ہیلو فائٹس کو غذا، فیول ،فائبر ،چارے اور ادویات کی فصلوں کے طور پر استعمال کیا جاسکتاہے، ڈاکٹر ہان ڈبلیو کوئرو

مینگرووکی کاشت سے موسمی تغیرات پر قابو پانے میں مددملے گی اوراس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے،ڈاکٹر بینوبوئر

بدھ اپریل 20:19

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) جرمنی کے معروف سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر ہان ڈبلیو کوئرو نے کہا کہ ہیلوفائٹس پانی کے بحران کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوں گے،ہیلو فائٹس کو غذا، فیول ،فائبر ،چارے اور ادویات کی فصلوں کے طور پر استعمال کیا جاسکتاہے۔۔دنیا کے بیشتر ممالک میں ہیلو فائٹس کو کمرشل بنیادوں پر کاشت کیا جارہاہے اور مارکیٹوں میں فروخت کیا جارہاہے۔

شورزدہ زمینوں پر ہیلوفائٹس کی کاشت سے روایتی کاشتکاری پر پڑنے والے دبائو کو کم کیا جاسکتاہے اور اس سے غذائی اور فیول سیکیورٹی کو مستقبل میں یقینی بنایا جاسکتاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلو فائٹ یوٹیلائزیشن کے زیر اہتمام منعقدہ چارروزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان: ’’پائیدارترقی : سبزانقلاب میں ہیلوفائٹس کا کردار‘‘ کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

یونیسکوتھائی لینڈ کے مشیرسائنس ڈاکٹر بینوبوئر نے کہا کہ دنیا میں اقوام متحدہ کے 669 بائیوسفیئرخطے موجود ہیں جن میں سے پاکستان میں محض دو ہیں ،ضرورت اس مر کی ہے کہ پاکستان میں مزید علاقوں کو بائیوسفیئرخطوں کا درجہ دیا جائے۔ بالخصوص ساحلی علاقوں میں ۔مذکورہ ذخیرے عالمی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ،،دنیا بھر میں مصنوعی جزیرے قائم کئے جارہے ہیں جن میں مینگروز کے جنگلات قائم کرکے ان کے ماحول کو بہتر بنایا جاسکتاہے،مینگرووکی کاشت سے موسمی تغیرات پر قابو پانے میں مددملے گی اوراس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

تیرتے ساحلی جنگلات کا تجربہ قطر میں 2012 ء میں کیا جاچکاہے جو کامیاب رہا۔سابق چیئرمین پاکستان سائنس فائونڈیشن پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف نے اپنی تحقیقی کاوشوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ پودوں کی نمکیات برداشت کرنے کی صلاحیت ایک پیچیدہ عمل ہوتاہے۔اس عمل کو سمجھنا بہت اہم ہے کیونکہ اسی کے ذریعے ہم اپنی فصلوں کی نمکیات برداشت کرنے کی صلاحیت میں اضافہ بھی کرسکتے ہیں۔

سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے عمر بٹ نے کہا کہ نمکین پانی کے ذریعے پودوں کی کاشت پائیدارترقی میں اہم کردار اداکرسکتی ہے۔شور زدہ زمینوں پر ہیلو فائٹس پودوں کی بطور چارہ کاشت سے تھر کے صحرا میں رہنے والے غریب باسیوں کی مویشیوں کے لئے چارہ پیداکیاجاسکتاہے جو اس علاقے میں ہونے والی غذائی قلت کو دور کرنے میں اہم کردار اداکرے گا۔

اس سلسلے میں سندھ اینگروکول جامعہ کراچی کے انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلو فائٹ یوٹیلائزیشن کے ساتھ مل کر ایک پروجیکٹ پر کامیابی سے کام کررہی ہے۔باچاخان یونیورسٹی چارسدہ کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ثقلین نقوی نے کہا کہ جدید بائیوانجینئرنگ تکنیکوں کے ذریعے ہیلوفائٹ پودوں کو بائیوفیول کے طور پر استعمال کیا جاسکتاہے جو روایتی پیٹرولیم ایندھن سے ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کے اضافے کوکم کرنے میں اہم کردار اداکرے گااور ساتھ ہی ہیلو فائٹ کا بطور بائیوفیول استعمال پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کو بھی کم کرنے میں مددگار ہوسکتاہے،لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی تکنیکوں پر کام کیا جائے جو بائیوفیول کو مزید ماحول دوست اور معاشی اعتبار سے موافق بناسکیں۔

لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچرکے ڈاکٹر عبدالحمید بلوچ نے جی آئی ایس تکنیکوں کی مدد سے ہیلو فائٹ ڈائیورسٹی کی تدریس پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ جی آئی ایس کی مدد سے ہم بائیوڈائیورسٹی ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔اس موقع پر بہائوالدین ذکریا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمن نے بھی خطاب کیا۔