس ملک اورمعاشرے پر انگلی اٹھانے سے پہلے آپ کوسونہیں بلکہ ہزاربارضرورسوچناپڑے گا کیونکہ یہاں بات ہی اخلاق اورشرافت سے شروع ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

یہاں تو ماں کی گودمیں پہلادرس ہی بچے کو اخلاق کادیاجاتاہے مگرمعلوم نہیں وزیراعظم عمران خان کے ہاتھ پربیعت کرنے والے یہ سیاسی پیراور مریدکس ملک ،کس معاشرے اورکس دنیاسے اٹھ کر یہاں آگئے ہیں ۔سیاست میں اختلافات اورحکومت کی غلط پالیسیوں واقدامات پرتنقیدیہ کوئی نئی بات نہیں ۔اختلاف توایک ہی چھت تلے زندگی گزارنے والے بھائیوں،بہنوں اورماں باپ میں بھی ہوتاہے۔

ایساتوکوئی گھر،کوئی دراورزمین کاکوئی ذرہ نہیں کہ جہاں دوبندوں کاآپس میں اختلاف نہ ہو۔سوباتوں میں سوفیصدمتفق ہونے والوں میں بھی ایک نہ ایک بات اورمعاملے پراختلاف ضرورہوتاہے۔پھراچھے کاموں ،مثبت پالیسیوں اوربروقت اقدامات کی تعریف اوربے ایمانی،جھوٹ،فریب،دھوکہ اورمنافقت پرکھل کرتنقیدیہ توجمہوریت کاہی ایک حسن ہے۔جہاں اچھے کاموں کی تعریف اوربرے اقدامات پرتنقیدنہ ہووہ ملک اورمعاشرہ پھرتباہ ہوکررہ جاتاہے۔

لگتاہے کہ تحریک انصاف کے کارکنوں اورکپتان کے کھلاڑیوں نے اس ملک اورمعاشرے کوتباہ کرنے کاکوئی تہیہ یاکوئی پکاعزم کیاہواہے۔ان کی تاریخی حکومت اوربے مثال حکمرانی کے خلاف اگرکوئی بات کی جائے تویہ کاٹنے اورمارنے کودوڑپڑتے ہیں۔اوپرسے ان کے وزیراورمشیربھی ماشاء اللہ سے ایسے ہیں کہ کوئی بھی باشعور،باعقل ،محب وطن اوردرددل رکھنے والاانسان ان کے سیاہ کارناموں اورکرتوتوں پرچپ نہیں بیٹھ سکتا۔

ٰٓایک روٹی کے بعد چینی کے 9دانوں والی بات کوہی دیکھ لیں۔کیاکوئی باشعورشخص اس پرخاموش رہ سکتاہے۔؟یہ اگرروزنئے ڈرامے نہ کرتے۔۔یہ اگرزمین پربیٹھ کرہواوفضاء میں جہازنہ اڑاتے۔توواللہ ہم بھی ان کے پرانے کارنامے بھول جاتے لیکن ان کوتوآئے روزکچھ نہ کچھ نئے کرنے کی ایسی عادت یالت پڑگئی ہے کہ یہ اب روزاگرکچھ نیانہ کریں تویہ زندہ نہیں رہ سکتے۔

ایک توخان کے وزیراورمشیرایسے ہیں ادھر کپتان کاپالابھی ایسے کارکنوں اورکھلاڑیوں سے پڑاہے کہ الامان والحفیظ۔ہم نے اس ملک میں سیاسی کارکنوں کوبہت قریب سے دیکھاہے لیکن ایسے کارکن ہم نے آج تک نہیں دیکھے ہیں۔یہ تونایاب باالکل ہی کسی نایاب نسل وقسم کے لگتے ہیں۔ان کے وزیراورمشیرچاہے کچھ بھی کرلیں یاکچھ بھی کہیں ۔یہ ان کادفاع کرنانہ صرف اپنافرض بلکہ ایک قسم کاجہادبھی سمجھتے ہیں۔

پھراپنے نمونانماوزیروں اورمشیروں کے دفاع میں دوسروں کی ماؤں ،بہنوں اوربیٹیوں کوطرح طرح کی گالیوں اورالقابات سے نوازناتوان کے بائیں ہاتھ کاکوئی کھیل ہے۔ان کی یہ تربیت تواس ملک کی نہیں لگتی۔یہاں تودشمنوں کی ماؤں،بہنوں اوربیٹیوں کوبھی عزت سے نوازاجاتاہے۔شائداخلاقیات کایہ سبق انہوں نے کسی سیاسی کم نسل سے پڑھااورسیکھاہو ورنہ نسلی اورخاندانی لوگ تو سیاست میں بھی اپنے کارکنوں کواس طرح کے اسباق نہیں پڑھایاکرتے۔

تین سال سے وزیر،مشیراپنی کوتاہیوں اورگناہوں کے سبب عوام کومہنگائی،غربت،بیروزگاری ،بھوک وافلاس سے ماررہے ہیں اورکارکن ان غریبوں کو گالیوں سے نوازرہے ہیں۔بڑے عجیب لوگ اورنایاب مخلوق ہے یہ۔لوگوں کوماربھی رہے ہیں اوررونے بھی نہیں دے رہے۔ان کے ہاں فارمولوں سے ہٹ کرعوامی مسائل کااورکوئی شافی حل نہیں۔مہنگائی کے توڑکے لئے بھی یہ چینی کے 9دانوں اورروٹی کے9نوالوں کاایک فارمولہ مارکیٹ میں لانچ کرچکے ہیں۔

