مقبوضہ کشمیر ،ْ بھارتی فوجیوں نے سرینگر میں ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا

قابض انتظامیہ نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کو پریس کانفرنس سے روکنے کے لیے نظربندکردیا

ہفتہ مئی 12:05

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 مئی2018ء) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں گزشتہ روز ہفتہ کو سرینگر میں ایک کشمیری نوجوان کو شہید کردیا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوان کو سرینگر کے علاقے چھتہ بل میں محاصرے اور تلاشی کی ایک پرتشدد کارروائی کے دوران شہید کیا۔ اس سے پہلے بھارتی فوج کا ایک اہلکار اسی علاقے میں ایک حملے میں زخمی ہوا تھا۔

دریں اثناء چھتہ بل اور اس کے مضافات میں لوگ زبردست احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور احتجاجی مظاہرین اور بھارتی فورسز کے اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ بھارتی فوج اور پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کررہی ہیں ۔ قابض انتظامیہ نے لوگوں کو چھتہ بل میں صورتحال کے حوالے سے معلومات کا تبادلہ کرنے سے روکنے کیلئے سرینگر میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی ہے۔

(جاری ہے)

ادھرقابض انتظامیہ نے سینئر حریت رہنمائوں سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کو پریس کانفرنس سے خطاب کرنے سے روکنے کیلئے نظر بند کردیا ہے۔ بھارتی پولیس نے محمد یاسین ملک کے گھر پر چھاپہ مارکر انہیںگرفتار کرکے کوٹھی باغ پولیس سٹیشن منتقل کردیا ہے۔ قابض انتظامیہ نے میرواعظ عمر فاروق کو گھر میں نظربند کردیا جبکہ سید علی گیلانی پہلے ہی گھر میں نظر بند ہیں۔ آزادی پسند قیادت کوسرینگر کے ایک ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرنا تھا جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشتگردی کے پیش نظر تحریک آزادی کو آگے بڑھانے کے حوالے سے لائحہ عمل کا اعلان کرنا تھا۔