لاہورہائیکورٹ ، سانحہ ماڈل ٹاون سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت

عوامی تحریک کے وکیل کو دہشتگردی کی عدالت میں پیش کردہ دستاویزات کل تک عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت

جمعرات اپریل 22:46

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاون استغاثہ میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بھائی وزیراعلی پنجاب شہباز شریف سمیت دیگر وزرا اور حکومتی عہدیداروں کو طلب نہ کرنے کے معاملے پر وہ تمام ثبوت مانگ لیے ہیں جن کی بنیاد پر ان کو طلب کرنا ضروری تھا ۔

(جاری ہے)

لاہورہائیکورٹ کے جسٹس قاسم علی خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاون سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کی،عوامی تحریک نے انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے نواز شریف شہباز شریف سمیت بارہ حکومتی شخصیات کو استغاثہ میں طلب نہ کرنے کے احکامات کو لاہور ہائیکورٹ کے روبرو چیلنج کر رکھا ہے،عدالتی حکم پر پروسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ میں فرد جرم عائد ہو چکی ہے اور شہادتیں ریکارڈ کی جا رہی ہے،عدالت نے ادارہ منہاج القرآن کے وکیل سے استفسار کیا کہ سیاست دانوں کے خلاف ایسا کیا مواد تھا جسے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نظر انداز کر کے ان کو طلب نہیں کیا،ادارہ منہاج القرآن کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے آگاہ کیا کہ اس وقت وہ مواد ہمارے پاس نہیں تھا لیکن اب حلات تبدیل ہو گئے ہیں جس پر بنچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ نئے شواہد کا جائزہ کس طرح لیا جا سکتاہے،فل بنچ نے عوامی تحریک کے وکیل کو دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیے جانے والی دستاویزات کل تک عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کر دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