صوبے میں عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے ازالے اور ضروری سہولیات کی فراہمی سے سفر شروع کیا، پرویز خٹک

تحریک انصاف کارکردگی کے بل بوتے پر 2018 کے انتخابات میں صوبے کی سیاست بدلے گی،وزیراعلی- خیبر پختونخوا

جمعہ اپریل 23:02

صوبے میں عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے ازالے اور ضروری سہولیات کی فراہمی ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کارکردگی کے بل بوتے پر 2018 کے انتخابات میں صوبے کی سیاست بدلے گی اور دوبارہ برسراقتدار ائے گی۔ پی ٹی ائی نے وعدوں اور نعروں کی سیاست کاخاتمہ کرکے اپنے منشور پر عمل کیا۔جس کے نتائج عوام کے سامنے ہیں۔ عوام باشعور ہیں۔ اور چوروں لیٹروںس ہوشیار رہیں گے اور پرانے نعروںسے دھوکہ نہیں کھائیں گے۔

پی پی پی نے عوام سے روٹی کپڑا مکان چھینا، پختونوں کے نام پر سیاست کرنے والوں نے اپنی تجوریاں بھری اور پختونوں کو اللہ کے رحم وکرم پر چھوڑا مولانا فضل الرحمن کی سیاست کا محور اسلام اباد ہے نہ کہ اسلام۔ ہم نے صوبے میں عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے ازالے اور ضروری سہولیات کی فراہمی سے سفر شروع کیا کیونکہ پہلے سے موجود سسٹم خدمات کی فراہمی میں بالکل ناکام ہوچکا تھا اداروں میں سیاسی مداخلت اور مفاد پرستی کسی بھی نظا م کے لئے زہر قاتل سے کم نہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی حکومت نے سب سے پہلے نظام کی شفافیت کیلئے اقدامات کئے اور ریکارڈ قانون سازی کیلئے دیرپا اصلاحات عمل میں لائیں جن پر عوام مطمئن ہیں صوبے میں پی ٹی آئی کی پوزیشن مستحکم ہے ہماری کارکردگی نظر آ رہی ہے اور ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ اقتدار میں آئینگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہائوس پشاور میں سہیل خٹک اور جان مست خٹک، ضلعی کونسلر زاہد حیات، نائب ناظم ناصر علی کی سربراہی میں اکوڑہ خٹک اور یونین کونسل کنڈرکے شمولیتی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اکوڑہ خٹک سے شیراز قریشی، وہاب قریشی؂، شہباز قریشی، اسماعیل قریشی، دانیال قریشی، سید مصدق اور مہران نے مسلم لیگ ن سے مستعفی ہوکر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا جبکہ ویلج کونسل کنڈر سے الیاس خان، ریئس خان، ناصر خان، ابراہیم، نیاز خان، گل باچا، علی اکبر، علی شاہ، فدا محمد، بہرمند اور دیگر نے پاکستان پیپلز پارٹی اور اے این پی سے مستعفی ہوکر پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا وزیراعلیٰ نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کا خیر مقدم کیا اور پی ٹی آئی کی قیادت پر اظہار اعتماد کا شکریہ ادا کیا وزیراعلیٰ نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صوبہ بھر میں عوام کو سہولیات اور حقوق کی فراہمی کیلئے یکساں اقدامات کئے گئے ہیں ہمیں صوبے میں تباہ حال سٹرکچر ملا سکولوں اور ہسپتالوں میں عملہ موجود نہیں تھا اس لئے ہماری حکومت نے بنیادی طور پر نیا سٹرکچر کھڑا کرنے کی بجائے پہلے سے موجود نا کارہ سٹرکچر کو کار آمد بنانے کے عمل کو ترجیح دی، میں آگے دوڑ اور پیچھے چھوڑ والے فیصلے کے خلاف تھا انہوں نے شعبہ صحت کے حوالے سے کہا کہ صحت کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا گیا جو ریکارڈ پر موجود ہے ڈاکٹروں کی تنخواہیں دو لاکھ تک بڑھا دیں پہلے تین ہزار ڈاکٹرز تھے اب آٹھ ہزار ڈاکٹرز موجود ہیں، شعبہ تعلیم میں 28ہزار میں سے 20ہزار پرائمری سکولوں میں ضروری سہولیات دیں، تقریباً 70ہزار اساتذہ میرٹ پر بھرتی کئے، 80ہزار اساتذہ کی تربیت کی، انگلش میڈیم کا اجراء کیا ، ہمارے اقدامات سے تدریسی سہولیات میں بہتری آئی ہے اور انرولمنٹ میں اضافہ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی شرائط پر سیاست نہیں کی اور نہ ہی جھوٹے وعدوں اور دعووں پر یقین رکھتے ہیں بلاامتیاز عوامی خدمت ان کا منشور ہے اقرباء پروری اور ذاتی پسند و ناپسند کی انکے سسٹم اور وژن میں کوئی گنجائش موجود نہیں ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام اپنے بچوں کی مستقبل کی فکر کریں یہ اصل مسئلہ ہے جس پر ماضی میں با لکل توجہ نہیں دی گئی انہوں نے کہا کہ اب ہمیں سمجھ لینا چاہئے اور اپنی ترجیحات بدلنی چاہیںگذشتہ 70 سالوں میں گلی نالی کی تعمیر پر سیاست ہوتی رہی مگر اسکے باوجود نہ گلیاں بنی اور نہ نالیاں، بنیادی وجہ کرپٹ اور ناکارہ سسٹم تھا سیاستدانوں نے غریب کو ووٹ کی حد تک استعمال کیا اور اسے درپیش مسائل کی فکر نہیں کی نتیجہ یہ نکلا کہ آج جب دنیا ترقی کی بلندیوں کو چھو رہی ہے اور ہم ابھی تک زندگی کی بنیادی سہولیات بھی شہریوں کو نہیں دے سکے یہی وہ بنیادی محرک ہے جس نے تحریک انصاف کو نظام کی تبدیلی کیلئے جدوجہد کرنے پر آمادہ کیا اور نوجوانوں نے عمران خان کی اس سوچ اور وژن کو تقویت دی پرویز خٹک نے کہا کہ اسی سوچ کے تحت ان کی حکومت نے صوبے میں قابل عمل سسٹم کی دیرپا بنیادیں رکھ دی ہیں ہمیں ترقیافتہ دنیا میں جانے کیلئے بہت سفر طے کرنا ہے جس کیلئے تبدیلی کا تسلسل ناگزیر ہے۔