انہی کے ایک صاحب فرماتے ہیں کہ پہلے اگرچائے میں چینی سودانے ڈالے جاتے تھے تو اب اس میں 9دانے کم کردیئے جائیں۔روٹی کے اگرسونوالے کھائے جاتے تھے تواب 9نوالے کم کھائے جائیں۔اسی طرح ان کے ایک وزیرصاحب نے پہلے فرمایاتھاکہ ملک میں اگرمہنگائی ہے تولوگ دوکی بجائے ایک روٹی کھائیں۔کچھ سمجھ نہیں آرہاکہ تحریک انصاف کے یہ وزیر،مشیراورکارکن اس ملک کوکس طرف لیکرجارہے ہیں۔

تین سال سے اس ملک میں حکومت ان کی ہے لیکن آج بھی انگران کے اپنے ہاتھوں سے کچھ براہوجائے توذمہ داری یہ نوازشریف اورزرداری پرڈال دیتے ہیں۔ملک میں مہنگائی،غربت اوربیروزگاری کایہ طوفان نوازشریف اورزرداری کی وجہ سے نہیں بلکہ انہی کے گناہوں کے سبب آیاہے۔پچھلے تین سال سے ملک کوخالہ جی کاگھرسمجھ کربجلی ،گیس کے بھاری بلوں اورآٹا،چینی،گھی ،ادویات اورپٹرول مہنگاکرنے کی وجہ سے دونوں ہاتھوں سے یہ لوٹ لے رہے ہیں اورمہنگائی کے ذمہ دارنوازشریف اورزرداری ہیں۔

یہ عجیب منطق ہے۔بے شرمی اورہٹ دھرمی کی بھی آخرکوئی حدہوتی ہے۔آج بھی اگرنوازشریف اورزرداری ہی ملک کے تمام مسائل کے ذمہ دارہیں توپھریہ کس مرض کی دواء اورکس نام کے حکمران ہیں۔؟انہیں عوام نے ووٹ انڈوں سے بچے نکالنے یاکٹے اورمرغیاں پالنے کے لئے تونہیں دیئے تھے۔یہ تین سال سے کوئی کام اورکاج کرنے کی بجائے عوام کومہنگائی،غربت اوربیروزگاری سے بچنے کے یہ جومفت مشورے دے رہے ہیں یہ پہلے ان مشوروں پرخودعمل کیوں نہیں کرتے۔

؟عوام کودوکی بجائے ایک روٹی کھانے کالیکچردینے والے پروفیسرصاحب نے کبھی خوددوکی جگہ ایک روٹی کھائی ہے۔؟اب یہ جومونچھوں والے صاحب قوم کو چینی کے 9دانوں اورروٹی کے 9نوالوں کے فوائدبتارہے ہیں کیااس صاحب نے اس فارمولے پرپہلے خودعمل یاکوئی تجربہ کیاہے۔؟یہ خودتودوکی بجائے چاراورپانچ روٹیاں پھاڑیں۔چینی کے سودانوں کی جگہ پانچ سودانے ڈالیں اورروٹی کے سونوالوں کے مقابلے میں ایک ایک وقت میں چار چارسونوالے اپنے حلق میں انڈیلیں اورپھرعوام سے کہیں کہ وہ مہنگائی کوختم یاکم کرنے کے لئے کچھ کریں ۔

افسوس ہے ایسے حکمرانوں پر۔ان کوتوحکمران کہنابھی لفظ حکمران کی توہین ہے۔کیاحکمران ایسے ہوتے ہیں۔؟قومی خزانے سے بھاری تنخواہیں اورمراعات یہ لیں۔ہروقت شاہی پروٹوکول میں یہ گھومیں پھریں۔ایک ایک وقت میں درجنوں وسینکڑوں ڈشزکے کھانے یہ کھائیں۔70سال سے سیاست کے ذریعے تجوریوں پرتجوریاں یہ بھریں۔حکومت میں ہوں یااپوزیشن میں ۔آج بھی چار چارسوکنال پربنے فارم ہاؤس اورتاج محلوں میں خراٹے یہ ماریں ۔ملک وقوم کودونوں ہاتھوں سے یہ لوٹیں۔پھرروٹی دوکی بجائے ایک عوام کھائیں۔چائے میں چینی کے نو دانے کم عوام ڈالیں اورروٹی کے نونوالے کم عوام کھائیں۔کیوں۔؟ آخرعوام کاگناہ اور قصور کیا ہے۔؟کیاصرف یہی کہ وہ اس طرح کے عجوبوں اورنمونوں کوحکمران کیوں بناتے ہیں۔؟

ادارہ اردوپوائنٹ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین کالمز :

Your Thoughts and Comments

Urdu Column Awam Ka Gunnah Aur Kasur Kiya Column By Umer Khan Jozvi, the column was published on 27 October 2021. Umer Khan Jozvi has written 465 columns on Urdu Point. Read all columns written by Umer Khan Jozvi on the site, related to politics, social issues and international affairs with in depth analysis and research.